جہاز ڈوب رہا ہے!

مرزا غالب نے کہا تھا
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
یہ شعر ہمارے ملک کے حالات کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ نام نہاد آزادی کے بعد سے اب تک شاید ہی کوئی دن اس ملک کی عوام کے لئے کوئی خوشی کی نوید لے کر آیا ہو۔ ہر دن ایک نیا وبال، نئی پریشانی اور پڑھنے کو تازہ نوحہ موجود رہتا ہے۔
اس دفعہ ایک خاتون پچیس فروری کو لاہور کی ایک مارکیٹ میں دیکھی گئیں۔ خاتون نے کویتی کمپنی کا ایک لباس پہنا ہوا تھا جس پر عربی حروف لکھے تھے جن کا مطلب یا مفہوم ”زندگی خوبصورت ہے“ تھا۔ لیکن کسی کو معنی یا مفہوم سے کیا مطلب، لباس پر عربی دیکھ کر ایک ہجوم اکٹھا ہوا۔ گستاخی کا نعرہ لگایا گیا۔ سامنے ہی حلوائی کی دکان تھی جس کی کڑھائی میں جلتا تیل تھا۔ ایک مولوی نے نعرہ لگایا میں اسے گولی مار دوں گا۔ کسی نے قمیض اتارنے کی فرمائش کی۔
اگر خاتون پولیس افسر سیدہ شہر بانو نقوی موقع پر نہیں پہنچتی اور بہادری سے خاتون کو لے کر وہاں سے نہیں نکلتیں تو جلتی ہوئی کڑھائی کا تیل حاضر تھا۔ وہی ہونا تھا جو سری لنکن باشندے کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے بعد خاتون کو دو مولویوں کے درمیان بٹھا کر معافی منگوائی گئی۔ ہم کب تک اس مذہبی جنون کا شکار ہوتے رہیں گے؟ معافی تو ان مولویوں کو مانگنی چاہیے تھی اس خاتون سے جو انتہائی کرب کے حالات سے گزری۔ حکومت کو ان مذہبی دہشتگردوں اور اس ناسور کی کوئی پرواہ نہیں۔
ان کا ووٹ بینک ہے اور ہر سیاسی لیڈر ان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتا ہے۔ مذہب تو اس ملک کا ایک مسئلہ ہے۔ کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں۔ سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر ہم ایک ناکام قوم ہیں۔ پہلے امریکہ سے جنگ کے ڈالر آ جاتے تھے تو کمپنی بہادر چلتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ ذات پات، فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانیات میں گھرے ہوئے لوگ اور قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں۔ وطن عزیز کی ٹاپ بیوروکریسی، ججز، فوجی افسران، کاروباری حضرات اور سیاست داں امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ترکی، مالٹا، قبرص اور دیگر یورپی ملکوں کی شہریت یا مستقل رہائشی ویزا حاصل کر چکے ہیں۔ ساری دنیا میں ہم رسوا ہیں۔ ہمارے ائرپورٹس، ٹیلی کام کا نظام اور بندرگاہوں کا انتظام دوسرے ملک سنبھال چکے ہیں یا گروی رکھے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئرز اور دیگر شعبوں سے وابستہ اعلی تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں یا اپنی امیگریشن فائل کر رہے ہیں۔
الیکشن کے نتائج نے اور مہر ثبت کر دی ہے کہ جہاز ڈوب رہا ہے۔ مراد علی شاہ تیسری مرتبہ وزیر اعلی بن کر سندھ اور کراچی کو موہنجوداڑو بنانے کا عزم کر چکے ہیں۔
وطن عزیز میں ابھی بھی ووٹ برادری کے نام پر پڑتے ہیں۔ بریانی کی پلیٹ اور قیمہ نان بھی دے کر ووٹ خریدا جا سکتا ہے۔ تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس جاگیرداروں کی کنیز ہے۔ غریب کسانوں اور ملازمین کو دھمکا اور ڈرا کر ووٹ حاصل کرنا کون سا بڑا کام ہے۔ پھر بندوق والے بھی پانچ بجے کے بعد اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ ایسے میں کیا الیکشن، کون سا وزیراعظم اور کیا ترقی۔
مجھے ان الیکشن کے بعد افلاطون اور بعد میں اس کے شاگرد سقراط کا سوال یاد آ رہا ہے جو اس نے یونان میں اٹھایا تھا۔ سقراط نے پوچھا تھا کہ اگر ہمیں جہاز چلانے کے لئے کپتان کا انتخاب کرنا ہے تو کیا ہم ساری عوام کی رائے لیں گے یا اس کپتان کا انتخاب اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہر افراد پر چھوڑ دیں گے؟
افلاطون اور سقراط کے اس نظریے پر بحث کی گنجائش ہے لیکن دونوں فلسفی تعلیم، شعور اور مہارت کو مقدم جانتے ہیں۔ ہمارے یہاں یہ تینوں چیزیں ناپید ہیں۔ میرٹ کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے۔ اگر کچھ تعلیم یافتہ اور اپنے میدان میں ماہر افراد بچ گئے تھے، وہ بھی کوٹہ سسٹم اور اقربا پروری کی نذر ہو گئے ہیں۔ ملک چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راہ لوگوں کو نظر نہیں آ رہی۔ اوپر سے یہ مذہبی تنگ نظری، نفرت اور عدم برداشت۔ اس دفعہ تو سیدہ شہر بانو نقوی نے خاتون کو بچا لیا لیکن کب تک؟ کوئی ہے جو ان جنونی مذہبی دہشتگردوں کو لگام دے۔ کسی عرب شیخ نے مشتاق احمد یوسفی سے کہا ”یوسفی صاحب، مسلمان تو ہم بھی ہیں لیکن آپ لوگ تو کلمہ پڑھ کر باولے ہی ہو گئے ہیں“ ۔

