مستقبل کا شہر

اگر یہ سوچا جائے کہ دنیا کے قدیم شہروں کی تو اپنی ایک الگ اہمیت ہے ہی لیکن دنیا کے جدید اور مستقبل کے شہر کیسے ہوں گے اور ان میں آج کے شہروں کے مقابلے میں کیا فرق ہو گا تو یہ بہت دلچسپ گفتگو ہو گی۔ مستقبل کے شہروں میں جدید ٹیکنالوجیز، قابل تجدید توانائی کے ذرائع اور موثر نقل و حمل کے نظام شامل ہوں گے۔ یہ سیلف ڈرائیونگ کاروں، توانائی کی بچت کرنے والی عمارتوں اور باہم مربوط نیٹ ورکس کے ایک ایسے تصور پر مبنی ہیں جو ہماری زندگیوں کو آسان اور مختلف بنا دیں گے۔ یہ کم سے کم ماحولیاتی اثرات کے حامل ایسے رہائشی علاقے ہوں گے جہاں لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔ یہ ایک دلچسپ سوچ ہے کہ ہماری رہائشی شہری زندگی کیا سے کیا بن سکتی ہے۔
بیجنگ کے جنوب مغرب میں تقریباً 100 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ایسا شہر آباد ہو رہا ہے جسے دنیا مستقبل کے شہر کے نام سے جانتی ہے۔ ماحولیات کے بڑھتے ہوئے عالمی مسائل اور آبادی سمیت مستقبل کی تیکنیکی رہائشی اور کاروباری سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے چین کے دارالحکومت کے نزدیک اس شہر کی تعمیر کو چین میں ایک دلچسپ نیا ترقیاتی زون کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ اس شہر کا نام شیونگ آن نیو ایریا ہے۔ یہ منصوبہ ایک ایسا اقتصادی زون ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی اور جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔
اس علاقے کی تعمیر کا مقصد یہ تصور ہے کہ اسے ٹیکنالوجی، مالیات اور ثقافت کا مرکز بنایا جائے۔ اس علاقے کی تعمیر کا آغاز اپریل 2017 میں کیا گیا تھا۔ اپنے آغاز سے ہی اس منصوبے نے دنیا کی توجہ حاصل کی اور بے پناہ سرمایہ کاری کو راغب کیا۔ چین کی مرکزی حکومت کے پاس اس اس علاقے کے لئے بڑے منصوبے ہیں، جس کا مقصد ایک جدید، پائیدار اور اختراعی خطے کی تعمیر ہے۔
شیونگ آن نیو ایریا کے بارے میں کئی خاص چیزیں ہیں۔ سب سے خاص بات اس کی پائیدار ترقی اور جدت طرازی پر توجہ ہے۔ یہ علاقہ مستقبل کے اسمارٹ سٹیز کے لئے ایک ماڈل کے طور پر بھی دیکھا جائے گا جو ہر طرح سے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور شہری سرگرمیوں میں مکمل طور پر ماحول دوست طریقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسٹریٹجکلی یہ بیجنگ کے قریب واقع ہے، جو وسائل اور مواقعوں تک آسان رسائی دیتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں سبزہ، ثقافتی مقامات اور ایک متحرک کاروباری ماحول کا ہونا شامل ہے جس اس کی دلچسپی کو بڑھاتا ہے اور مستقبل پر مبنی شہری منصوبہ بندی کے لئے چین کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
20.9 بلین یوآن ( 2.99 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کے ساتھ، اس سائٹ کا کل تعمیراتی علاقہ 1.6 ملین مربع میٹر ہے، جس میں مختلف تعمیراتی یونٹوں، جیسے ریل، دفتری عمارتیں اور ہوٹلز شامل ہیں۔ نقل و حمل کے ایک اہم مرکز کے طور پر، کمپلیکس چار مختلف ریلوں پر مشتمل ہے، جن میں ایک تیز رفتار ریلوے لائن، ایک آر 1 ٹرمینل، اور دو ذیلی لائنوں کے ساتھ ساتھ مختلف عمارتیں شامل ہیں، جو کمپلیکس کو دفاتر، ہوٹلوں، اپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ ریل ٹرانزٹ اور ہوا بازی کی خدمات کے ساتھ ایک خطے میں تبدیل کرتی ہیں۔
انٹر سٹی ریلوے اسٹیشن اور ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز، بہت سے دیگر بڑے منصوبوں کے علاوہ ہیں جو ابھی زیر تعمیر ہیں اور کئی منصوبے ایسے ہیں جو مکمل ہوچکے ہیں۔ بیجنگ اور شیونگ آن نیو ایریا کو جوڑنے والے ریلوے کے ساتھ واقع، انٹرسٹی ریلوے سیکشن کو باضابطہ طور پر 17 دسمبر، 2020 کو آپریشنل کر دیا گیا تھا۔ فضائی تصویر سے یہ ایک پانی کے قطرے کی شکل جیسا دکھتا ہے۔ یہ اس وقت ایشیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن ہے، جس کا رقبہ بیجنگ ریلوے اسٹیشن سے چھ گنا بڑا ہے۔
جہاں تک دنیا میں اس طرح کے دیگر شہروں کی تعمیر کی بات کی جائے تو جنوبی کوریا میں سونگڈو انٹرنیشنل بزنس ڈسٹرکٹ اور متحدہ عرب امارات میں مصدر سٹی، دونوں منصوبے پائیدار ترقی کے حامل شہروں کی قابل ذکر مثالیں ہیں۔ ان شعبوں میں ماحول دوست ڈیزائن، سمارٹ ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
شیونگ آن نیو ایریا کی تعمیر کے دنیا پر کئی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ یہ پائیدار شہری ترقی کے لئے ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جا سکے گا اور دوسرے شہروں اور خطوں کو ماحول دوست طریقوں اور جدت طرازی کو ترجیح دینے کی ترغیب دے گا۔ اس سے موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے اور پائیدار ترقی کے فروغ کی عالمی کوششوں میں مدد مل سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع اور دیر پا کامیابی کے اثرات سرحدوں سے باہر دنیا بھر میں مرتب ہونے سے نئے کاروباری مواقع اور شراکت داریاں پیدا ہوں گی۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیونگ آن نیو ایریا کی کامیابی دنیا بھر میں شہری منصوبہ بندی، استحکام اور معاشی ترقی پر مثبت اثر ڈالے گی۔
شیونگ آن نیو ایریا ایک طویل مدتی منصوبہ ہے جو کئی مراحل میں مکمل ہو گا۔ چینی حکومت نے اس علاقے کے لئے پرعزم اہداف مقرر کیے ہیں، لیکن تکمیل کی ٹائم لائن مختلف عوامل پر منحصر ہو سکتی ہے جیسے فنڈنگ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور منصوبے کی مجموعی پیشرفت۔ یہ ایک مسلسل کوشش ہے جو ہمیں آنے والے سالوں میں دکھائے گی کہ انسان کی مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی۔

