جب حسن و جمال بنا عذاب


dr latif javed

کسی نے کیا خوب کہا ہے
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی، بری نظر ڈالی
بچپن میں خواتین کو گدے میں یہ بولی گاتے بھی سنا گیا۔

گورا رنگ نہ کسے نوں رب دیوے، سارا پنڈ ویر پے گیا

یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں انسان کی عملی زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے واقعات ضرور محفوظ ہوں گے کہ جب کسی کا حسن وبال جان بن گیا ہو۔ خواہ وہ حسن چہرے کا ہو، سوچ یا مال کا ہو۔ ایسا ہی ایک واقعہ اک خوبرو دوشیزہ کا ہے۔

وہ انتہائی حسین و جمیل تھی اور نام بھی جمیلہ تھا۔ وہ ایک مزدور کسان کی بیٹی تھی جو ایک وڈیرے کا نوکر تھا اور ایک کچی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ جمیلہ حسین ہونے کے علاوہ بلا کی ذہین بھی تھی۔ وہ بڑی محنت سے تعلیم حاصل کر رہی تھی، تاکہ خاندان کے معاشی حالات بدل سکے۔ جب اس کی عمر سولہویں سال میں داخل ہوئی تو بلوغت کے سائے نے اسے اور زیادہ خوبصورت کر دیا، یہ تو اک فطری عمل تھا۔ وہ ایک مزدور کی بچی ہونے کے ناتے پیدل سکول جایا کرتی تھی جو ذرا فاصلے پر تھا۔

حسن میں لاثانی ہونے کے باعث روزانہ کچھ اوباش نوجوانوں کے فحش فقرے اسے سننا پڑتے۔ وہ دامن لپیٹ کر گزر جاتی اور برداشت کر لیتی۔ ایک کمزور اور غریب کر بھی کیا سکتا ہے۔ بلاشبہ تربیت کے مناسب انتظام سے اٹھتی جوانی کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ منچلے نوجوان جمیلہ کو اکثر یہ معروف لیکن منحوس فلمی ڈائیلاگ بھی سنایا کرتے تھے۔ ”جوشے ہمیں اچھی لگے، اگر وہ شرافت سے نہ ملے تو ہم چھین لیا کرتے ہیں۔“

آخر وہ دن آ ہی گیا کہ سکول سے واپس آتے ہوئے چار اوباش نوجوان جمیلہ کو اغوا کر کے لے گئے اور جاتے ہوئے اس کی سہیلیوں کو دھمکی دے گئے کہ اگر کسی نے ان کی نشاندہی کی تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو گا۔ وہ جانے پہچانے با اثر وڈیروں کے بچے تھے۔ تمام رات انسانیت کی قدریں اور اس معصوم کی عزت لٹتی رہی، نہ زمین پھٹی اور نہ آسمان گرا۔ رات کے پچھلے پہر وہ درندے جمیلہ کو بے ہوشی کی حالت میں اور خون سے لت پت ان کی جھونپڑی کے باہر پھینک کر چلے گئے۔ جب اس کے باپ نے دیکھا کہ وہ زندہ ہے۔ تو مطمئن ہوا کہ چلو جان تو بچی۔ اسی طرح جس طرح سعادت حسن منٹو کے افسانے ”کھول دو “ میں ایک لڑکی کے باپ نے خوشی کا اظہار کیا تھا حالانکہ وہ ماتم کا لمحہ تھا۔ جب اس کی بیٹی نے ”کھول دو “ کے الفاظ پر حرکت کی، جو کہ مردہ سمجھی جاتی تھی۔

جمیلہ کی تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اور گھر پر ہی ٹونوں ٹوٹکوں سے اس کا علاج ہو نے لگا۔ وہ لوگ شکر گزار تھے کہ ان کی بیٹی کی جان بچ گئی۔ ایک ماہ یونہی گزر گیا۔ جمیلہ اب کافی حد تک اپنے ذہن اور جسم پر لگنے والے زخموں پر قابو پا چکی تھی۔

ایک دن ماں دائی ان کے گھر آئی تو اس نے یہ بری خبر سنائی کہ جمیلہ حاملہ ہے اور مشورہ دیا کہ خاموشی سے کسی لیڈی ڈاکٹر سے یہ حمل گرا دیا جائے تاکہ جمیلہ کا مستقبل خراب نہ ہو۔ اگلے دن جمیلہ کا باپ اسے دن بھر لیڈی ڈاکٹروں کے پاس لئے پھرتا رہا۔ کسی نے معذرت کرلی اور کسی نے معاوضہ اتنا زیادہ مانگا جتنا وہ دے نہ سکتا تھا۔ اگلے دن جمیلہ کا باپ اپنے دوستوں سے رقم ادھار مانگتا رہا لیکن ناکامی ہوئی۔ وہ گھر آ کر چارپائی پر لیٹ گیا اور سوچنے لگا کہ وہ اپنی لاڈلی بیٹی کو بدنامی کے داغ سے اور اپنی ذہنی کوفت سے کیونکر جان چھوڑا سکتا ہے؟ غربت اور لاچاری کے مہیب سائے اس کے سر پر سوار تھے۔

بالآخر اس نے ایک تلخ فیصلہ کر لیا۔ رات کے پچھلے پہر وہ اٹھا اور ایک تیز دھار آلے سے پہلے اس پیٹ کو چیر پھاڑ دیا جس میں فطرت کا ایک حسین پھول اور ان کی بدنامی کا سیاہ داغ پرورش پا رہا تھا۔ اس سے فارغ ہو کر وہ اپنی طرف بڑھا اور ایک ماہ سے روتے دھوتے دل کی رگیں کاٹ کر ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔

یقیناً ان کی روحیں آج بھی گلیوں اور بازاروں میں چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہوں گی کہ کوئی بتلائے کہ ہمارا قصور کیا تھا؟ جمیلہ کی خوبروئی عذاب کیوں بنی؟ یہ سوال معاشرہ سے بھی تھا اور فطرت سے بھی۔ عجیب بات ہے کہ قانون انہیں مجرم گردانتا ہے، مذہب انہیں گناہگار ٹھہراتا ہے اور معاشرہ انہیں لا چار قرار دیتا ہے۔ لیکن قانون ہو یا مذہب، معاشرہ ہو یا فطرت، ان کے دکھ کا مداوا کوئی نہ کر سکا۔ قانونی ضابطے اور سماجی قدریں مسلسل خاموش رہیں۔

۔

Facebook Comments HS