آنول ( placenta) کو سمجھیے!


چار مہینے کا حمل ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ آنول نیچے ہے۔ بہت پریشان ہوں۔ بتائیے کیا کروں؟
کچھ نہیں۔ ہمارا جواب۔
کیا مطلب؟
یہ کیا جواب ہوا؟
کچھ نہیں۔ ہماری ڈاکٹر نے تو اتنا ڈرایا ہے۔ ہماری جان پر بنی ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ کچھ نہیں۔
اگر آپ کا شوق ہے کہ ڈر ڈر کر حمل گزارا جائے تو پھر شوق سے۔
اور اگر حمل گزرنے کے باقی ساڑھے پانچ ماہ سکون سے گزارنے ہیں تو پھر خواہ مخواہ کے ہول کیوں؟
لیکن دیکھیے آنول نیچے ہے۔ یہ نارمل تو نہیں۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ لیکن کیا آپ جانتی ہیں کہ نارمل آنول کہاں ہوتی ہے؟
شاید اوپر۔

جی ہاں۔ لیکن بچے دانی تو بڑھتی رہتی ہے۔ بچہ بھی بڑا ہوتا رہتا ہے۔ اپنی جگہ بھی بدلتا ہے۔ کبھی سیدھا، کبھی الٹا۔ تو کیا آنول ویسی کی ویسی رہتی ہے؟

پتہ نہیں۔

تو پتہ کریں۔ گوگل کریں۔ پڑھیں کہ آنول نیچے اور اوپر ہونے کا مطلب کیا ہے اور کس وقت اسے سیریس لینا چاہیے؟

صاحب۔ یہ وہ مکالمہ ہے جو اکثر ہم بولتے ہیں۔ لیکن آج جی چاہا کہ آپ کو تحریر کے ذریعے سمجھا ہی دیں کہ آنول ہوتی کیا ہے اور نیچے اوپر کے کیا معنی ہیں؟

بچہ ٹیوب میں بن کر جب بچے دانی تک پہنچتا ہے تو ماں سے رابطہ قائم کرنے کا ذریعہ ہے آنول، جو نال کے ذریعے ماں کو بچے سے جوڑتی ہے اور وہی خون بچے کے جسم میں گردش کرتا ہے جو ماں کی رگوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے۔ بائی دی وے یہ وہی خون ہے جو ماہواری میں خارج ہوتا ہے۔ آنول بچے دانی کی کسی بھی دیوار سے چپک کر بڑھنا شروع کر دیتی ہے اور یوں ماں اور بچے کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے۔

اگر آنول بچے دانی کے اوپری حصے سے جڑی ہو تو اسے اوپر کہا جائے گا اور اگر یہ بچے دانی کے منہ یا سروکس کے پاس ہوتو اسے نیچے یا low lying placenta کہا جائے گا۔

اہم سوال یہ ہے کہ low lying placenta آہستہ آہستہ اوپر جا سکتا ہے کہ نہیں؟

بچے دانی کی بڑھوتری میں اس بات کا احتمال ہوتا ہے کہ شاید آنول اوپر چلی جائے اور نارمل قصہ ہو جائے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نہ جائے اور low ہی رہے۔ کوئی اس بات کی پیش گوئی سو فیصد بنیادوں نہیں کر سکتا۔ مختلف مفروضوں کی بنیاد پہ اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن ابتدائی تین یا چار مہینوں میں نظر آنے والے low lying placenta میں اوپر جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر آنول low ہی رہے اور اوپر نہ جا سکے تو اٹھائیس ہفتے کے حمل کے بعد اسے placenta previa کہا جاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیے کہ اٹھائیس ہفتے سے پہلے یہ low lying placenta کہلائے گا، placenta previa نہیں۔

Placenta previa کی دو اقسام ہوتی ہیں، میجر اور مائنر لیکن ان کی درست تشخیص کرنے کے لیے ضروری ہے کہ چونتیس ہفتے یا آٹھویں مہینے کے اختتام اور نویں کے شروع میں الٹراساؤنڈ کیا جائے اور آنول کی پوزیشن کا تعین کیا جائے۔ اس وقت جو پوزیشن نظر آئے گی وہ حتمی ہو گی اور اب ہم کہہ سکیں گے کہ یہ آنول کس کیٹیگری میں آ رہی ہے؟

بچے دانی کے منہ یعنی سروکس کو اگر آنول مکمل طور پہ ڈھانپ لے تو placenta previa major کہلائے گا اور اگر سروکس سے کچھ سینٹی میٹر ہٹ کر ہو تو placenta previa minor کہلائے گا۔

اگر placenta previa major ہے تو بچہ سیزیرین سے پیدا ہو گا اور آپریشن بھی کسی ایسے ہسپتال میں کروانا چاہیے جہاں سینئیر گائناکالوجسٹ اور بلڈ بنک کی سہولت موجود ہو۔

اگر مائنر ہو تو کچھ کیسسز میں ویجائنل ڈلیوری کروائی جا سکتی ہے لیکن بہت زیادہ احتیاط اور کیلکیولیشن کے ساتھ جو پاکستان میں زیادہ تر ممکن نہیں۔ اس لیے ہمارا کہنا یہ ہے کہ آنول کا اگر کوئی مسئلہ ہے تو سیف ڈلیوری کا انتخاب کیجیے۔

ڈیلیوری کے وقت خون بہنا ایک ایسی ابتلا ہے جو زیادہ تر عورتوں کی موت کا سبب بنتی ہے۔ ڈلیوری ویجائنل ہو یا سیزیرین اگر بچے دانی سے آنول کی جگہ سے نکلنے والا خون رکنے سے انکار کر دے تو عورت موت کے منہ میں پہنچ جاتی ہے۔

اکیسویں صدی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے طوفان نے ہیلتھ سسٹم کو اس قدر بوسیدہ کر دیا ہے کہ اب وہ مزید آبادی کا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی، آگہی کا فقدان اور ہر ناگہانی کو مقدر کے کھاتے میں ڈال دینا عورت کا نصیب بن چکا ہے۔

گائنی فیمنزم کے مطابق ہر عورت کو اپنی زندگی کے سب فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا تبھی وہ موت سے بچ سکتی ہے۔

Facebook Comments HS