زمین کی بیٹی آفرین قیومی سے کچھ باتیں
پچھلے سال میری ملاقات اپنی دوست کی بیٹی آفرین سے البامہ میں ہوئی جو اپنی زندگی کے ساتھی رسل کے ساتھٹرنٹن، جارجیا سے بطور خاص ہم سے ملنے آئیں۔ دونوں اپنی ساتھ اپنے بیس ایکڑ رقبہ پہ محیط کھیت میں اگائی ڈھیروں سبزیاں بھی ساتھ لائی۔ درختوں سے اتری مختلف رنگوں کی تازہ اور خوش رنگ سبزیوں کی قوس و قزح اس نوجوان جوڑے کے محبت سے کھلے شاداب اور تر و تازہ چہروں کی مانند مجھے بہت بھلی لگی۔
آفرین نے بتایا کہ وہ پیشہ کے اعتبار سے نفسیاتی نرس ہے جبکہ رسل نے مکینیکل انجینئرنگ کی سند لی ہے۔ دو سال قبل تک دونوں ہی جارجیا ریاست میں ملازمت کر رہے تھے۔ آفرین جارجیا اسٹیٹ کے ہسپتال میں پانچ سال تک نفسیاتی امراض کے شعبہ میں بطور نرس کام کرتی رہی تھیں۔ اچھی تنخواہ اور ساری مراعات کے ساتھ، جو امریکہ کے طبقاتی بنیاد پہ قائم گھٹیا میڈیکل نظام کی وجہ سے ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح رسل بھی اچھی تنخواہ پہ ایک کمپنی میں ملازم تھے۔
تو آخر پھر کیا ہوا جو دونوں نوجوانوں نے اپنی مناسب آمدنی اور مراعات یافتہ ملازمتوں پہ لات مار کر یہ فیصلہ کیا کہ اپنی زمین پہ کاشتکاری کر کے سبزیاں اگائی جائیں۔ رسل کا فیصلہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ اس کی رول ماڈلنگ ایسے والدین نے کی جنہوں نے اپنی ملازمتوں کے ساتھ فارغ وقت میں کھیتی باڑی کر کے اپنی زمین پہ من پسند سبزیاں اگائیں۔ رسل کی ماں سوشل ورکر اور باپ نے البامہ اسٹیٹ کے شعبہ جنگلات میں ملازمت کی۔ ویسے بھی امریکی بچوں کو گھر اور اسکولوں میں اپنے فیصلوں پہ اعتماد کرنا اور رسک لینا سکھایا جاتا ہے۔
لیکن آفرین، ایک روایتی پاکستانی گھرانے کی پلی بڑھی لڑکی ہے۔ عموماً پہلی نسل کے ایشین امیگرنٹ گھرانے اپنے بچوں سے ایسے پروفیشن کے متمنی رہتے ہیں کہ جس کی آمدنی پرتعیش گھر اور لائف اسٹائل کی گارنٹی دے۔ لیکن آفرین کا کھیتوں میں رسل کے شانہ بشانہ کاشتکاری کرنا، ٹریکٹر چلانا۔ اپنی فصل کو بازار میں جا کر بیچنا۔ یہ سب مجھے غیر معمولی لگا۔ میرے ذاتی تجربہ میں یہ پہلی پاکستانی نژاد امریکی لڑکی تھی جو مصنوعی زندگی کی آلائش سے پرے نیم برانڈ اشیاء کے شوق سے آزاد پوری محبت اور ایقان کے ساتھ زمین کے اپنا ناتا جوڑے ہوئے تھی۔
آفرین کے پاس نرسنگ کی نوکری کو چھوڑنے اور کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کرنے کے فیصلے کی بہت سی ٹھوس وجوہات تھیں۔
اس نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال میں کام کرتی تھی تو اس کے لیے یہ بات انتہائی تکلیف دہ تھی کہ ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کے ساتھ عملہ کا برتاؤ بہت برا اور ہتک آمیز ہوتا تھا۔ ان کو دیا جانے والا کھانا بالکل بھی صحت بخش نہ ہوتا تھا۔ ہسپتال انہیں ذہنی امراض کی دوائیاں تو ضرور دیتا مگر درحقیقت ان کی جسمانی اور ذہنی صحت سے انہیں کوئی غرض نہیں تھی۔ کھانا اتنا برا ہوتا کہ لوگ اپنے کتوں کو بھی نہ دیں۔ حالانکہ انگزائیٹی، ڈپریشن اسکیزوفرینیا اور مختلف دوسرے ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے خاص کر غذا کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
آفرین نیبتایا کہ وہ روز کچن میں فون کر کے مریضوں کی صحت بخش غذا کے لیے لڑتی تھی۔ اس کے مطابق ہم امریکی جس قسم کی غذا کو بغیر سوچے سمجھے کھا رہے ہیں وہ ہماری صحت کے لیے سم قاتل ہے۔ جو ہم کھاتے ہیں اس کا اثر ہماری ذہنی صحت پہ ہوتا ہے۔ وہ ہسپتال کے مینیو میں تبدیلی کی متمنی تھی۔ لیکن بقول اس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی آسان نہیں۔ ”میرا جی ایسی ملازمت سے اٹھ گیا جہاں کچھ بھی صحیح نہیں ہو رہا تھا۔ لہٰذا ہم دونوں نیمل کر فارمنگ کا فیصلہ کیا۔
رسل پہلے ہی کم رقبے کی زمین پہ فارمنگ کرتا اور بہت خوش رہتا تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کل وقتی فارمنگ کر کے آرگینک فوڈ کھانا اور بیچنا ہے۔ نوکری چھوڑنے سے پہلے ہم نے خاصی تحقیق کی اور پھر بیس ایکڑ زمین خریدی۔ رسل نے وہیں فارم سے متصل ایک کمرے کا شیڈ بنایا جہاں ہم دونوں رہتے ہیں اور بہت خوش ہیں۔ ہم سختی سے اپنے فیصلہ پہ قائم ہیں کہ ہمیں کمرشل فارمنگ سے اجتناب کرنا ہے کہ جس میں مصنوعی کھاد اور کیمیکلز اور پیسٹی سائیڈ اسپرے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ہماری ہر شے ری یوزایبل ہے۔ اور کوئی بھی برانڈڈ نہیں۔ ہم نے اپنے گھر کے کچن میں مردہ درختوں کی تنے سے کا ؤنٹر ٹوپ بنایا ہے۔ ہم دونوں مصنوعی دنیا کی سطحی تفریحات کی آزار سے آزاد ہیں۔ ہماری مصروفیات میں کھیتی باڑی کے علاوہ ہائیکنگ اور طرح طرح کے کھانے پکانا ہے۔ ویسے ہم دونوں کا مشترکہ شوق فارمنگ ہمیں بہت مصروف رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم دونوں کو کتابیں پڑھنے اور یو ٹیوب پہ معلوماتی ویڈیوز دیکھنے کا شوق ہے۔“
رسل اور آفرین موسم کے حساب سے ٹماٹر، بیگن، مرچیں، بھٹا، کھیرا، بھنڈی، گرین بین، بند گوبھی، ادرک پیاز وغیرہ اگاتے اور فارمر مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔ گو وہ اپنے فیصلی اور کام سے مطمئن ہیں مگر آفرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارا آرگینک (نامیاتی) فوڈ ہے جو عام سبزیوں سے مہنگا ہوتا ہے لہٰذا لوگ آسانی سے نہیں خریدتے۔ حالانکہ سستی سبزیوں کے مقابلہ میں یہ سبزیاں جن کی نشو و نما میں سب قدرتی اشیاء استعمال ہوتی ہیں زیادہ صحت بخش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آگہی کی بہت ضرورت ہے۔
آفرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم کو زمین پہ ننگے پاؤں کھڑے ہونے کے فائدے کا اندازہ نہیں کہ جب ہم قدرت سے براہ راست جڑتے ہیں جس کی اپنی طبی افادیت ہوتی ہے۔ فارماسوٹیکل کمپنیاں ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ اس کو بڑے صنعت کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ لیکن ہمیں نہیں پتہ کہ اپنی مٹی میں اگنے والی جڑی بوٹیوں، سبزیوں اور پھلوں میں بہت افادیت ہے۔ دوائیوں سے زیادہ ہمیں صحیح قسم کی غذا کے استعمال پہ زور دینا چاہیے جن میں ہمارے بہت سے ذہنی اور طبی امراض کا علاج مضمر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مریض کے علاج کے لیے صرف ایک نقطہ نظر کے بجائے مجموعی نقطہ نظر (holistic) کے طریقہ علاج کی ضرورت پہ بھی زور دیا۔ آفرین کا ارادہ اس سلسلے میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا ہے، تاکہ وہ اعلیٰ سطح پہ تعلیم حاصل کر کے سماج میں بڑے پیمانے پہ انسانی صحت کی بہتری کا کام کرسکیں۔
آفرین ہے ان نوجوانوں پہ جو اپنے ذاتی فائدہ سے بڑھ کر دوسروں کے فائدے لیے کام کرنے کے متمنی ہیں۔ یقیناً ہمیں آفرین اور رسل پہ فخر ہے۔



