معمار سنان


معمار سنان عثمانی دور کے ایک اہم ترین معمار اور ماہر تعمیرات تھے۔ ان کی بنائی ہوئی عمارتیں آج بھی موجود ہیں اور تاریخی حیثیت کی حامل ہیں۔ ترکیہ میں ان کے نام پہ نہ صرف مختلف ادارے قائم ہیں بلکہ یونیورسٹی بھی موجود ہے۔

معمار سنان اناطولیہ کے ایک عیسائی خاندان میں 15 اپریل 1489 کو پیدا ہوئے۔ وہ 1511 کو عثمانی فوج میں شامل ہوئے اور استنبول آ گئے۔ وہ سلطان سلیم کے تعمیراتی اور انجینئرنگ کے ماہرین کی ٹیم میں شامل تھے۔ 1553 میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے وان جھیل کو عبور کرنے کے لیے ایک پل بنایا۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں ”پاشا“ کا خطاب دیا گیا۔

انہوں نے قسطنطنیہ یعنی استنبول اور دوسرے شہروں میں معروف عمارتیں، مسجدیں اور پل تعمیر کیے جن میں ادرنہ میں سلیمیہ مسجد، استنبول میں رستم پاشا مسجد ہیں۔ انہوں نے دمشق میں بھی مشہور سلیمانیہ مسجد بنائی جو آج بھی شہر کی اہم ترین یادگاروں میں سے ایک ہے۔ صوفیہ میں بھی مشہور عمارتیں اور مسجد بنائی۔ خاص طور پہ ادرنہ کی مسجد سلیمیہ کو انہوں نے اپنے فن تعمیر کا بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ادرنہ میں جب مسجد سلیمیہ کی تعمیر جاری تھی تو انہیں یہ چیلنج دیا گیا کہ آیا صوفیہ سے بڑا مینار وہ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے نہ صرف آیا صوفیہ کے مینار سے بڑا مینار بنایا بلکہ اس سے بھی بہتر بنایا۔ اس وقت ان کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔

معمار سنان نے درج عمارتیں بنوائیں ؛
94 مساجد
57 یونیورسٹیاں
41 غسل خانے
35 دکانیں
22 مزارات
20 کاروان سرائے
17 پبلک کچن
8 پل
7 مدرسے
6 دریا
13 دار الشفاء

معمار سنان کی بنائی ہوئی عمارتیں نہ صرف اپنے زمانے کی جدید ترین فن تعمیر کا بہترین نمونہ قرار دی جاتی ہیں بلکہ یہ آج بھی قائم ہیں اور شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ روشن، ہوادار اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ انھیں دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے اور داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

معمار سنان کا انتقال 1588 میں ہوا۔ انہیں سلیمیہ مسجد ادرنہ کے کمپلیکس میں دفن کیا گیا۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti