جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی


3 نومبر 2007 ء کو صدر مملکت/ چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف نے ایک بار پھر ملک میں آئین کو معطل کر دیا، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، عدلیہ کی حکومتی معاملات میں بے جا مداخلت و دیگر وجوہات کو جواز بنا کر ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، میڈیا چینلز کی نشریات معطل کردی گئیں، ججوں کو نظر بند کر دیا گیا، احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا جانے لگا۔ صدر مملکت کے عہدے کی 5 سالہ آئینی میعاد نومبر 2007 ء میں مکمل ہو رہی تھی، اور اسمبلیوں کی آئینی مدت بھی انہی ایام میں مکمل ہو رہی تھی آئندہ عام انتخابات کے لیے جنوری 2008 ء کا وقت تجویز کیا گیا تھا، ملک میں سیاسی گہما گہمی کا آغاز تھا، بینظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان پس پردہ ڈیل چل رہی تھی جس کے تحت مشرف کو بحیثیت بغیر وردی صدر قبول کیا جانا تھا، بینظیر کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا مثبت اشارہ مل چکا تھا اور وہ اکتوبر میں پاکستان واپس آ رہی تھیں، نواز شریف بھی واپسی کی ایک کوشش ستمبر میں کرچکے تھے مگر چند گھنٹے ائر پورٹ پر رہنے کے بعد انہیں واپس جدہ بھیج دیا گیا۔

نواز شریف اور بینظیر بھٹو مئی 2006 ء میں 1973 ء کے آئین کی اصل شکل میں بحالی، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، مشرف دور کی آئینی ترامیم کو رد کر کے ”میثاق جمہوریت“ نامی معاہدے پر دستخط کرچکے تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے مشرف پر صدارت یا وردی میں سے کسی ایک عہدے کو رکھنے کا دباؤ بھی بڑھ رہا تھا، 18 اکتوبر 2007 ء کو بینظیر وطن واپس پہنچی کراچی میں ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا اور ریلی کی صورت ائر پورٹ سے مزار قائد جلسے کے لیے جا رہی تھیں کہ شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے جس میں سو سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

3 نومبر 2007 ء کی ایمرجنسی کے نفاذ سے چند روز قبل مشرف نے چند روز میں سبکدوش ہونے والی اسمبلیوں سے ایک بار پھر صدارتی انتخاب لڑا، اپوزیشن کے بائیکاٹ و استعفوں کے باوجود بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہو گئے تاہم اس نئی مدت کے لیے ابھی حلف نہ اٹھایا تھا۔ اس وقت گجرات کے چوہدریوں سے متعلق ایک بات مشہور تھی کہ ہم جنرل مشرف کو دس بار وردی سمیت صدر منتخب کروائیں گے۔ ملکی و غیر ملکی دباؤ کے باعث صدر جنرل پرویز مشرف نے وردی اتارنے کا فیصلہ کیا۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے میڈیا کو بتایا کہ 29 نومبر کو صدر مملکت کے عہدے کا حلف لیں گے اور اس سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ یوں نائب چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کی کمان سنبھالی اور مشرف نے سول صدر کی حیثیت سے ایک بار بھر صدر مملکت کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

ایمرجنسی ختم کروانے اور عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلا ء تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں پر مشتمل مختلف اتحاد مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ دسمبر 2000 ء میں مشرف مارشل لاء کے خلاف بنایا جانے والا اتحاد ”تحریک بحالی جمہوریت“ (اے آر ڈی ) اور جولائی 2007 ء میں تشکیل پانے والے مشرف مخالف نیا اتحاد (جن کا بنیادی نظریہ تھا مشرف قبول نہیں وردی یا بغیر وردی ) ”کل جماعتی جمہوری تحریک“ (اے پی ڈی ایم ) اس سلسلے میں پیش پیش تھے۔

اے پی ڈی ایم میں شامل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی تجویز تھی کہ انتخابات 2008 ء کا بائیکاٹ کر دیا جائے تاہم اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ نواز اس تجویز سے متفق نہ تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کسی صورت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی اور وہ پیپلز پارٹی کو تن تنہا انتخابی میدان میں جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ نیب کیسوں اور بالخصوص طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزا کے سبب نواز شریف تا حیات الیکشن لڑنے کے لیے نا اہل ہو گئے اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی بھی مختلف کیسوں کے سبب مسترد ہوئے یوں شریف برادران 2008 ء کی انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئے، تاہم انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ نہ کیا۔

تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ بالآخر 15 دسمبر 2007 ء کو صدر مشرف نے صدارتی حکم سے آئین میں چند ترامیم کے بعد ایمرجنسی ہٹا لی اور آئین بحال کر دیا، جس کے بعد ججوں نے دوبارہ اپنے عہدوں کا حلف لیا۔ برطانیہ، بھارت اور دیگر ممالک نے ایمرجنسی ہٹائے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا، برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے صدر مشرف کو تمام سیاسی جماعتوں کو ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ دینے کی بھی تاکید کی۔ صدر کی آئینی ترامیم کو پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے مسترد کیا، پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ نے ان آئینی ترامیم پر آئندہ پارلیمان میں صدر کے مواخذے کا عندیہ تک دیا۔

شہر اقتدار کا جڑواں شہر راولپنڈی جو اقتدار میں بھی جڑواں تھا اور چند دن پہلے تک باوردی صدر کی چھڑی کا تابع تھا، دو سابق وزرائے اعظم کا مقتل ہونے کے سبب بھی انوکھی حیثیت رکھتا تھا۔ بھٹو کے مقتل سنٹرل جیل سے قریبا دس کلومیٹر کے فاصلے پر مرحوم بھٹو کی صاحبزادی اپنی آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم ہونے کے بعد 27 دسمبر 2007 ء کو سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کے مقتل لیاقت باغ (سابقہ کمپنی باغ) میں جلسے کے لیے آ رہی تھیں مگر کسے خبر تھی۔ ۔ ۔

اس سے پہلے 9 نومبر کو اسی مقام پر بینظیر بھٹو کی ریلی کا انعقاد ایمرجنسی کے نفاذ کے باعث منسوخ کیا جا چکا تھا۔ راولپنڈی جلسے سے قبل بینظیر بھٹو نے پاکستان کے دورے پر آئے افغان صدر حامد کرزئی سے سرینا ہوٹل میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ملاقات کی پھر جلسے کے لیے روانہ ہو گئیں، گزشتہ شب ان سے آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل ندیم تاج نے ملاقات کی اور سیکورٹی رسک سے آگاہ کیا جس پر بینظیر نے ان سے اپنی سیکورٹی میں اضافہ کرنے کا کہا۔

بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان اس دن کی یادداشتوں میں بتاتی ہیں، لیاقت باغ جلسے کے لیے پہنچنے سے پہلے بینظیر بھٹو نے آخری کال سی این این کے سینئر نمائندے اور پروڈیوسر محسن نقوی کو کی جس میں سیاسی و انتخابی صورتحال پر بات چیت ہوئی، محسن نقوی نے بینظیر کو سیکورٹی کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ تقریر کی اور جلسہ گاہ سے روانہ ہونے لگیں، کون جانتا تھا کہ یہ ان کی آخری تقریر ہوگی، دوران جلسہ انہیں اطلاع ملی کہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر نواز شریف کی ریلی پر  فائرنگ ہوئی ہے اور چار افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ (یہ فائرنگ مصطفیٰ نواز کھوکھر کے حامیوں کی جانب سے کی گئی تھی)

Facebook Comments HS