عمران کا آئی ایم ایف کو خط


”گرگ باراں دیدہ“ فارسی محاورہ جس کا مفہوم ہے، وہ بھیڑیا جس نے بارش دیکھی ہو ”بھیڑیے کا بچہ بارش سے بہت ڈرتا ہے، بارش میں بھیگنے کے بعد اس کے دل سے ڈر نکل جاتا ہے اور وہ بہت دلیر ہو جاتا ہے۔

اس کا دوسرا پس منظر یہ ہے کہ سرد موسم میں جب ہرطرف برف ہو اور کھانے کو کچھ نہ ملے تو بھیڑیے گروہ کی شکل میں، ایک دائرہ بنا کر بیٹھتے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے رہتے ہیں۔ جونہی کسی ایک کی آنکھ جھپکتی ہے یا وہ نڈھال ہو کر گرتا ہے تو باقی بھیڑیے اس کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہار آنے تک جاری رہتا ہے۔ جو ایک دو بھیڑیے زندہ بچتے ہیں، انہیں ”گرگ باراں دیدہ“ کہا جاتا ہے۔ اس لیے جب کسی فرد یا ادارے کو ”گرگ باراں دیدہ“ سے تشبیہ دی جائے تو اس کا مطلب بہت تجربہ کار اور گھاگ کے ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف بھی ”گرگ باران دیدہ“ کی طرح ہے جو جانتا ہے کہ کسی بھی شخص کو یا ریاست کو پیسے دینے کا کیا مطلب ہے؟ عمران خان نے اپنے دورحکومت میں مسکین صورت بنا کر آئی ایم ایف سے پیسے لیے اور سستے پٹرول سے انہیں آگ لگا کر وقتی چراغاں کر کے رخصت ہوئے۔ آنے والی حکومت روئی پیٹی کہ پچھلوں کی سزا ہمیں نہ دی جائے، مگر آئی ایم ایف بہرا بنا رہا کیونکہ وہ کسی حکومت کو نہیں بلکہ ریاست پاکستان کو جانتا ہے، جس کے نام پر قرضے لیے گئے۔

لینے والے بھول جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا قرضہ کسی پی ڈی ایم یا پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ ریاست کو ملتا ہے۔ ایک وقت تک دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے فنڈز میں سے ہر سال خدمات بجا لانے کے عوض چند ارب ڈالر ملنے سے پاکستانی معیشت کو سہارا مل جاتا تھا اور امریکہ آئی ایم ایف سے بھی کہہ دیتا تھا کہ ذرا ہاتھ ڈھیلا رکھے۔

آئی ایم ایف میں سب سے زیادہ فنڈنگ، امریکہ ( 16.5 فیصد) کی ہے اور قرض لینے کا کوٹہ بھی سب سے زائد ( 17.75 فیصد ) اسی کاہے۔ امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ووٹ بالترتیب جاپان، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے ہیں۔ تحریک انصاف کے آئی ایم ایف کو خط لکھنے پر اردو کہاوت ”اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی“ یاد آتی ہے۔ اونٹ بظاہر بڑا شریف، اور سیدھا سادا نظر آتا ہے لیکن حقیقتاً اس میں اکڑ، اڑیل پن اور کینہ پروری ہوتی ہے۔ وہ کب، کس وقت، کیا کر دے اس کی پیش گوئی ممکن نہیں ہوتی۔

اونٹ کی طرح تحریک انصاف بھی خود کو ”ملک کا بہی خواہ“ کہتی ہے لیکن کام اس کے برعکس ہے۔ دعوی ہے کہ ہم کوئی امریکہ کے غلام ہیں اور عالم یہ ہے کہ اسی سے ملکی سیاست میں مداخلت کی درخواستیں اور لابنگ ہو رہی ہے۔ اب تو خان جی نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ادارے ملک میں گڈ گورننس ہو تو قرض دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نہ ہو تو آئی ایم ایف قرض نہ دے۔ غیر کے خط کو خان جی چاہیں تو اپنی سیاسی بقا و مفادات کے لیے سائفر بنا لیں۔ چاہیں تو خود خط لکھ کر بیرونی اداروں کو مداخلت کے لیے اکسائیں تاکہ پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہو۔ حالانکہ آئی ایم ایف کا انتخابی عمل سے کیا لینا دینا۔

بہت سی باتیں فوراً سمجھ نہیں آتیں لیکن ایک وقت آتا ہے کہ گزرے واقعات کی کڑیاں ملتی چلی جاتی ہیں اور منظر نامہ واضح ہو نے لگتا ہے۔ مثلاً:

•انتخاب کے بعد اگست 2014 ء کا 126 روزہ دھرنا، جو چینی صدر اور سعودی ولی عہد کے دوروں کی منسوخی کا باعث بنا۔

•سی پیک کا منصوبہ ایک سال تک معرض التوا میں رہا۔

•بجلی و گیس کے بل پھاڑنے اور سول نافرمانی کے عمرانی بیانیے کا خلاصہ تھا کہ اقتدار دو، ورنہ ریاست کے مفادات پر وار کریں گے۔

•اہل وطن کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس نے پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لینے کے باوجود بھی ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

•معاہدہ سے مکرنے پر آئی ایم ایف اگلی قسط دینے کو تیار نہیں تھا، اسے منانے کے لیے اتحادی حکومت کے دانتوں کو پسینہ آ گیا اور عین اس وقت جب اگلی قسط جاری ہونی تھی۔ عمران خان کے حکم پر سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے پنجاب اور پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو (لیک شدہ ٹیلی فونک کال کے مطابق) یہ ہدایات دیں کہ وہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر متنبہ کریں کہ وفاق سے کسی معاہدے کے وہ ذمہ دار نہیں۔ پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور جھگڑا نے تو خط لکھنے کی ہامی بھر لی لیکن پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری نے کہا کہ اس طرح پاکستان کا نقصان ہو جائے گا۔ جو اباً ترین نے کہا کہ نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے، اتحادی حکومت نے ہمارے وزیراعظم کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا ہے۔

•مئی 2022 ء میں خان جی نے کہا کہ چوروں کو حکومت دینے سے بہتر ہے ملک پر ایٹم بم گرا دیں۔

•کے پی کے ایک وزیر نے کہا اگر اقتدار پی ڈی ایم کو ملتا ہے تو پاکستان میں رہنے سے افغانستان جانا بہتر ہے۔ گویا پاکستان ان کے اقتدار کا نام ہے۔ اقتدار نہیں تو پھر کون سا پاکستان؟

• آن ریکارڈ ہے کہ عمران ہماری ریڈ لائن ہیں، انہیں کچھ ہوا تو ہم سارا ملک جلا دیں گے۔
• اقتدار سے علیحدگی پر ، منظم مہم جوئی کی گئی کہ اوورسیز پاکستانی رقوم کی ترسیلات روک دیں۔
•سیلاب آیا تو یہی بیانیہ تھا کہ اوورسیز عطیات نہ دیں۔
• خلاصہ یہ ہے کہ خان جی نے اپنے دورحکومت اور اس کے بعد ”استحکام پاکستان“ کے لیے یہ ”اقدامات“ کیے۔

سوال یہ ہے کہ وطن کی سلامتی پر کسی سیاسی رہنما، کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے کوئی ایسا رہنما گزرا ہے جس نے یوں ملکی سلامتی کے خلاف اقدام کیا ہو۔ بدقسمتی سے وطن عزیز ایسی مسموم ہواؤں کی زد میں ہے جہاں ”حب عمران“ ”حب وطن“ پر غالب آ گیا ہے۔

2024 ء کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف ایک بار پھر ملکی مفادات کی بربادیوں کی نئی داستان رقم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ 23 فروری 2024 کو عمران خاں نے عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو میں کہا ”آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو واپس کون کرے گا؟

ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے 22 فروری 2024 کو کہا ”عمران خاں کا آئی ایم ایف کو خط ایک خوفناک آئیڈیا ہے“ ۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کو زیک نے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط سیاسی معاملہ ہے۔ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت پاکستان کو 1.9 ارب ڈالر جاری ہوں گے۔ ہم پاکستان میں میکرو اکنامک کے لیے نئی حکومت کے ساتھ کام کے منتظر ہیں تاکہ اقتصادی استحکام اور عوام کی خوشحالی یقینی بنائی جائے ”۔

خان جی آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرضہ نہ دینے کا بھی کہہ رہے ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے سے ڈرا کر پاکستانی معیشت کا مزید بیڑہ غرق کرنے کے خواہاں ہیں۔

موجودہ مالی بحران سے نجات کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی ضرورت ہے۔ اختلافات اور سیاست اپنی جگہ ملکی بقا اور معیشت کا تقاضا ہے کہ اسے مل کر سنبھالا جائے مگر خان جی ذات سے آگے دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی بھی پاکستان سے زیادہ مقدم نہیں۔ خود کو پاکستان سے زیادہ اہم سمجھنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں۔ لیڈر تو آتے اور چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی نئے پاکستان کا خواب ہے اور کیا یہی حب الوطنی ہے؟ آئی ایم ایف ”گرگ باراں دیدہ“ ہے اس لیے عمران خان کی یہ سعی، ناتمام رہے گی کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض عمران خان یا شہباز شریف کو نہیں ریاست پاکستان کو دینا ہے۔

اس خط کے اثرات کا جواب آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر انفارمیشن نے بھی دے دیا کہ سیاست ہماری ڈومین نہیں ہے مطلب یہ خط صرف ڈسٹ بن کی نذر ہو گا۔ گویا عمران خان کا عالم یہ ہے :

خود بھی کچھ کم نہیں میں اپنی تباہی کے لیے
دوستوں سے مجھے امداد بھی آ جاتی ہے۔
سیاست دان ہمیشہ کارکردگی سے ہی سیاسی بقا کو دوام بخش سکتے ہیں نہ کہ رنگ برنگے خطوط لکھنے سے۔

Facebook Comments HS