شوگر اور موٹاپا جیسے سنگین مسئلے سے کیسے بچیں
ٹھونس ٹھونس کر پھولتے جا رہے ہیں، پھر کہتے ہیں ہمیں شوگر ہو گئی، ہمیں بلڈ پریشر ہو گیا، ہم سے چلا نہیں جاتا، ہم موٹے ہو گئے ہیں۔
اتنا تو جانور بھی نہیں کھاتا۔ پیٹ ہے کہ کچرا دان۔ یہی ہے صحت کے حوالے سے آج کا سب سے بڑا سوالیہ نشان۔
کھانے کی ہوس ہے کہ مٹتی نہیں ہے اپنی صحت کا خیال بالکل نہیں ہے۔
یہاں اگر کوئی اچھے پیسے کھرے کرنا چاہتا ہے تو وہ ہوٹل کھولے اور کھانے کے نام پر ہر الم غلم بیچنا شروع کرے، چٹورے لوگ چٹخارا لینے پہنچ جائیں گے۔
آپ جو مرضی مکس کرو لوگوں کو تو چسکا چاہیے۔
پرانے زمانے میں نکلی توند کو صحت مندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ موٹے لوگ نکلے پیٹ کی نمائش کرتے تھے۔ دیکھنے والے بڑا رشک کرتے تھے کہ یار بڑا صحت مند ہے پتہ نہیں کیا کھاتا ہے؟
موٹاپے کا شکار لوگوں کو پہلوان کہا جاتا تھا۔
گئے وقتوں میں زیادہ تر وہی لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے تھے جو کام وام کوئی نہیں کرتے تھے۔ اور اناج کا دشمن بنے پھرتے تھے۔ ایسے لوگوں میں بادشاہ، وزیر، امیر، نواب، رئیس، سردار، وڈیرے، خان، چوہدری، افسر، پنڈت، پردھان، نو دولتیے اور دیگر بڑے سماجی حیثیتوں پر فائز لوگ آتے تھے۔
یہ لوگ زیادہ کھانے کی ہوس کے ہاتھوں شدید بیمار ہو کر پڑے رہتے تھے۔ ان کا جسم شوگر، موٹاپے، بلند فشار خون اور طرح طرح کے پیچیدہ امراض کا گڑھ بن جاتا تھا۔ ان موذی امراض کا علاج نہ صرف اس زمانے کی سائنس کے بس سے باہر تھا، بلکہ آج تک یہ امراض لاعلاج سمجھے جاتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ آپ ان میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی حفظ ماتقدم کے طور پر ایسے اقدامات اٹھائیں جو حتی الامکان آپ کو ان امراض سے بچائیں۔
آج کل اپنی صحت کو لے کر گہری سوچ رکھنے والے لوگ موٹا ہونے سے بچنے کے لئے سو جتن کرتے ہیں۔ کھانا کم کھاتے ہیں۔ ابھی بھوک ہوتی ہے کہ ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، اور ڈکار آنے سے پہلے ہی دسترخوان سے ہٹ جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ کہ کھانے کے بعد کئی میل روزانہ پیدل چلنے کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔ اگر روز پیدل چلنا ایک کوفت اور کار دشوار محسوس ہوتا ہے۔ مگر جان ہے تو جہان ہے کے بہ مصداق آپ کو یہ کوفت نہیں لگنی چاہیے۔ بلکہ روزمرہ کی لازمی صحت مند روٹین کے طور ہر اپنانا چاہیے۔
مشاہدہ میں آیا ہے کہ لوگ ذیابیطس ہونے کے بعد اپنے موٹاپے پر توجہ دیتے ہیں۔ اور دبلا ہونے کے جتن کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے کہ اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
یہ بات تو طے ہے کہ اگر لوگ بیمار ہونے سے پہلے پرہیز پر ایمان رکھیں۔ کھانا کم کھانے کو اپنا شعار بنائیں۔ چائے کم پئیں۔ کولڈ ڈرنکس جیسی چیز کو ہاتھ نہ لگائیں۔ مصالحے دار بازاری کھانے ٹچ نہ کریں۔ تو آپ کئی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
آج کل اٹالین پیزا کے نام پر ایک موٹی سی روٹی وائرل ہو گئی ہوئی ہے پکاتے۔ وقت اس روٹی پر روغن زیتون وغیرہ لگا کر پنیر، ٹماٹر، مرچیں، تکے و دیگر مصالحے ٹاپ کیے جاتے ہیں۔ چٹورے لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ برے کولیسٹرول سے بھری یہ روٹی ان کے دل کے لئے کتنی مضر ہے۔
ہمارے یہاں اپنی صحت سے متعلق آگاہی مہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ٹی وی پر ٹاک شوز بڑے چلائے جاتے ہیں جس میں سیاست دان بلند آواز میں ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے نظر آتے ہیں۔
جس ٹاک شو میں پکاریں جتنی زیادہ بلند ہوں گی اتنا ہی اس ٹاک شو کی ریٹنگ اوپر جائے گی اور اینکر کی قیمت بڑھے گی۔
اس کے مقابلہ میں صحت سے متعلق پروگرامز وغیرہ کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کو اپنے قیمتی جسم کے ساتھ کھانے کے معاملے میں کیسے انصاف کرنا ہے۔
اس معاملہ میں شعور و آگہی کی بڑی کمی ہے۔ لیکن ایک ناتواں سا ذریعہ ضرور موجود ہے جو اس وقت لوگوں کو اپنی صحت کے حوالے سے باشعور کرنے میں اپنا حصہ جٹا رہا ہے۔ اور وہ ہے یوٹیوب پر صحت سے متعلق چند چینلز جو اپنی سی کوشش کر کے آپ کو خبردار کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ کھانے پینے میں کیا کیا احتیاطیں لازم ہیں تاکہ آپ مستقبل میں موذی اور لاعلاج مہلک امراض سے بچ سکیں۔
یاد رکھیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور آپ شوگر اور موٹاپے جیسے امراض میں مبتلا ہوجائیں آپ پیدل چلنے اور کم کھانے کو اپنی عادت بنائیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری کرنے کے لئے ضروری ہے کہ رات کو وقت پر سوئیں صبح جلدی اٹھیں۔ بازاری کھانوں سے بچیں۔ جب بھی کھائیں اپنے گھر کا کھانا کھائیں۔ سادہ خوراکیں کھائیں۔ زیادہ گھی، زیادہ نمک اور مصالحے کا استعمال بالکل نہ کریں چینی اور مصنوعی میٹھی اشیاء کا استعمال محدود کریں۔
مرغن کھانے موٹاپے کا سبب بنتے ہیں اور جدید سائنس نے موٹاپے اور شوگر کا گہرا تعلق ثابت کیا ہے۔
ہمارے یہاں چائے اور کولڈ ڈرنکس ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ابھی آپ کسی کے پاس جاکر بیٹھیے ہی ہیں کہ جھٹ سے آپ کو چائے یا ٹھنڈی بوتل آفر کی جائے گی بلکہ پیش کردی جائے گی۔ کچھ کرم فرما تو یہ بھی جاننا گوارا نہیں کرتے کہ آپ اس وقت کچھ لینا پسند کریں گے بھی کہ نہیں۔
آپ کے منع کرنے پر آگے سے کہیں گے کہ یار پی لے کچھ نہیں ہوتا۔ اس طرح اگر آپ اس کے زیادہ اصرار کے آگے ڈھے گئے اور ہار مان کر پی گئے تو ہو سکتا ہے کہ رات ہونے تک آپ کو دس بارہ مرتبہ چائے اور بوتل وغیرہ پینی پڑ جائے۔
ذرا سوچئے کہ اس وقت آپ کے معدہ کا کیا حال ہو گا جب اس کو اس قدر چینی کو ہضم کرنا پڑ جائے گا۔ آپ کا معدہ اور خصوصاً لبلبہ تو اس قدر ایڈڈ شوگر کو برداشت کرتے کرتے بے حال ہو جائے گا۔ بالآخر ایک دن ہار مان کر ناکارہ ہو جائے گا۔ اور آپ ذیابیطس کا مستقل مریض بن جائیں گے۔
جب لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو شوگر کیوں ہو گئی تو وہ اپنی بے احتیاطی اور لائف سٹائل کو بالکل مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ کہہ دیں گے کہ یہ مرض ہمارے بڑوں کو تھا اس لئے ہمیں بھی ہو گیا۔
خدا را ہوش کے ناخن لیں۔ زیادہ تر امراض کا تعلق ہمارے لائف سٹائل کے ساتھ جڑا ہے۔ اگر ہم اپنا طرز زندگی بدلیں گے تو بہت بڑا فرق پڑے گا۔
ہمارے یہاں جہالت پھیلانے میں صدیاں لگی ہیں۔ اب اس جہالت کو دور کرنے دہائیاں تو لگیں گی۔ لوگوں کو باشعور بنانے میں وقت تو لگے گا۔ روشنی ایک دم نہیں ہوگی شب یلدا کاٹنا تو پڑے گا۔
یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایک دوسرے کو مارنے کا سامان کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو بچانے کی طرف توجہ کریں تو آج دنیا رہنے کے لئے قدرے بہتر جگہ ہو جائے۔


