پنکج ادھاس، اور آہستہ کیجیے باتیں


پنکج ادھاس بھی انتقال کر گئے۔ ہمارے بچپن اور لڑکپن کا ایک اور آنکڑہ نہیں رہا۔ نرم، مخمل سی دھیمی آواز کے حامل گلوکار آج ہم میں نہیں رہے۔

پنکج ادھاس سترہ مئی سنہ 1951 کے دن جٹ پور، گجرات (ہندوستان) کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا علاقے کے دیوان صاحب تھے۔ پنکج اپنے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد کیشو بھائی ادھاس ویسے تو سرکاری ملازم تھے مگر ان کو موسیقی سے گہری دلچسپی تھی۔ اسی دوران وہ مشہور ساز ”وینا“ کے ماہر عبدالکریم خان سے ملے اور ان سے ایک ساز ”دلربا“ بجانا سیکھا۔ وہ اکثر اپنے گھر میں یہ ساز بجاتے تھے جس کی وجہ سے ان کے بیٹوں کو بھی موسیقی سے شغف ہو گیا۔

بیٹوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انہیں سنگیت اکیڈمی راج کوٹ میں داخل کروا دیا۔ پنکج ابتدا میں طبلہ بجانے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن پھر استاد غلام قادر خان صاحب سے باقاعدہ کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ بمبئی منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے گوالیار گھرانے کے ایک گلوکار نورنگ نگرپورکر سے موسیقی کی مزید تعلیم لی۔

پنکج کے سب سے بڑے بھائی منہر ادھاس ان سے پہلے باقاعدہ گلوکاری کا آغاز کر چکے تھے جنھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا۔ پنکج نے سب سے پہلے چین ہندوستان جنگ کے دوران ایک عوامی تقریب میں ”اے میرے وطن کے لوگو“ گایا تو سامعین اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں اس زمانے کے پچاس روپے انعام میں دیے گئے۔ ممبئی کے سینٹ ہاؤئیر کالج سے بیچلر آف سائنس کرنے کے بعد وہ گلوکاری پر پوری توجہ دینے لگے۔

بڑے بھائی کی کوششوں سے انہوں نے ایک فلم ”کامنا“ میں گیت ”چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال گایا۔“ اس کی موسیقی اوشا کھنہ نے دی تھی اور بول نقش لائل پوری نے لکھے تھے۔ فلم تو ناکام رہی لیکن پنکج کی گلوکاری کی سب نے تعریف کی۔ اسی کے ساتھ ان کا دھیان غزل گائیکی کی طرف چلا گیا۔ اس کے لیے انہوں نے خصوصی طور پر اردو بھی سیکھی تاکہ غزلوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ جس کے بعد انہوں نے طے کر لیا کہ اب خود کو غزل کے گلوکار کے طور پر منوائیں گے۔

گھر میں روپے پیسے کی کمی نہ تھی تو انہوں نے دس مہینے امریکا اور کینیڈا میں مختلف غزل کی محفلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور زیادہ پراعتماد ہو کر وطن لوٹے۔ سنہ 1980 میں انہوں نے اپنا پہلا غزلوں کا مجموعہ ”آہٹ“ کے نام سے پیش کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کامیابی سے تقویت پا کر انہوں نے مزید غزلوں کے مجموعے ”مکرر“ ، ”ترنم“ محفل ”شمع خانہ“ وغیرہ پیش کیے جن سے پورے ملک میں ان کا نام مقبول ہوا تو بالی ووڈ کے موسیقار و پیش کار ایک مرتبہ پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور سنہ 1986 میں ایک فلم ”نام میں غزل نما گیت“ چٹھی آئی ہے ”گایا جو بہت مقبول ہوا۔ سنہ 1990 میں لتا منگیشکر کے ساتھ“ ماہیا تیری قسم ”گایا جو بہت پسند کیا گیا۔ پھر سنہ 1992 کی فلم“ ساجن ”کے لیے“ جئیں تو جئیں کیسے بن آپ کے ”سرحد کے دونوں جانب بہت ہی مقبول ہوا۔ اسی طرح سنہ 994 1 کی فلم مہرہ کے لیے“ نہ کجرے کی دھار نہ موتیوں کے ہار ”گایا جس نے بہت دھوم مچائی۔

فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی اصل پہچان غزل پر پوری توجہ دی۔ سنہ 1987 میں ”میوزک انڈیا“ نے پہلی دفعہ سی ڈی پر البم جاری کیا تو وہ پنکج کا ”شگفتہ“ تھا۔ وہ مسلسل اپنے غزلوں کے مجموعے پیش کرتے رہے جن کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ انہوں نے سونی ٹی پر ”آداب عرض ہے“ کے نام سے ایک پروگرام میں منصف کے طور پر شرکت کی۔ جس میں غزل سے دلچسپی رکھنے والے نئے گلوکاروں کو موقع دیا جاتا تھا۔

پنکج ادھاس کی غزلوں کے مجموعوں کے نام خالصتاً اردو کے ہوتے تھے اور غزلیں بھی خالص شستہ اردو کے قلب میں ڈھلی ہوتی تھیں

پنکج ادھاس کو ”شرابی گلوکار“ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کیونکہ ان کی اکثر غزلوں میں شراب اور پینے پلانے کا بہت ذکر ہوتا تھا جیسے کہ ”پھر ہاتھ میں شراب ہے،“ ”شراب چیز ہی ایسی ہے کہ چھوڑی نہ جائے، یہ میرے یار کے جیسی ہے“ ، اور ہمارا سب سے پسندیدہ ”پینے والو سنو نہ چھپا کر پیو، کبھی عشق اور شراب کو ملا کر پیو“ لیکن اس کے علاوہ بھی ان کی بہت سی زبردست غزلیں ہیں جیسے کہ ”چھم چھم کر کے کہتے ہیں یہ پائیلیہ کے بول گھوگھٹ کو مت کھول کہ گوری گھونگھٹ ہے انمول“ اور ”اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا“ ۔ ان آخری دو غزلوں کی ویڈیوز بھی بہت عمدہ ہیں۔

ان کے خاندان کی جانب سے پنکج صاحب کے انتقال کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے، گو کہ دروغ بہ گردن سماجی ذرائع ابلاغ سرطان کے سبب ان کا انتقال ہوا ہے۔ اب سرطان جیسے موذی مرض سے زیادہ حفاظتی اقدامات سے بچا نہیں جا سکتا لیکن دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments