پاکستان کی یتیم و یسیر یونیورسٹیاں

مملکت خداداد پاکستان میں معاشی، سیاسی، سماجی، اخلاقی، انتظامی، قانونی اور علمی گراف پاکستان بننے کے بعد سے روبہ زوال ہے۔ دنیا نے گزشتہ نصف دہائی میں ہر حوالے سے ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ انسان کی بود باش، رہن سہن، اور زندگی کا رنگ ڈھنگ ہر جگہ بہتر ہوا ہے۔ یہ ترقی یہ خوشحالی اور بہتری ان ممالک میں تعلیم اور تحقیق کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ تعلیم نے انسان کو مہذب بنایا، اسے درپیش صدیوں کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ان میں مہذب تعلقات اور روابط پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے، بیماریوں اور وباؤں کا علاج دریافت کیا، لیکن بدقسمتی سے ہم نے تعلیم اور تحقیق کو وہ اہمیت اور وقعت نہیں دی جو دنیا کی دیگر اقوام دے رہی ہیں۔
اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ ترقی کر رہے ہیں خودکفیل ہو رہے ہیں، اور ہم ان سے قرضے لے کر گزارا کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے چند برس چھوڑ کر پاکستان کی کسی بھی حکومت نے تعلیم اور تحقیق پر کوئی توجہ نہیں دی، نہ اپنے سالانہ بجٹ میں اس کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کی اور نہ ہی اس کو فلیگ شپ سیکٹر کا درجہ دیا، اس وقت ملک میں سرکاری سطح پر مکمل یونیورسٹیوں کی تعداد 168 ہے۔ ان میں سے کچھ یونیورسٹیاں وفاق کے زیر انتظام اور باقی صوبوں کے زیر انتظام ہیں۔
اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تعلیم کا شعبہ وفاق کی نگرانی میں تھا خصوصاً اعلی تعلیم کا ۔ اس ترمیم کے بعد تعلیم کو صوبائی اختیار میں دے دیا گیا مگر اس ترمیم پر مکمل عمل درآمد تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ باقی کچھ وزارتوں اور محکموں کی طرح اعلی تعلیم بھی اس ترمیم کی وجہ سے شدید زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس ترمیم کے بعد وفاق نے یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ نہیں کیا اور صوبائی حکومتوں نے بھی یونیورسٹیوں کے لیے اپنے بجٹ میں حصہ نہیں رکھا، جبکہ پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ اور کلاس فور اور کلاس تھری بھرتی کرنے کے لیے بغیر کسی سکول میپنگ اور منصوبہ بندی کے دھڑا دھڑ یونیورسٹیاں اور ان یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائے گئے۔ جس سے تعلیمی معیار بدترین حد تک گر گیا اور رواں اخراجات کے لیے کسی بھی یونیورسٹی کے پاس مطلوبہ مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ یونیورسٹیاں بحرانوں کا شکار ہوئیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یونیورسٹیوں میں صوبائی حکومتوں اور سیاسی لوگوں کی مداخلت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دنیا میں کسی تعلیمی ادارے میں اس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں خود مختار ہوتی ہیں اور اس میں کوئی مداخلت کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے گورنر جو یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں سے تمام اختیارات لے کر وزیر اعلی کو دے دیے گئے اور بیوروکریسی کو یونیورسٹیوں میں مداخلت کا موقع فراہم کیا گیا، سندھ میں وزیر اعلی کو ہی چانسلر بنا دیا گیا۔ مالی بحران اتنا زیادہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی صرف ملازمین کی تنخواہیں بھی پوری طرح ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتی، گزشتہ دس برسوں میں تحقیق کے لیے اسی فیصد یونیورسٹیوں نے بجٹ میں کوئی رقم مختص ہی نہیں کی۔
اٹھارویں ترمیم سے پہلے یونیورسٹیوں کے کل معاملات ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد دیکھا کرتا تھا اور یونیورسٹیوں کو مطلوبہ وسائل، گائیڈ لائن اور مواقع فراہم کرتا تھا۔ مگر اس ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی فعالیت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ پھر اس ادارے میں قیادت کا بحران رہا اور سیاسی پسند و ناپسند کی آڑ میں اس فعال ترین ادارے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا، اس ادارے نے جدید خطوط پر کچھ عرصے میں بہت زیادہ عملی پیش رفت کی تھی اور اس کا عملہ بھی اپنے کام میں قابل قدر مہارت رکھتا ہے مگر ایچ ای سی کے اس کور عملے کو باہر سے سیاسی بنیادوں پر آنے والے گھس بیٹھیوں نے کام کرنے ہی نہیں دیا، ہر نئے آنے والے نے گزشتہ کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور اسے بہتر کرنے کی جگہ اپنا خودساختہ نیا ماڈل بنانے کے چکر میں ترقی کے اس عمل کو سبوتاژ کیا جس کی بنیاد پر ملک میں اعلی تعلیم کا ڈھانچہ ترقی کر رہا تھا، پھر یہ ادارہ بھی ذاتی مفادات اور فائدوں کے لیے ملک کی دیگر اداروں کی طرح مصروف عمل ہو گیا یوں اس کی گرفت تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹیوں کی معاونت میں کمزور پڑتی گئی۔
اس وقت یونیورسٹیوں کو جو مسائل درپیش ہیں۔ ان میں سب سے بڑا مسائل مالی ہے یعنی یونیورسٹیوں کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں بحران کا شکار ہیں۔ اور دوسرا بڑا مسئلہ ملک کے 61 سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلروں کا نہ ہونا بھی ہے۔ مستقل وائس چانسلروں کے نہ ہونے سے یونیورسٹیوں میں عملی طور پر سب کام ر کے ہوئے ہیں۔ اور اگلے دو ماہ میں مزید 37 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کا ٹینیور مکمل ہو جائے گا۔
کچھ یونیورسٹیاں ایسی بھی جہاں برسوں سے یہ تعیناتی نہیں ہو رہی اور وہ یونیورسٹیاں ایڈہاک ازم پر چلائی جا رہی ہیں۔ اس سے ہماری حکومتوں کی سنجیدگی کا اندازہ لگائیں کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں سربراہان نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے یہ ادارے تباہی کے دھانے تک پہنچ گئے ہیں۔ مگر حکومت کو اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ عارضی بندوبست پر جو یونیورسٹیاں چلائی جا رہی ہیں وہاں سیاسی مداخلت بھی بہت زیادہ ہے اور ان یونیورسٹیوں میں چونکہ سنڈیکیٹ اور سینٹ کی میٹنگ بھی نہیں ہو رہیں اور یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ سازی، قانون سازی، اور اکیڈیمک قانون سازی اور عمل درآمد جمود کا شکار ہے۔
عارضی سربراہوں کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں دھڑا بندیاں بھی بڑھ رہی ہیں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انتظامی سرگرمیوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ پھر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کی تعیناتی کو اس حد تک سیاسی بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی اہل اور قابل پروفیسر اس منصب تک رسائی حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ اب یونیورسٹیوں میں سیاسی اور ذاتی اثر و رسوخ اور دیگر ذرائع سے ہی وائس چانسلر بنا جاسکتا ہے۔
ایسے موقع پرست پھر تعلیم اور یونیورسٹی سے زیادہ ذاتی اور خیر خواہوں اور گارڈ فادرز کی خوشنودی کے چکر میں رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی اور بہتری کا انتظام نہیں کر پاتے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جتنی بھرتی یونیورسٹیوں میں ہوئی ہے اس کی مثال کسی بھی دوسرے شعبہ میں نہیں ملتی اور اس غیر ضروری اور بے تحاشا بھرتی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کی ساری سرکاری جامعات مالی بحرانوں کا شکار ہیں۔ انتظامی تجربہ، علم اور صلاحیت نہ رکھنے والے وائس چانسلروں کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے بحرانوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اچھا اور قابل پروفیسر بہت ہی اچھا محقق تو ہو سکتا ہے اس لیے کہ اس کی اس میں تربیت ہوئی ہوتی ہے مگر وہ ایک اچھا منتظم نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اس کے لیے الگ تعلیم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیورسٹی مینجمنٹ دنیا میں ایک الگ شعبہ ہے۔ وائس چانسلر کو اکیڈیمک پلاننگ اور منیجمنٹ کے ساتھ فنانشل اور ایڈمنسٹریٹیو منیجمنٹ کا علم و تجربہ بھی ہونا چاہیے۔ لیڈر شپ سٹریٹیجک منیجمنٹ کا کورس کیے بغیر کسی کو بھی وائس چانسلر لگائیں گے تو یونیورسٹی کو ایک ڈپارٹمنٹ یا لیپ کی طرح چلائے گا اور یہی سب کچھ اس وقت یونیورسٹیوں میں ہو رہا ہے۔
جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں آہستہ آہستہ کسی لیپ اور ڈپارٹمنٹ کی صورت اختیار کر رہی ہیں۔ پھر وائس چانسلر میں قائدانہ صلاحیتیں بھی ہونی چاہئیں، اس کی نفسیاتی صحت درست ہونی چاہیے اور وہ کوئی بزنس پلان لے کر یونیورسٹی میں آئے۔ کہ وہ اپنے وائس چانسلری کے دورانیے میں کیا کیا کرے گا اور یونیورسٹی کے لیے جو اہداف اس نے مقرر کیے ہیں ان کو کیسے تکمیل تک پہنچائے گا۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جو بھی نیا وائس چانسلر کسی یونیورسٹی میں مقرر ہوتا ہے وہ وائس چانسلر ویژن پلان لے کر آتا ہے۔
اور پھر اسے پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے اس لیے دنیا کی یونیورسٹیاں ترقی کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ وائس چانسلر کسی یونیورسٹی کو جوائن کرتا ہے اپنا ایک قریبی حلقہ بناتا ہے اور پھر یونیورسٹی کے اس گروپ کے مخالفین کے ساتھ جھگڑوں میں لگ جاتا ہے۔ وہ کام جو بطور وائس چانسلر کے اس نے کرنا ہوتا ہے وہ اس کو فراموش کر دیتا ہے۔ اور کمال کی بات دیکھیں اگلی دفعہ وہ یہی پریکٹس کرنے کسی دوسری یونیورسٹی پہنچ جاتا ہے۔
یونیورسٹیاں اس ملک کا اثاثہ ہیں۔ اس ملک کی ترقی اور بہبود کا تمام تر دار و مدار ان تعلیمی اداروں پر ہے۔ حکومت کی عدم توجہی سے یہ ادارے خراب ہو رہے ہیں، ان اداروں میں وائس چانسلروں کے نہ ہونے سے یہ ادارے تباہ ہو رہے ہیں، تعلیمی ماحول خراب ہو رہا ہے، انتظامی معاملات درست طریقہ کار سے نہیں چل رہے اور یونیورسٹیوں کی یہ ابتری دیکھ کر قابل لوگ یہاں سے کام چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں جس تیزی کے ساتھ یونیورسٹیوں سے برین ڈرین ہو رہا ہے دنیا میں کہیں بھی اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔
ہمارے پڑوسی ممالک تعلیم اور یونیورسٹیوں پر توجہ دے رہے ہیں، اپنے زیادہ وسائل تعلیم اور تحقیق پر خرچ کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ خود کفیل ہوتے جا رہے ہیں ان کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے اور وہاں بے روزگاری کم ہو رہی ہے، بہتر تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ان ممالک کے بچے ملک سے باہر بھی بہتر روزگار حاصل کر رہے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ جس سے وہاں خوش حالی آ رہی ہے۔
اس وقت پاکستان کی نصف سے بھی زیادہ یونیورسٹیاں یتیم و یسیر ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کے باپ اور ماں نہیں ہیں۔ ان پر رحم کریں اور اس ملک پر رحم کریں اس کے طالب علموں پر رحم کریں اور ان عظیم اداروں کو پی آئی اے، سٹیل مل، ریلوے، اور پی ٹی ڈی سی نہ بنائیں۔ ان کو تباہ کر کے کسی کے ہاتھ بیچنے کی اگر کسی کے ذہن میں کوئی خواہش ہے تو اس پر نظر ثانی کرے اس لیے کہ ہر شے برائے فروخت نہیں ہوتی۔ یونیورسٹیوں کے لیے وائس چانسلر فوری مقرر کر دیں اور ان کا تقرر میرٹ پر کریں۔
سیاسی اور دیگر ذرائع سے آنے والے اس ڈوبتی کشتی کو مکمل ڈبو دیں گے۔ اچھے انتظامی صلاحیتوں کے حامل تجربہ و صلاحیت رکھنے والے لوگوں کے حوالے یہ یونیورسٹیاں کریں چاہے وہ جنرل ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لیے کہ اب یونیورسٹیوں کو بھی بچانا ہے۔ اور یہ کام جنگی بنیادوں پر کام اور فیصلے کر کے کرنا ہے۔ اب پروفیسر وائس چانسلروں کے بس میں یونیورسٹیوں کے لیے مالی وسائل کا بندوبست کرنا شاید عملی طور پر ممکن نہ ہو۔ ہم اپنی آنکھوں سے یونیورسٹیوں کو ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ جلتے دیکھ رہے ہیں۔ اور حکومت چین کی بانسری بجا رہی ہے۔ عدالت بھی سیاسی مسئلوں میں مصروف ہے اور اس ملک میں تو سول سوسائٹی کب کی مرحوم ہو چکی ہے۔ مارٹن لوتھرکنگ جونئیر نے کہا تھا کہ جس ملک اور قوم کو تباہ کرنا ہو اس کے لوگوں کو نسلی طور پر تقسیم کردو اور اس کے تعلیمی ادارے تباہ کردو اور اچھے لوگوں کو آگے مت آنے دو باقی کام خود بخود ہو جائے گا۔

