آخری رسومات
آئے دن خود کشیاں بڑھ گئی ہیں۔ پتا نہیں آج کل کے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بس یہی کچھ ہوتا ہے جو بعد میں کہا جاتا ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ یہ جن کو ہم چھوٹی چھوٹی باتیں کہتے ہیں وہ کتنا بڑا اور گہرا زخم لگا سکتی ہیں۔ بچپن میں سکھایا گیا تھا کہ اگر ایک قطرہ پانی بار بار کسی پتھر پر بھی گرے تو اس میں چھید کر دیتا ہے، چہ جائے کہ وہ الفاظ جو نشتر بن کے کسی کی روح تک کو چیر کے رکھ دیں۔ پھر تب ہوش آتا ہے جب ہم ان کے لاشوں کو منوں مٹی تلے دفن کر آتے ہیں۔
اب یہاں ایسے احباب جو ابھی تک الفاظ و معٰنی کے رموز سے ایسے نابلد ہیں کہ قمیض پر لکھے لفظ ”حلوہ“ پر بھی طیش کھا جاتے ہیں، وہ یہی کہیں گے کہ کیا اب کوئی کسی کو غلط بات پر سمجھائے بھی نا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خود بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اس امر کا ادراک ہی نہیں کہ سمجھانے کی غرض سے کسی شخص کا ایسا رویہ جو کسی چھوٹے یا کم طاقتور کو تکلیف پہنچائے یا خوفزدہ کر دے، اکثر اس غمگین اور خوفزدہ انسان کو وہ کام کرنے پر مجبور کرتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔
ملک کو بنے تقریباً 77 برس ہو چلے اور عمر رفتہ بھی نصف صدی کو چھونے کو ہے۔ پر مشاہدے کا تسلسل یہی بتاتا ہے کہ اس ریاست نے نہ اپنی تربیت کی نہ ہی جمہور کی، اور اب تو یہ ایک ایسے خرابے کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں سب سے زیادہ اہمیت اگر کسی بات کی ہے تو وہ ہیں آخری رسومات (تدفین و تکفین) ، اب چاہے وہ کسی جوان میت کی ہوں، عدل و انصاف کی، آئین و قانون کی بالادستی کی یا پھر جمہور کی۔
حالت یہ ہے کہ کہیں ماں باپ کے جھگڑوں سے تنگ آ کر نئی نسل خود کشیاں کر رہی ہے۔ تو کہیں اپنے سے زیادہ طاقتور (استاد، رشتے دار، نمبردار یا وڈیرے ) کی ہراسانی کی وجہ سے جان دے رہی ہے۔ جبکہ من حیث القوم ہماری اکثریت آدھے پڑھے ابو جہلوں پر مشتمل درندوں کا ریوڑ بن چکی ہے۔ جو معاشرے میں بچی کچی فہم و دانش کی کھال ادھیڑنے میں مصروف ہے بلکہ مشغول ہے۔
تعلیم ایک واحد رستہ تھا جو ان نامساعد حالات میں ہماری مشکل کشائی کر سکتا تھا۔ پر اس کا حشر جو ہم نے اس پر نت نئے تجربے کر کے کیا اس کے نتائج درندہ صفت بھیڑ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جو جہل کی تقدیس لوگوں سے کے وجود سے کھینچ کر انہیں برہنہ کرنے پر تلے ہیں۔
ویسے بھی ایسی تعلیم و تربیت جو ہم کو انسان بناتی کب ہماری ترجیح رہی ہے۔ جب ملک کے پاس پیسے تھے اور معیشت کی کمر قدر مضبوط تھی اس وقت بھی تعلیم کبھی ہماری ترجیح نہیں رہی اب تو خیر سے مال خانہ اتنا خالی ہے کہ ملک کے ناخداؤں نے بھی ڈوبتی ناؤ کی ناخدائی سے معذرت کرلی ہے۔ نتیجتاً پہلے پاور لائن نیوٹرل ہوئی اور اب مکمل کرنٹ چھوڑ چکی ہے۔ اور ملک مانگے تانگے کے یو پی ایس پر لگادیا گیا ہے۔ بس دیکھنا یہ ہے کہ اس کی چارجنگ کب تک چلتی ہے۔
امام علی علیہ السلام نے جب مالک اشتر نخئی کو مصر کا گورنر بنا کر عہد لیا تو اس عہد نامہ میں اس کو رموز حکمرانی کی تربیت دیتے ہوئے کہا ”رعایا کے ساتھ مہربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعار بنا لو اور خبردار ان کے حق میں پھاڑ کھانے والے درندے کے مثل نہ ہوجانا کہ انہیں کھا جانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگے۔ کہ مخلوقات خدا کی دو قسمیں ہیں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشر ہیں جن سے لغزشیں بھی ہوجاتی ہیں اور انہیں خطاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جان بوجھ کر یا دھوکے سے ان سے غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں۔
لہذا انہیں ویسے ہی معاف کر دینا جس طرح تم چاہتے ہو کہ پروردگار تمہاری غلطیوں سے درگزر کرے کہ تم ان سے بالاتر ہو اور تمہارا ولی امر تم سے بالاتر ہے اور پروردگار تمہارے والی سے بھی بالاتر ہے اور اس نے تم سے ان کے معاملات کی انجام دہی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے تمہارے لئے ذریعہ آزمائش بنا دیا ہے اور خبردار اپنے نفس کو اللہ کے مقابلہ پر نہ اتار دینا۔ (اس عہد نامہ کی تفصیل قارئین انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں ) ۔
اسی امام کا فرمان ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کو عمر کے تین حصوں میں تقسیم کریں۔ 1۔ پیدائش سے 7 سال تک اس کا خیال ایک بادشاہ کی طرح کرٰیں کہ جس کے حکم کی تعمیل لازم ہے۔ 2۔ اس سے اگلے 7 سال ایک شفیق و با اصول استاد کی طرح ان کی تربیت کریں اس کو آداب اور صحیح و غلط کی سمجھ دیں 3۔ اور اس سے اگلے 7 سال ان کے ساتھ ایک دوست کی طرح پیش آئیں۔ اس کے بعد وہ کبھی آپ سے نہیں ہچکچائیں گے نا ہی کوئی بات چھپائیں گے۔
حالت یہ ہو گئی ہے ایک نوجوان کے اس دؤر میں جب اس کو ایک سچے دوست، کسی سہارے یا مدد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اکثر بڑے یا ان سے طاقتور (والدین، اساتذہ، اور با اثر افراد) اپنی ہوس یا انا کی تسکین کے لئے ان کے کمسن احساس پر ہراسانی کا چابک مار کر مضطرب کر کے اس اطمینان میں رہتے ہیں کہ اب سب ہماری مرضی اور منشاء کے مطابق ہو جائے گا، در اصل یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم نسلوں کو تنہائی کے ایسے کنویں میں دھکیل دیتے ہیں جہاں ان کو نہ کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ سجھائی۔
اس پر بھی صد افسوس کہ اس ریاست کے 77 سالا فیصلوں نے ہر چھوٹے بڑے طاقتور کو پھاڑ کھانے والے درندوں کی مثل بنا دیا ہے۔ جو فقط روڈ رستوں پر مخلوق خدا کی چیر پھاڑ نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر کو جہنم بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
سچ یہی ہے کہ ہم کو، ہمارے بچوں کو اور اس ریاست کو اپنی اپنی تربیت کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ پر کیا کیا جائے کہ ہم سب کے دلوں میں یہ غلط فہمی گھر کر گئی ہے کہ ہم سب جانتے ہیں، اور بہتر جانتے ہیں اور ہمیں کوئی نہ سمجھائے۔ بس یہیں سے ہم نے اچھائی کے تمام ممکنہ راستے اپنے آپ پر خود بند کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کچھ کرنے کو رہ جاتا ہے تو وہ بس آخری رسومات ہی ہیں، جس کو چاہے کتنے ہی اہتمام سے کیوں نہ کیا جائے نتیجتا تدفین ہی ہوتی ہے۔ اور پھر فاتحہ۔


