ڈسلیکسیا: ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میں


یہ 2016 کی بات ہے جب میں ایک نجی اسکول میں منتظم تھی، میری نگرانی میں صرف ڈیڑھ سو بچے اور آٹھ سے دس اساتذہ تھے، جن کی میں براہ راست سربراہ تھی۔ یہ بچے تیسری سے پانچویں جماعت کے تھے اور پاکستان میں اکثر اسکولوں میں اس گروپ کو پرائمری جماعتیں کہا جاتا ہے۔ ہر نئے سربراہ کی طرح میں نے بھی جدت لانے کی کوشش کی، اساتذہ کی ٹریننگ سے لے کر، امتحانات کے طریقے۔ میں نے سب میں مثبت تبدیلیاں لانے کی تحریک شروع کردی، کچھ والدین نے اسے سراہا کچھ نے پریشانی کا اظہار کیا کیونکہ وہ پرانے طریقوں سے آشنا تھے اور اس ہی کی عادت اپنائے ہوئے تھے۔

ایسے میں تیسری جماعت کے ایک بچے کے والدین نے مجھ سے ملنے کے لئے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ملاقات طے پا گئی۔ بچے کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کو کسی خاص توجہ کی ضرورت نہیں، نہ ہی والدین کو اساتذہ سے کوئی مدد درکار تھی۔ ان کی بس ایک گزارش تھی کہ کسی بھی امتحان میں بچے کے نمبر نہ کاٹے جائیں کیونکہ وہ ڈسلیکسک ہے۔ وہ اسپیلنگ میں غلطیاں کرتا ہے اور بی کو ڈی لکھ دیتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو صرف ان باتوں سے یہ کیسے لگا کہ بچہ ڈسلیکسک ہے۔

انہوں نے اصرار کیا کہ وہ جانتے ہیں ایسا ہی ہے۔ والدہ نے یہ بھی کہا کہ بچے کے والد بھی بچپن میں اس تکلیف کا شکار تھے سو انہیں پورا یقین ہے کہ بچے کو بھی یہی مسئلہ ہے۔ میری ہمیشہ سے عادت ہے کہ میری اپنے آس پاس ہر بچے پر گہری نظر ہوتی ہے اور اس صورتحال میں تو ویسے بھی میری ذمہ داری زیادہ تھی۔

میں نے سوچا کہ وہ بچہ جس کا نام عبدالہادی تھا ایک بہت صاف ستھرا تمیزدار بچہ تھا۔ بڑوں کے سامنے وہ کم کم بولتا تھا اور صرف مسکرانے سے کام چلاتا تھا۔ مگر دوستوں میں اس کی شرارتیں اپنی مثال آپ تھیں۔ اس کی لکھائی بہت صاف تھی۔ لنچ کے وقت وہ بہت دھیان اور صفائی سے لنچ کھاتا تھا۔ میں نے اس کے موجودہ اساتذہ سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کام بہت آہستگی سے کرتا ہے۔ اور الفاظ کے ہجے یا اسپیلنگ پر دھیان نہیں دیتا۔

میں نے دوسرے سیکشن کے اساتذہ سے اس کے بارے میں بات کی جہاں سے وہ پہلی اور دوسری جماعت پڑھ کر آیا تھا۔ بہت ساری ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے اندازہ ہوا کہ والدین صرف اپنے بچے کی سستی اور ہجے کی کمزوری کو چھپانے یا اس کے نقصان کے طور پر رزلٹ خراب ہونے سے بچانے کے لئے ایسے جھوٹ گھڑ رہے تھے، میں نے ان والدین سے دوبارہ ملاقات طے کی۔ اور وہ میری تحقیق کے آگے اپنا جھوٹ چھپا نہ سکے۔ اساتذہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ عبدالہادی کی کمزوری دور ہو اور اس کی لکھائی میں تیز رفتاری آئے۔ جس کے نتیجے میں آئندہ کبھی عبدالہادی کو کسی جھوٹ کا سہارا لے کر نمبر نہیں بچانے پڑے۔

اس وقت میں چین کے ایک بین الاقوامی اسکول میں سائنس کی استانی ہوں، جہاں ساٹھ مختلف قومیتوں کے بچے ہیں۔ کچھ ممالک کے بچے انگریزی میں بہت اچھے نہیں ہوتے۔ کچھ بول نہیں پاتے، کچھ لکھ نہیں پاتے اور کچھ سمجھ بھی نہیں پاتے۔ ہمیں ہر کسی کے انفرادی حالات کو سمجھ کر اس کی مدد کرنی ہوتی ہے۔ حال ہی میں ایک طالبہ کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے میں نے فیڈ بیک کے طور پر کہا کہ بچی بہتر ہے لیکن زبان کی کمزوری کی وجہ سے نتائج بہت اچھے نہیں کیونکہ وہ جس ملک سے آئی ہے وہاں انگریزی زبان کی تعلیم کا زیادہ رجحان نہیں اس لئے پانچویں جماعت میں ہونے کے باوجود بھی وہ فونکس میں غلطی کر جاتی ہے وہ بی کو ڈی لکھ دیتی ہے۔

میری ساتھی نے فوراً  کہا۔ اوہ بی کو ڈی لکھنے والے تو ڈسلیکسک ہوتے ہیں۔ مجھے پہلے ان کے برجستہ جملے پر ہنسی آئی اور پھر بہت سا خوف میرے دل میں امڈ آیا کہ کیا واقعی ساری زندگی تعلیم کے شعبہ سے وابستہ رہنے والے بھی ایسی غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بچوں کو لیبل کر سکتے ہیں۔

ایسے اور بھی کئی واقعات میرے دس سالہ تدریسی سفر میں رونما ہوچکے ہیں۔ جنہوں نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ مجھے اس حوالے سے آگہی پھیلانے اور رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے۔

بنیادی طور پر ڈسلیکسیا کو سیکھنے کے عمل میں ہونے والی دشواری کی ایک بیماری کہا جاسکتا ہے۔ اس کی سب سے واضح نشاندہی چند چیزوں سے ہوتی ہے جن میں الفاظ کا پڑھنا، بولنا اور یاد رکھنا شامل ہیں لیکن اس سب میں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ یہ بیماری ذہن میں ایک طرح کی بے ترتیبی کا باعث بنتی ہے جو انسان کو نہ صرف زبانیں سیکھنے، سمجھنے، بولنے میں مشکل کا سبب بنتی ہے بلکہ روزمرہ کے تمام کاموں میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔

اور یہ پریشانیاں، رکاوٹیں اور مشکلات وقتی نہیں ہوتیں۔ یہ اس کو سمجھنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ اگر آپ کا بچہ کوئی ایک لفظ نہ پڑھ پائے، ایک مرتبہ بی کو ڈی لکھ دے یا ایک دن میتھس کا ہوم ورک نہ کرسکے تو اس پر یہ لیبل نہ لگائیں۔ اگر آپ ڈسلیکسیا کی پندرہ علامات پڑھیں گے تو آپ کو لگے گا اس میں سے آٹھ دس میرے اپنے بچے میں ہیں۔ لیکن کیا وہ شدید صورت اختیار کر گئی ہیں؟ کیا وہ غلطیاں بچہ بار بار کر رہا ہے اور کیا پڑھنے لکھنے کے علاوہ بھی وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشکلات اٹھا رہا ہے؟

اگر ان سب کا جواب نا ہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ایسے بچوں کا اصل مسئلہ پڑھائی میں کمزوری نہیں ان کے ذہن کی بے ترتیبی ہے۔ افسوس کہ یہ بات کم ہی لوگ سمجھتے ہیں، اور علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی صرف رزلٹ کی فکر کرتے ہوئے اس میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذہن کو ترتیب دینے کی نہیں۔ آج کل خواتین کے فیس بک سپورٹ گروپس بہت سے لوگوں کے لئے رہنمائی اور حوصلے کا ذریعہ ہیں، وہاں اکثر خواتین ایسے تشخیصی پیغامات بھیجتی ہیں کہ ہمیں لگتا ہے ہمارے دو سال کے بچے کو ڈسلیکسیا ہے کیونکہ پڑوسی کے بچے تو اس عمر میں ایسا بہت کچھ کرچکے تھے جو ہمارے بچے نہیں کر پا رہے۔

یہ میرے نزدیک نامکمل معلومات کی خطرناک ترین صورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ امریکہ کی ییل یونیورسٹی کی تحقیق اور اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں صرف بیس فیصد لوگ ہی اس کا شکار ہیں۔ ڈسلیکسیا ایک پیدائشی مسئلہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مورثی مرض ہے۔ اس کے باوجود مثبت بات یہ ہے کہ ڈسلیکسیا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ انسدادی تعاون سے۔ یہ علامات وقتی ہوں یا شدید۔

اس ذہنی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرنے ہیں، بچے کی تمام حسیات کو متحرک کرنے والی سرگرمیاں شروع کر دیں، چھونے کی حس سے لے کر سننے کی۔ پھر چاہے اس کے لئے مٹی میں کھیلنا یا پلے ڈو کو ہاتھوں سے مختلف شکل دینا ہو، بلند خوانی کریں، توجہ مرکوز رکھنے، ترتیب اور توازن کی مشق کرنے کے لئے سرگرمیاں کریں، بچے کی تخلیقی صلاحیتیوں کو اجاگر کریں، قدرت کے قریب رکھیں، اس سے سوالات کریں، غیر محسوس طریقے سے اس کا ذخیرہ الفاظ بڑھائیں۔ اسے چھوٹے چھوٹے چیلنجز دیں اور انہیں پورا کرنے پر بہت ساری شاباشی دیں۔ اس کے اہداف سے اسکول میں بہتر نتیجہ لانے کا دباؤ نکال کر صرف خود کو بہتر بنانے کی تحریک شامل کر دیں۔

اگر ہم یہ سب نہ کرسکے تو ہم مزید ذہنی بیماریوں کو جنم دے سکتے ہیں، جن میں ڈپریشن اور انگزائٹی سر فہرست ہیں، آپ استاد ہوں یا والدین۔ آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ اس معمولی سی تکلیف کو کسی بڑی تکلیف کی وجہ نہ بننے دیں کیونکہ یہ تکلیف مثبت رخ میں مستقل مشق کرنے سے دور کی جا سکتی ہے لیکن اگر یہ بچوں کو کسی دوسری ذہنی بیماری کی طرف دھکیل دے تو شاید پورے معاشرے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS