لوئیجی پیراندیلو کا افسانہ: مرتبان


افسانہ: لوئیجی پیراندیلو۔
مترجم: جاوید بسام۔

زیتون کی فصل کے لیے وہ سال اچھا رہا تھا۔ فارم کے سب درخت پکے پھلوں سے لد گئے۔ حالاں کہ پچھلے سال دھند نے ان کے پھولوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

زرافہ کے پرائموسول میں واقع فارم لیکوٹ پر زیتون کے کافی درخت تھے۔ اس نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ تہہ خانے میں رکھے پانچ پرانے مرتبان نئی فصل سے کشید ہونے والے تیل کو رکھنے میں ناکافی ہوں گے۔ چھٹا مرتبان بنانے کا حکم دیا۔ وہ تقریباً قد آدم جتنا، کشادہ گول پیٹ والا شاندار مرتبان تھا۔ گویا ایک ابیس کی طرح جو دوسروں سے برتر ہوتی ہے۔ اس نے یقیناً بھٹے کے مالک سے اس پر جھگڑا بھی کیا تھا۔ کیا کوئی ایسا تھا۔ جس کے ساتھ زرافہ ڈان لولو نے جھگڑا نہ کیا ہو؟ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر جھگڑتا، حتیٰ کہ اپنی جاگیر کی دیوار سے گرے ہوئے ایک چھوٹے سے کنکر پر بھی، یہاں تک کہ تنکے کے ایک ٹکڑے پر بھی۔ وہ ہر کس نا کس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے، سمن جاری کروانے اور وکیلوں کی بھاری فیسوں کے باعث آدھا دیوالیہ ہو چکا تھا۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کے قانونی مشیر اسے ہفتے میں دو تین بار خچر پر سوار آتے دیکھ کر اتنے بیزار ہو گئے تھے کہ اس سے جان چھڑانے کے لیے اسے قانونی ضابطے کا ایک کتابچہ دے دیا تھا۔ تاکہ وہ خود قانونی نکات کو سمجھ سکے اور فیصلہ کرسکے کہ کب عدالت جانا ہے۔ اس سے پہلے جن لوگوں سے اس کا جھگڑا ہوتا، وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر آوازیں کستے ہوئے کہتے تھے۔ ”خچر پر کاٹھی ڈالو!“ اب اس کے بجائے وہ کہتے۔ ”کتابچے سے صلاح لو!“

اور ڈان لولو جواب دیتا: ”ہاں میں لوں گا۔ کمینو! میں تمہیں برباد کردوں گا!“

وہ شاندار نیا مرتبان جو چار اونزا نقد رقم دے کر بنوایا گیا تھا۔ اسے فی الحال انگوروں کو کچلنے والے شیڈ میں رکھ دیا گیا۔ تا آنکہ تہہ خانے میں جگہ نہ بن جائے۔ اس جیسا مرتبان پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کم از کم دو سو لیٹر تیل رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ جگہ نم اور غار جیسی تھی۔ جہاں سے تیز اور کچی بو آتی تھی۔ ایسی بو جو ہوا اور روشنی کے بغیر جگہوں پر پیدا ہوجاتی ہے۔ کئی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے، لیکن ڈان لولو نے اس انتباہ پر محض شانے اچکانے پر اکتفا کیا۔

زیتون کی کٹائی کا دو دن پہلے آغاز ہو چکا تھا اور وہ غصے میں تھا۔ کیوں کہ سیم کی فصل کے لیے کھاد والے اپنے لدے خچروں کے ساتھ پہنچ رہے تھے اور ادھر ادھر کھاد کے ڈھیر اتار رہے تھے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کدھر توجہ دے۔ ایک طرف وہ خچروں کے اس ہجوم کی کھاد اتارنے میں مدد کرنا چاہتا تھا۔ دوسری طرف وہ ان آدمیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا جو زیتون اتار رہے تھے۔ وہ ایک ترک کی طرح قسمیں کھا رہا تھا اور دھمکیاں دے رہا تھا کہ اگر ایک بھی زیتون غائب ہوا یا کھاد کا ہر ڈھیر ایک جیسا نہ ہوا تو وہ اس مزدور کو نہیں چھوڑے گا۔

گویا وہ ہر درخت پر ایک ایک زیتون کو گن چکا ہو۔ وہ اپنی قمیض کی آستینیں چڑھائے، ٹوپی بار بار اتارتے اور جماتے، برہنہ سینے اور سرخ چہرے کے ساتھ جس سے پسینہ ٹپک رہا تھا، ادھر ادھر بھاگتے ہوئے بھیڑیوں کی طرح ان پر نظریں رکھے ہوا تھا اور غصے سے اپنے گالوں پر ڈاڑھی کو رگڑ رہا تھا، جو مونڈتے ہی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔

تیسرے دن کے اختتام پر تین اجرتی کسان جو زیتون گرا رہے تھے، انگور کچلنے والے چھپر میں اپنی سیڑھیاں اور چھڑیاں رکھنے گئے تو ان کی نظر نئے مرتبان پر پڑی۔ ان کے قدم زمین میں گڑ گئے۔ مرتبان دو ٹکڑوں میں ٹوٹا پڑا تھا، پیٹ کے بالکل درمیان سے نیچے تک ایک بڑا ٹکڑا الگ ہو گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے اسے تیز دھار چاقو سے کاٹ دیا ہو۔

”میں مارا گیا۔ میں مارا گیا۔“ ایک کسان نے سینہ پیٹتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
”یہ کس نے کیا؟“ دوسرے نے پوچھا۔

”اوہ خدایا!“ تیسرے نے کہا۔ ”ڈان لولو کیا کہے گا؟ کون اسے یہ بری خبر سنائے گا؟ یہ نیا مرتبان تھا۔ اوہ، کتنے افسوس کی بات ہے۔“

پہلا آدمی جو سب سے زیادہ خوفزدہ تھا، اس نے مشورہ دیا کہ سیڑھیاں اور چھڑیاں باہر دیوار سے ٹکا کر خاموشی سے چلے جاتے ہیں، لیکن دوسرے آدمی نے مخالفت کی۔ ”کیا تم بے وقوف ہو؟ تم ڈان لولو کو نہیں جانتے۔ وہ فوراً ہم پر شک کرے گا کہ ہم نے اسے توڑا ہے۔ بس کوئی حرکت نہ کرے۔“

یہ کہہ کر وہ چھپر سے نکلا اور ہاتھوں سے منہ پر بھونپو بنا کر زور سے چلایا۔ ”ڈان لولو! اے ڈان لولو!“

وہ پہاڑی کے نچلے حصے میں ان آدمیوں کے ساتھ تھا، جو کھاد اتار رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح غصے سے اشارے کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اپنی سفید ٹوپی کو کھینچ رہا تھا۔ کبھی کبھی وہ اتنی زور سے کھینچتا کہ بعد میں گردن یا ماتھے سے ٹوپی ہٹا نہیں پاتا تھا۔ گودھولی کی آخری کرنیں مدھم ہو رہی تھیں اور شام کے سائے اور فرحت بخش ہوا کے ساتھ دیہی علاقوں کی خاموشی میں اس کی غصیلی بڑبڑاہٹ اور اشارے شد و مد سے جاری تھے۔

”ڈان لولو! ارے ڈان لولو!“

جب اس نے اوپر آ کر مرتبان دیکھا تو یوں لگا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہے۔ پہلے وہ ان تینوں پر جھپٹا اور ایک کو گردن سے پکڑ کر دیوار سے جا لگایا اور چیخا۔ ”خدا کی لعنت ہو! تم اس کی قیمت ادا کرو گے!“

پھر وہ دوسرے دو آدمیوں کے پاس آیا تو ان کے مٹیالے اور دھوپ میں جلے حیوانی چہروں پر پژمردگی چھا گئی۔ آخر اس نے اپنا غصہ خود پر پھیر لیا، سفید ٹوپی زمین پر پھینک دی، اپنا سر پیٹنے لگا اور پیٹھ پر بار بار گھونسے مارے۔ اپنے گالوں کو پیٹا، زمین پر پاؤں مارے اور یوں چلانے لگا گویا کوئی اپنے مردہ رشتہ دار کا ماتم کر رہا ہو۔ ”آہ، میرا مہنگا مرتبان، وہ بالکل نیا تھا۔“

وہ جاننا چاہتا تھا کہ اسے کس نے توڑا۔ کیا وہ خود ہی ٹوٹ گیا یا کسی نے کینہ یا حسد نکالا ہے، لیکن کب؟ کس طرح؟ توڑ پھوڑ کے کوئی آثار نہیں تھے۔ کیا وہ بھٹے سے ٹوٹا ہوا آیا تھا؟ ناممکن، اس کی کھنک گھنٹے جیسی تھی۔

جیسے ہی کسانوں نے دیکھا کہ اس کے غصے کی پہلی لہر کم ہو گئی ہے۔ وہ اسے تسلی دینے اور پرسکون ہو جانے کی درخواست کرنے لگے۔ مرتبان کو ٹھیک کیا جا سکتا تھا۔ وہ زیادہ نہیں ٹوٹا تھا۔ صرف ایک ٹکڑا الگ ہوا تھا۔ ایک اچھا مرمت کرنے والا اسے یوں ٹھیک کر سکتا تھا جیسے نیا ہو۔ اس کام کے لیے ایک آدمی چاچا دیما لیکاسی مشہور تھا۔ اس نے سیمنٹ کا ایک معجزاتی گلو دریافت کیا تھا، ایک خفیہ گلو جس کے بارے میں صرف وہ جانتا تھا، ایسا گلو جو ایک بار جمنے کے بعد ہتھوڑے سے بھی نہیں توڑا جا سکتا تھا۔ اگر ڈان لولو چاہتا تو کل جھٹپٹے کے وقت چچا دیما لیکاسی وہاں آ سکتا تھا اور اسے نئے مرتبان سے بھی بہتر بنا سکتا تھا۔

ڈان لولو ان تجاویز کو رد کرتا رہا۔ اس کے خیال میں یہ فضول تھا۔ مرتبان ٹھیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، لیکن انہوں نے ڈان لولو قائل کر لیا اور اگلے دن فجر کے بعد چاچا دیما لیکاسی مقررہ وقت پر کندھے پر اوزاروں کی اٹیچی لٹکائے پرائموسول چلا آیا۔

وہ ایک بہت بوڑھا جھکا ہوا آدمی تھا۔ جس کے ٹیڑھے میڑھے اعضا جیسے قدیم سارسن زیتون کے درخت کی طرح تھے۔ اسے ایک لفظ بولنے پر آمادہ کرنا گویا دانت کھینچنے کے مترادف تھا۔ وہ تکبر تھا، چپقلش تھی، اداسی تھی جو اس کے بد وضع جسم میں جڑ پکڑ چکی تھی۔ وہ خود اعتمادی کی کمی بھی تھی کہ دوسرے اسے ایک موجد کے طور پر نہیں مانتے اور اس کی دریافت کی بجا طور پر تعریف نہیں کرتے۔ حالانکہ اس کے پاس کوئی رجسٹر شدہ چیز نہیں تھی۔ چاچا دیما لیکاسی چاہتا تھا کہ حقائق خود بولیں۔ وہ بہت محتاط تھا۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کوئی اس کے معجزاتی گلو کا فارمولا چرا لے گا۔

”مجھے دکھاؤ وہ کیا ہے؟“ ڈان لولو نے دیر تک اس کا جائزہ لینے کے بعد مشکوک لہجے میں کہا۔
چچا دیما نے انکار میں سر ہلایا اور متانت سے بولا۔ ”جب یہ ہو جائے گا، تب آپ دیکھیں گے۔“
”لیکن، کیا یہ کام کرے گا؟“

چچا دیما نے اپنے اوزاروں کی اٹیچی زمین پر رکھ دی۔ پھر اس نے ایک گھسا ہوا، بے رنگ سوتی رومال نکالا۔ جس میں کوئی چیز لپٹی ہوئی تھی، اسے کھولا اور اس میں سے بہت تکلف کے ساتھ ایک عینک نکالی۔ جس کے برج اور کمانیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان کی جگہ تار بندھے تھے۔ اس نے ان کو اپنی آنکھوں پر رکھا اور کانوں پر جمایا۔ پھر نہایت احتیاط سے مرتبان کا جائزہ لینے لگا، جسے باہر کھلے کھلیان پر لایا گیا تھا۔

”یہ ٹھیک ہو جائے گا۔“ اس نے کہا۔

”لیکن اگر تم صرف سیمنٹ کا گلو استعمال کرتے ہو تو میں اس پر بھروسا نہیں کروں گا۔ مجھے تار کے ٹانکے بھی چاہیے۔“ زرافہ نے شرط رکھی۔

”اچھا، پھر میں چلتا ہوں۔“ چچا دیما نے اوزاروں کی اٹیچی پیٹھ پر لادتے ہوئے جواب دیا۔
ڈان لولو نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔

”تم کہاں جا رہے ہو بے وقوف؟ کیا تم ہمیشہ اس طرح کا برتاؤ کرتے ہو؟ اسے دیکھو! یہ سمجھتا ہے کہ یہ شہنشاہ شارلمین ہے۔ بڑے میاں تم فقط ایک بدصورت آدمی ہو، ایک گدھے۔ تمہیں وہی کرنا چاہیے جو تم سے کہا جائے۔ مجھے اس میں تیل ڈالنا ہے اور تیل صرف گلو سے نہیں رک سکتا۔ یہ ایک میل لمبا شگاف ہے۔ مجھے ٹانکے چاہیے، سیمنٹ کا گلو اور ٹانکے، میں باس ہوں۔“

چچا دیما نے آنکھیں بند کر لیں، ہونٹ بھینچ لیے اور سر ہلانے لگا۔ وہ سب ایک جیسے تھے۔ اسے ایک بار پھر اپنے ہنر سے روکنے، ایمانداری سے کام انجام نہ دینے اور اس کے معجزاتی گلو کی خوبیوں سے انکار کیا جا رہا تھا۔

”اگر مرتبان میں سے دوبارہ گھنٹے کی طرح آواز نہیں آتی۔“ اس نے کہنا چاہا۔

”ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔“ ڈان لولو نے مداخلت کی۔ ”ٹانکے! میں سیمنٹ کے گلو اور ٹانکے کے پیسے دوں گا۔ مجھے کتنی ادائیگی کرنی ہوگی؟“

”صرف سیمنٹ کے لیے۔ “

”چپ کرو! تم کتنے ضدی ہو۔“ زرافہ نے کہا۔ ”میں نے کہا ہے کہ مجھے ٹانکے چاہیے۔ ہم اجرت، کام ختم ہونے کے بعد طے کر لیں گے۔ میرے پاس تم سے بحث کرنے کا وقت نہیں ہے۔“

یہ کہہ کر وہ اپنے آدمیوں کی نگرانی کے لیے چلا گیا۔

چچا دیما نے طوعاً و کرہاً کام شروع کیا۔ وہ غصے سے بھنایا ہوا، مرتبان کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں ڈرل سے سوراخ کر رہا تھا۔ تاکہ لوہے کے تار گزار سکے۔ جوں جوں ڈرل کی گڑگڑاہٹ بڑھتی گئی۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوتا اور آنکھیں جلتی گئیں۔ کام مکمل کرنے کے بعد اس نے غصے سے ڈرل اپنی اٹیچی میں پھینک دی۔ پھر جدا ہوئے ٹکڑے کو مرتبان پر رکھا کہ آیا سوراخ برابر فاصلے پر ہیں؟ اس کے بعد لوہے کی تار کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا اور زیتون گرانے والے کسانوں میں سے ایک سے مدد طلب کی۔

”ہمت کرو چاچا دیما۔“ کسان نے اس کے چہرے پر چھائی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کہا۔

چاچا دیما نے غصے سے ہاتھ ہلایا اور اس ٹین کے ڈبے کو کھولا جس میں خفیہ گلو تھا پھر اسے ہلاتے ہوئے آسمان کی طرف بلند کیا، گویا وہ اسے خدا کے حضور پیش کر رہا ہو۔ کیونکہ عام لوگ اس کی قدر نہیں جانتے تھے۔ پھر اس نے انگلی سے گلو ٹوٹے ہوئے کناروں اور شگاف کے چاروں طرف پھیلانا شروع کیا۔ آخر وہ زنبور اور تار کے ٹکڑے لیے مرتبان کے کھلے پیٹ کے اندر چلا گیا اور کسان کو مرتبان کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کو چپکانے کا اشارہ کیا۔

وہ اندر ہی کھڑا تھا۔ سلائی شروع کرنے سے پہلے وہ کسان پر چلایا۔ ”کھینچو!“ اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔ ”اپنی پوری طاقت سے کھینچو! دیکھو کیا یہ ذرا سا بھی ہلتا ہے؟ ہر اس آدمی پر لعنت ہے جو اس پر یقین نہیں کرتا ہے۔ اس پر مارو۔ ہاں۔ اس پر ہاتھ مارو! کیا تم سن رہے ہو؟ یہ کیسے بجتا ہے، جب کہ میں اندر موجود ہوں۔ جاؤ اپنے باس کو بتاؤ۔“

”چاچا دیما! اوپر والا آدمی حکم دیتا ہے۔“ کسان نے آہ بھری۔ ”اور نیچے والا مردود اور سزاوار ہے۔ چلو، سلائی شروع کرو۔“

چاچا دیما نے لوہے کے تار کے ہر ٹکڑے کو دو طرفہ سوراخوں سے گزارنا شروع کیا اور زنبور سے ان کے سروں کو گھماتا گیا۔ یہ کرنے میں اسے ایک گھنٹہ لگا۔ اس کا پسینہ جار کے اندر چشمے کی طرح پھوٹ رہا تھا۔ کام کے دوران اس نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی قسمت کو کوسا اور کسان نے اسے تسلی دی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2