اسلامی تعلیمات اور ہمارے جذبات
ہر طرف ہجوم تھا، ایک ہی آواز تھی اسے قتل کردو اسے مار دو یہ زندہ رہنے کے قابل نہیں اس نے بچے کو بھی نہ چھوڑا یہ بچے کے ساتھ بدفعلی کر رہا تھا۔ ہجوم ایک شخص پر ٹوٹا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا یہ مشتعل ہجوم اس شخص کی جان لے لے گا۔ خدا جانے اس نے کچھ کیا بھی تھا یا نہیں؟ پولیس اہلکاروں نے بڑی ہمت کی اور اس شخص کو ہجوم سے نکال کر لے گئے۔ وہاں موجود سیکڑوں افراد سے جب پوچھا کہ کیا ہوا تھا تو سب کی زبان پر ایک ہی لفظ تھا کہ ایک شخص بچے سے بدفعلی کر رہا تھا پکڑا گیا، کیا آپ نے خود دیکھا؟ یہ وہ سوال تھا جس کا کسی کے پاس جواب نہ ہوتا۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کے آگے پہنچا دے۔ ایسا لگتا ہے ہمارے معاشرے میں اب ہر طرف ایسے ہی غیر ذمہ دار اور شدت پسند لوگ ہیں۔ معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو عدم برداشت کا شکار ہیں، ان کے پاس سننے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ مہنگائی کے ستائے، یہ سیاسی لڑائیاں لڑتے، یہ حالات سے تنگ لوگ شدت پسندی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور میں پیش آنے والا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
میں ذاتی طور پر ہر اس فیشن کا مخالف ہوں جو ملکی رسومات اور دینی تعلیمات کے منافی ہو۔ لباس پر تحاریر کا فیشن آج کل بہت عام ہے جو کہ نامناسب ہے۔ اس فیشن کی ابتدا تو ہو چکی ہے لیکن اب تک ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا کہ ان تحاریر میں کچھ غلط لکھا گیا ہو۔ بہرحال اس کی ابتدا کے بعد یہ بعید نہیں کہ جلد فیشن کی آڑ میں لباس پر اوٹ پٹانگ جملے بھی لکھنے جائیں گے۔ لاہور میں کچھ افراد نے ایک خاتون کو اس لئے گھیر لیا کہ اس کے لباس پر لفظ حلوہ لکھا ہوا تھا۔ دیکھنے والوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ خاتون نے لباس پر کچھ مقدس کلمات لکھے ہوئے ہیں جو کہ دینی تعلیمات کے خلاف ہے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود کو سچا مسلمان ثابت کرنے والے مرد و خواتین شاید عربی زبانی کی مقدس تحاریر سے خود بھی ٹھیک سے واقف نہ تھے اسی لئے تو انہیں یہ علم ہی نہ ہوا کہ لباس پر درج کیا اور ہجوم نے خاتون کو گھیر لیا۔ اس مشتعل ہجوم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل تھیں۔ خدا کا شکر ہے کہ بہادر پولیس اے ایس پی سیدہ شہر بانو موقع پر پہنچ گئیں اور خاتون کو ہجوم سے نکال دیا اور ہمارا معاشرہ ایک اور سانحے سے بچ گیا۔
دین کی گستاخی اور اس کا الزام اس قدر نازک معاملہ ہے کہ اس پر لکھنے اور بولنے سے قبل بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے لیکن ملک بھر میں ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی پر بھی کوئی بھی الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور کسی قسم کی تصدیق اور تحقیق کے بغیر عوام خود ہی عدالت لگا لیتے ہیں اور خود ہی فیصلہ سنا کر سزا بھی دے دیتے ہیں۔ ایسے بھی کئی واقعات سامنے آئے ہیں کہ عوام جسے سزا دیتے ہیں اس پر الزام ثابت ہی نہیں ہوتا اور تحقیق کے بعد علم ہوتا ہے کہ قتل ہو جانے والے بے گناہ تھا، اب قتل کرنے والوں کے چہرے پہچانے جاتے ہیں اور کریک ڈاؤن ہوتا ہے جس سے ان کے گھر ہمیشہ کے لئے متاثر رہتے ہیں۔
یاد رکھیں اسلام برداشت کا درس دیتا ہے۔ برداشت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شعائر اسلام کی توہین کرنے والوں کو یا مقدس ہستیوں کی گستاخی کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے لیکن اس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ ملک میں ان جرائم کی مکمل سزائیں موجود ہیں۔ بحیثیت مسلمان کسی پر کوئی بھی الزام عائد کرنے سے قبل ہمیں تحقیق لازمی کرنا ہوگی۔ درج بالا حدیث کے مطابق اگر ہم صرف سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دیں گے تو ہمارا شمار جھوٹوں میں ہو گا لہذا اسلامی تعلیمات کے مطابق صرف کسی کے نعرہ لگا دینے سے جذباتی ہونے کے بجائے ہمیں خود بھی سوچنا ہو گا اور تحقیق کرنا ہوگی۔
بعد ازاں اگر کوئی ہمارے عقائد یا مقدسات کے حوالے سے کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملک میں موجود قانون کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ درج کرانا ہو گا اور پھر ذمہ دار شہری و مسلمان کی حیثیت سے گواہی دی کر اسے سزا دلوانے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یاد رکھیں اگر ملک مین برداشت کو عام نہ کیا گیا اور شہریوں کو اس بات کا پابند نہ کیا گیا کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے قانون کا سہارا لیں تو ملک میں آئے دن ایسے سانحات رونما ہوں گے۔ کوئی کسی پر کوئی بھی الزام لگا کر اسے دنیا سے رخصت کر دے گا جو کہ دین و آئین دونوں کے مطابق کی گناہ کبیرہ ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردہ علما کو ادا کرنا ہو گا۔ نبی ﷺ کے منبر سے اب برداشت اور قانون پر عمل کرنے کا درس دینا انتہائی اہم ہے۔


