پنجاب کی وزارت اعلی: کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں


پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہو چکی مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلٰی منتخب ہو گئی ہیں۔ وہ پہلی دفعہ براہ راست اقتدار میں آئی ہیں، اس سے پہلے انہیں گورننس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ مریم نواز شریف 28 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کانونٹ آف جیسس اینڈ میری اسکول سے حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔ 1992 میں وہ کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں، مریم نواز کے تین بچے جنید صفدر، مہرالنسا صفدر اور ماہ نور صفدر ہیں۔

مریم نے اپنا سیاسی کیریئر کا آغاز 2012 میں کیا۔ 3 جنوری 2013 کو مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر منتخب ہوئیں اور مسلم لیگ (ن) کی الیکشن مہم کی سربراہی کی 2013 اور 2014 میں پرائم منسٹر یوتھ اسکیم کی سربراہ بھی رہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کے دور میں ضمنی انتخابات میں بھی بھرپور مہم چلائی۔ والد کے ساتھ جیل کاٹ کر اپنی والدہ کلثوم نواز کا مزاحمتی کردار دہرایا۔ 2018 کے انتخابات سے 12 دن قبل اپنے والد میاں نواز شریف کے ساتھ لاہور ائرپورٹ پر پہنچیں تو انہیں طیارے سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔

ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز کو سات برس قید ہوئی اور دس برس تک انتخابی سیاست کے لیے نا اہل قرار دیا گیا۔ تاہم ستمبر 2023 میں اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز کی سزا ختم کر دی اور وہ دوبارہ انتخابی سیاست کے لیے اہل ہو گئیں۔ حالیہ عام انتخابات میں پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعلٰی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اسی تناظر میں اس کے مسائل پیچیدہ اور گنجلک ہیں لیکن یہ بات بھی خاصے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مریم نواز اگر اپنی کابینہ میں ان لوگوں کو شامل کریں جو ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل ہوں اور پیسہ بنانے کے بجائے عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہوں۔ اسی طرح سول سروس میں اچھے بیوروکریٹس اہم عہدوں پر متعین کر لیتی ہیں تو ان کے لیے معاملات چلانا مشکل نہیں رہے گا۔ اس مقصد کے لیے انہیں گو گیٹر ’پرجوش ”قسم افسروں کو سامنے لانا ہو گا، جو مشکل حالات سے آسانی سے نمٹنے کے قابل ہوں۔

پنجاب کو ایسے حکمران کی ضرورت ہے، جو الجھی گتھیاں سلجھائے کے ساتھ اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔

امن ملے تیرے بچوں کو انصاف ملے
دودھ ملے چاندی سا اجلا پانی صاف ملے
خدا کرے کہ آنے والے دنوں میں پنجاب کچھ ایسی ہی تصویر پیش کر رہا ہو۔

مریم نواز کی شروع میں بطور وزیر اعلیٰ ہوا بن گئی کہ وہ عوامی مسائل کر رہی ہیں، تو مستقبل میں وزارت عظمیٰ کی لاٹری بھی ان کے نام نکل سکتی ہے۔ اس منزل تک پہنچنے سے پہلے ملک میں استحکام و ترقی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے طاقت، جبر اور انتقام کے بجائے رواداری کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں عدم استحکام ختم ہو۔ مریم نواز شریف نے نئی نسل کو اپنا ہمنوا بنانا ہے۔ تو یہ صرف اس صورت میں ہو گا کہ نئی نسل کو تعلیمی سہولیات، بہتر ماحول اور اچھی تربیت دیں۔

•ہر آبادی میں کھیلوں کے میدان بنائیں اور مستقبل کی نئی سوسائٹیوں کے لیے لازمی قرار دیں۔
•نوجوان طلبہ و طالبات کی فیسیں کم کریں اور تعلیم و تربیت کے معیار کو بہتر بنائیں۔
•نسل نو کی گفتگو کے معیار اور لہجے کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

مریم نواز شریف کا وزیر اعلیٰ بننا اس بات کا باضابطہ اعلان ہے کہ شریف خاندان نے انہیں اپنے جانشین اور سیاسی چہرے کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ شریف خاندان میں میاں شریف کی وفات کے بعد میاں نواز شریف کو باضابطہ طور پر خاندان کا سربراہ بنایا گیا۔ وہی خاندان کے سیاسی اور بیشتر سماجی فیصلے اور اندرونی تنازعات کے خاتمے کو حتمی شکل دیتے ہیں۔ مریم نواز شریف کراؤڈ پلر ہیں، جارحانہ اور جذباتی سیاست کرتی ہیں، والد نے مقتدرہ کے خلاف مزاحمت کی تو وہ کندھے سے کندھا سے ملا کر ان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ نہ جیل سے گھبرائیں اور نہ نیب کے احتساب سے۔ جیل اس بہادری سے کاٹی کہ سب حیران تھے کہ نازوں میں پلی، صنعت کار خاندان کی یہ لاڈلی اتنی سخت جان کیسے نکل آئی؟

نواز شریف کی آخری دور اقتدار میں مقتدرہ سے ٹھنی تو مریم نے وزیراعظم ہاؤس کا مورچہ سنبھالا، سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی چینلز، اس میں نواز شریف کے جارحانہ دفاع کی منصوبہ بندی کی اور تمام بڑے فیصلوں میں شریک رہیں۔

مشکل کے اس دور میں والد کی تنہائی میں ساتھ دیا۔ ہر روز گھنٹوں والد کی صحبت میں گزارتیں۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی مریم نے کئی بڑے شہروں میں جلسے کیے ، اپنے مزاحمتی انداز اور رویے کی وجہ سے انہیں پذیرائی ملی۔ مریم نوازنے پارٹ ٹائم سیاست کی، کبھی وہ متحرک ہو کر جلسوں میں جوش و خروش سے تقاریر کرتیں اور کبھی طویل خاموشی اختیار کر لیتیں۔ اب انہیں ہمہ وقت متحرک رہنا پڑے گا۔ مریم نواز کا گورننس کا تجربہ بہت کم ہے، پنجاب کے کروڑوں عوام اور اس کی بے لگام پولیس اور بیوروکریسی کو سنبھالنا ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا۔

کابینہ، اسمبلی اور سیکرٹریز کو چلانا ان کے لئے ایک چیلنج ہو گا۔ کیا وہ گورننس میں اپنے والد اور چچا جیسی کارکردگی دکھا سکیں گی۔ شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کا انحصار اب مریم نواز کی حکومتی کارکردگی پر ہے۔ تاہم اگر وہ کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ان کا اور ن لیگ کا حشر بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی جیسا ہو سکتا ہے۔

مریم نواز کو اگر چہ وفاق میں اپنے چچا شہباز شریف کی سرپرستی میسر ہو گی۔ مگر دوسری جانب انھیں اسی قدر نقصان بھی ہو گا۔ 18 ویں ترمیم کے بعد بجلی، سوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین وفاق کرتا ہے۔ جب بھی مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بجلی بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ اس کا نزلہ وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت پر بھی گرے گا۔ اس لیے مریم نواز کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پھولوں کی بجائے کانٹوں کی سیج ثابت ہو سکتی ہے۔ بہر حال مریم نواز نے جو روڈ میپ دیا ہے اس کے اہم نکات یہ ہیں۔

•پنجاب کو معیشت کا حب بنانا۔ •پانچ آئی ٹی سینٹر کا قیام۔ • 2013 میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت بلا سود قرضہ سکیم، ٹریننگ پروگرامز، سمال بزنس لون سکیم، لیپ ٹاپ سکیم کی بحالی۔ • انٹرن شپ کرنے والوں کو ماہانہ 25 ہزار امداد۔ •ذہین طلبہ و طالبات کی پنجاب حکومت کے خرچے پر تعلیم۔ • نوجوانوں کے لئے الیکٹرک موٹر بائیکس۔ • نوجوانوں کے لئے یوتھ لون۔ •ہر ضلع میں اسپیشل بچوں کے لئے اعلی سکول۔ • ہر ضلع میں دانش اسکول۔

•کرپشن کی روک تھام کے لئے سسٹم کا قیام۔ • 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سولر پینل کی آسان اقساط میں فراہمی۔ • کاروبار اور زراعت کے لئے سازگار ماحول اور زراعت میں جدت۔ • بیرون ملک اعلیٰ کے لئے بھرپور وسائل کا انتظام۔ • ائر ایمبولینس سروس کا آغاز۔ •صحت کارڈ کی بحالی۔ •سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی۔ پنجاب میں ایک لاکھ گھروں کی تعمیر۔ • ”نگہبان“ کے نام سے رمضان ریلیف پیکیج گھروں تک پہنچانا۔

•سستے رمضان بازار اور ان کی مانیٹرنگ۔ • 60 ہزار ماہانہ تنخواہ والے مستحقین کی مدد۔ • ہیلپ لائن کے ذریعے عوام کی براہ راست رسائی۔ • پنجاب میں سکول ٹرانسپورٹ سسٹم کا قیام۔ •نصاب پر نظرثانی، سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کا یکساں نصاب اور معیار۔ •تعلیمی وظائف کی بحالی اور سکلڈ ڈویلپمنٹ اداروں کی اپ گریڈیشن۔ •خواتین کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی ورکنگ خواتین کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ، ویمن ہاسٹلز اور ڈے کیئر سنٹرز کا قیام۔ یہ ہیں پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی کے وعدوں کو دیکھیں تو

احمد فراز کے بقول:
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کے سیاست دانوں کی طرح یہ بھی ایک لالی پاپ ہو گا یا پھر واقعی ان وعدوں پر عمل بھی کیا جائے گا

Facebook Comments HS