ڈنکی، ڈنکر اور لیلے – 1
جوانی میں عموماً بندہ دلیر ہوتا ہے اور کسی قسم کی مہم جوئی سے گھبراتا نہیں ہے گویا جوانی اپنے آپ میں ہی ایک ایڈونچر ہوتی ہے۔ 2003 میں 24 سال کی عمر میں، میں بھی اپنے ایک دوست (جو ایران آتا جاتا رہتا تھا) کے ساتھ غیر قانونی طور پر ایران گیا۔
ھم بذریعہ بس ملتان سے کراچی اور پھر وہاں سے بمشکل 1200 کلومیٹر پتھریلا، غیر ہموار اور سنسان راستہ طے کرتے ہوئے پاکستانی سرحدی قصبہ مند پہنچے۔ یہاں ایک کچے پکے ہوٹل میں قیام کیا۔
یہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ ہم نے ایران کی ڈنکی لگانی ہے اور لفظ ڈنکی دہائیوں قبل گدھوں پر سوار ہو کر بارڈر کراس کرنے سے ماخوذ ہے نیز سمگلنگ کا سامان بھی گدھوں کے ذریعے ہی ادھر ادھر آتا جاتا تھا۔
اسی نسبت سے سامان یا انسانی سمگلر کو بھی ڈنکر کہا جاتا ہے۔
مند میں انتہائی قیمتی گاڑیاں بیسیوں کی تعداد میں بغیر نمبر پلیٹ کے وہاں کے مقامی لوگوں کے زیر استعمال تھیں چند دکانوں پر ایرانی مصنوعات کولڈ ڈرنکس، کمبل وغیرہ موجود تھے بلکہ زیادہ تر اشیاء ایرانی ہی تھیں۔ استفسار پر پتہ چلا کہ یہ علاقہ، علاقہ غیر ہی تصور ہوتا ہے یہاں سمگل اور پاکستان بھر سے چوری شدہ گاڑیاں بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے بہ آسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ یہاں ہم نے کرنسی بھی چینج کروائی، بعد میں میرے دوست نے بتایا کہ یہاں پاکستانی قانون کی عملداری فقط برائے نام ہے بجلی کے بل ادا کرنا تو دور جاری ہی نہیں ہوتے، سرعام کنڈیاں ڈال کر بجلی حاصل کی جاتی ہے، یہاں کے مقامیوں کا روزگار دو طرفہ سمگلنگ سے وابستہ ہے۔ ایرانی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ ہمہ قسم اشیاء سمگل ہوتی ہیں۔
وہاں سے ہم نے ایک ایجنٹ (ڈنکر) سے معاملات طے کیے ۔ دو گھنٹے بعد ہم 18 افراد ایک سنگل کیبن ٹویوٹا جو ڈنکی لگانے والے لوگوں کے بیگز سے بھرا ہوا تھا پر پھنس پھنسا کر سوار ہوئے۔
اب ہم نے سامان کے اوپر بیٹھ کر اونچے نیچے پتھریلے راستے پر دو طرفہ فوج کی نظر بچا کر بارڈر پار کرنا تھا دوسرا یہ کہ راستے میں ڈاکوؤں کا خطرہ بھی موجود تھا جو بحری قزاقوں کی طرح مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے تھے پہلے تو میں پریشان ہوا مگر نوجوانی اور ایڈونچر کا شوق غالب آیا اور ہم 18 افراد سنگل کیبن میں بھیڑ بکریوں کی طرح سوار ہو گئے دوست سے پتہ چلا کہ تین سے چار گھنٹے کا سفر ہے۔ بہرحال ہمارے ایجنٹ نے اردو اور بعد ازاں بلوچی میں ہمیں ہدایات دیں کہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھیں جس چیز کو مرضی پکڑیں مگر اپنی گرفت مضبوط رکھیں اگر کوئی بندہ گر گیا تو بھی گاڑی رکے گی نہیں اگر گاڑی پر کہیں سے فائرنگ ہوئی تو آپ فیصلہ لینے میں آزاد ہیں گاڑی سے کود جائیں یا گاڑی میں موجود رہیں ہم آپ کو بحفاظت پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
خیر یہ سب تو ایک بہت لمبی کہانی ہے مختصراً یہ کہ ان دیگر نوجوانوں سے بعد میں تفصیلی گپ شپ اور انکشافات نے مجھے متحیر کر دیا کہ بیشتر نوجوان عازم یورپ ہونے کے متمنی تھے۔ کوئی اٹلی جا رہا تھا تو کسی کی منزل جرمنی اور فرانس تھے۔ ما بے دولت حیرت اور استعجاب کے عالم میں بے ہوش ہوا چاہتے تھے۔ وہیں مجھے ڈنکی کی اصطلاح کا مزید یہ پتہ چلا کہ ان نوجوانوں کے الفاظ میں وہ یورپ کی ڈنکی لگا رہے تھے۔ زیادہ تر نوجوان منڈی بہاؤ الدین، گجرات، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد کے تھے دو افغانی بھی موجود تھے مزید معلومات ان سے یہ ملیں کہ ایجنٹ انہیں اس وقت کے سکہ رائج الوقت 8 ہزار روپے پاکستانی میں تہران پہنچائے گا، وہاں سے دوسرا ایجنٹ انہیں تبریز اور بعض ازاں ترکی کی سرحد کے پاس شہر ارومیہ پہنچائے گا جہاں سے چند گھنٹوں کی پیدل مسافت سے وہ ترکی میں داخل ہو جائیں گے۔ ترکی کے سرحدی شہر سے ہوتے ہوئے استنبول تک پہنچنے تک کا کل خرچہ اس وقت پاکستانی تقریباً 50 سے 60 ہزار روپے تھا نیز اس دوران تین سے چار ایجنٹ بھی بدلی ہوتے ہیں۔
بظاہر تو یہ سب کچھ آسان نظر آ رہا تھا مگر مند سے ایران کی بارڈر کراسنگ، سفر کے پر ہیبت، ہولناک اور خطرناک راستے، سرحدی فوجیوں کی فائرنگ اور ڈاکوں کے خدشات سے گزرنے کے بعد جب ایران کے سرحدی شہر ”ایران شہر“ پہنچے کہ جہاں ہمارا کچھ عرصہ مستقل قیام رہا تو یورپ کی ڈنکی کے مراحل کی مشکلات کا کافی اندازہ ہو چکا تھا۔
(جاری ہے )
( نوٹ ) سفرنامہ ایران ”مشاہدات ایران“ سے مقتبس


