ملک احمد خان۔ چند یادیں


انسان کی زندگی میں کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کی مادی خواہشات سے بالاتر ہوتے ہیں ان میں کوئی بناوٹ، تکلف یا کوئی غرض نہیں ہوتی اور یہ کسی بھی قسم کی مفاداتی وابستگی چاہے وہ سیاسی پسند نا پسند ہی کیوں نہ ہو اس سے مبرا ہوتے ہیں۔ ایسے تعلقات کے متعلق لکھنا بھی بڑا مشکل ہوتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا لفظ نہ لکھ دیا جائے جس سے ان تعلقات میں ہلکی سی دراڑ بھی آنے کا شبہ ہو کیونکہ یہ بے لوث رشتہ دنیاوی تعلق سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔

دوستوں کی تعریف لکھنا واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور دوست بھی ایسے جن کے ساتھ آپ کا بچپن گزرا ہو۔ دوست کا لفظ تو بڑا سادہ سا لگتا ہے مگر یہ چھوٹا سا لفظ اپنے اندر ایک جہان سموئے ہوئے ہے۔ بے تکلفی اور بے فکری کا جو تعلق بچپن میں پروان چڑھتا ہے وہ شاید بچپن کے دوستوں کو کبھی بڑا نہیں ہونے دیتا، زندگی کے جس موڑ اور عمر کے جس حصے میں بھی پرانے سنگی بیلیوں کی ملاقات ہوتی ہے تو وہ ملاقات انتہائی بے تکلف ہوتی ہے چونکہ بچپن میں جس بے تکلفی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ عمر بھر دوستوں کے ساتھ چلتا ہے۔

اسی لئے زندگی میں دوست کی اہمیت اور افادیت کے متعلق بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے۔ میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ لاہور میں مجھے اپنے وقت کی بہترین درس گاہ ڈویژنل پبلک سکول ماڈل ٹاؤن میں پڑھنے اور ہوسٹل میں رہنے کا موقع ملا۔ عبدالعلیم قریشی ہمارے پرنسپل تھے اور ہوسٹل کے سدا بہار وارڈن جنہیں دنیا جی ایم ملک کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ملک صاحب کا تعلق ضلع میانوالی سے تھا اور وہ وکھری ٹائپ کے وارڈن اور استاد تھے۔

وہ اپنے ہوسٹل کے بچوں سے بے انتہاء لاڈ پیار بھی کرتے تھے لیکن اس لاڈ پیار کے ساتھ ان کی تعلیم پر کڑی نگاہ بھی رکھتے تھے ڈسپلن پر سمجھوتے پر وہ کبھی قائل نہیں ہوتے تھے اور اس زمانے میں پنجاب کے بڑے بڑے رؤسا، شرفاء اور سیاستدانوں کے لاڈ پیار سے بگڑے بچے ڈویژنل پبلک سکول کے ہوسٹل میں مقیم ہوتے تھے ان میں سے بیشتر کا شمار آج ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس میں ہوتا ہے۔ پنجاب کے موجودہ چیف سیکٹری بھی ہمارے سینئر تھے۔

ہوسٹل میں سینئر کو بھیا کے نام سے پکارا جاتا تھا اور آج بھی جب ہم کسی سینئر کو ملتے ہیں تو بھیا کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ ہوسٹل میں بچوں سے والدین کی ملاقات کے لئے ہفتہ اور اتوار کا دن مقرر تھا اور پندرہ دن کے بعد دو روز کے لئے گھر جا نے کی اجازت ہوتی تھی جی ایم ملک صاحب اس معاملے میں بڑی سختی کرتے تھے اور چاہے کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت آجاتی وہ اپنے بیٹے سے بغیر وقت کے ملاقات نہیں کر سکتی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ اس سرکاری درسگاہ کا معیار تعلیم بہت بلند تھا۔

میرا یہ تجربہ ہے کہ جو دوستیاں ہوسٹل میں رہنے والے بچوں کے درمیان گزرتے وقت کے ساتھ پنپتی ہیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے دوست ہوتے ہیں اور ہوسٹل کی دوستیاں تو رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں کہ ہر وقت دکھ سکھ کا ساتھ ہوتا ہے۔ پینتیس برس کی ایک طویل مدت بیت گئی ہے مگر جو تعلق ڈویژنل پبلک سکول کے اقبال ہاؤس ہوسٹل سے شروع ہوا تھا اس کی تازگی آج بھی برقرار ہے تعلیمی میدان سے عملی زندگی کا سفر بڑھاپے کی جانب بڑھ رہا ہے مگر ہوسٹل کے دوست جب ملتے ہیں تو وہ پرانی بے تکلفی عود کر آتی ہے اور وہ مخصوص نام بے ساختہ زبان پر آ جاتے ہیں جن سے ہوسٹل میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے تھے۔ دوستوں احباب کی شکل و شبہات پر وقت نے اپنے اثرات ضرور چھوڑے ہیں لیکن دل آج بھی جوان ہیں اور پرانے دوستوں کے لئے وہی وارفتگی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

میرے کالم کی تمہید بہت طویل ہو گئی ہے اس کی وجہ پرانی یادیں در آئی ہیں حالانکہ میں کالم کا آغاز ہی ملک احمد خان کے نام سے کرنا چاہتا تھا جو آج سپیکر پنجاب اسمبلی کے آئینی عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔ احمد خان ایچی سن کالج سے ڈویژنل پبلک سکول میں آٹھویں جماعت میں شفٹ ہوئے اور میرے ہم جماعت ہونے کے ساتھ ہوسٹل میں ہم کمرہ بھی ٹھہرے۔ ہنستے مسکراتے احمد خان کے چہرے پر اس وقت بھی ایسی مسکراہٹ رہتی تھی جیسی آج ہوتی ہے۔

اس زمانے میں ان کے والد ملک محمد علی کھائی ڈپٹی چیئرمین سینٹ تھے لیکن مجال ہے کہ احمد خان نے کبھی کوئی خودنمائی یا خود ستائش کی ہو وہ نمود و نمائش کے قائل ہر گز نہیں تھے البتہ ہمیں ہوسٹل کی کینٹین سے خوب کھلاتے پلاتے تھے۔ ہمارا ساتھ ایسا ہی تھا جیسے ہوسٹل کے دیرینہ دوستوں کا ہوتا ہے اور ملک صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ میں بھی وہ ہمارے شریک کار ہوتے تھے۔ ہوسٹل میں فرصت کے لمحات بہت ہوتے ہیں وقت سے بے نیاز ہو کر شرارتیں اور گپ شپ خوب چلتی ہے ملک احمد خان کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے نام سے پہچانے جائیں اور وقت نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی ہے۔

لندن سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے حلقے کی سیاست میں بھر پور حصہ لینا شروع کر دیا انہوں نے اپنے آبائی علاقے قصور سے راولپنڈی تک قربت کا طویل سفر بڑی تیزی سے طے کیا ہے۔ وہ اپنی شائستہ اور مدلل گفتگو سے نہ صرف اہل سیاست بلکہ ملک کی مقتدرہ کے بھی پسندیدہ ٹھہرے اور اس قربت داری کی وجہ سے انہوں نے ملکی سیاست میں فعال اور اہم کردار ادا کیا۔ ان کی صلح جو اور نرم خو شخصیت نے سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بھی بہت کم وقت میں اپنا مقام بنا لیا۔

ان کے پس پردہ بھر پور سیاسی کردار نے ملکی سیاست میں استحکام لانے اور فریقین کی رقابتوں کو سیاسی قربتوں میں بدل ڈالا۔ آج وہ ایک ایسے آئینی منصب پر متمکن ہو چکے ہیں جہاں پر دوسرے صوبوں کے برعکس ان کو ایک تگڑی اپوزیشن کا سامنا کرنا ہو گا ایک منہ زور تگڑی اپوزیشن کی موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلانا ان کی فہم و فراست اور دانشمندی کا کڑا امتحان ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ ملک احمد خان اس اہم ذمہ داری سے بھی کامیابی سے سرخ رو

ہوں گے کیونکہ جس ہنستے مسکراتے احمد خان کو میں جانتا ہوں وہ کسی بھی سیاسی مخالف کے دل میں اپنی جگہ بنانا جانتا ہے اور دوستی نبھانے کا فن اس میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ملک احمد خان کا بطور سپیکر انتخاب پنجاب اسمبلی کے لئے ایک نعمت مرقبہ سے کم ہر گز نہیں ہے۔ توقع یہ کی جا رہی ہے کہ ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے وہ اپنی اعلیٰ قانونی تعلیمی قابلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے دوستوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ ہم پرانے دوست ان کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

Facebook Comments HS