ریسکیو 1122کے زندگیاں بچانے والے مسیحا
کچھ عرصہ پہلے میرے ایک قریبی عزیز کو سر شام قدرے غیر آباد راستے میں چند آوارہ اور مسلح لڑکوں نے واردات کے دوران ریوالور کے بٹ مار کر شدید زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ میرا عزیز اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا اس نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے ریسکیو 1122 پر مدد اور طبی امداد کے لئے اپنے موبائل فون جو کہ خوش قسمتی سے ان جرائم پیشہ اناڑی لڑکوں کے ہاتھ نہیں لگ سکا تھا کال کی جو فوراً موقع پر پہنچ گئی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں اسے قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔
یوں ریسکیو 1122 کی بدولت بروقت طبی امداد اور ریسکیو ملنے سے وہ جلد صحتیاب ہو گیا۔ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 کے نتیجے میں بننے والا یہ ادارہ پنجاب بھر میں 1,44,09,956 سے زائد ریسکیو آپریشنز کے ذریعے متاثرین کو زیادہ سے زیادہ سات منٹ میں مدد پہنچا چکا ہے جن میں روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹس میں 39,17,121، میڈیکل ایمرجنسیز کی مد میں 71,05,127، فائر ایمرجنسیز میں 225711، کرائم کے واقعات میں 377054، عمارتیں گرنے کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں 12003 اور ڈوبنے کے واقعات میں 17339 ریسکیو آپریشنز کیے گئے ہیں اور اس طرح لاکھوں لوگوں کی جانوں کو محفوظ کیا گیا۔
ان آپریشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 642 ارب روپے کا نقصان ہونے سے بچایا گیا ہے۔ ادارے کے زیر انتظام ریسکیو اکیڈمی اب تک چوبیس ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو ٹریننگ دے چکی ہے۔ ریسکیو 1122 پاکستان کے چند شاندار اداروں میں سے ہے جس کی خدمات پر لوگوں کو بھرپور اعتماد ہے۔ یہاں تک کہ سروس کا استعمال کرنے والے کو فون یا میسج کر کے سروس بروقت پہنچنے کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔ میں نے آج تک اس ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں کبھی منفی رائے نہیں سنی۔
بلکہ اکثر یہی کہا جاتا ہے کہ 1122 کا عملہ لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرتا ہے اور انسانیت کے ناتے عملے کے لڑکے بسا اوقات وہ کام بھی کرتے ہیں جو ان کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہوتے۔ شاید یہ ان کی شاندار ٹریننگ کا حصہ ہے کہ ان کو صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت کرنا سکھایا جاتا ہے جس کا کریڈٹ یقیناً ادارے کے بانی ڈی جی ڈاکٹر رضوان نصیر اور ایڈمنسٹریٹر ایمرجنسی سروسز اکیڈمی اور تمام متعلقہ افسران کو جاتا ہے جنھوں نے ان لڑکوں کو جدید ترین انداز میں تربیت دی اور ان میں لوگوں کی خدمت کے جذبات کو ابھارا ہے، یہی وجہ ہے کہ وقت آنے پر ریسکیو کا عملہ نہ تو گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی کام چوری کرتا یا بہانے بناتا نظر آتا ہے بلکہ متاثرین کو فرسٹ ایڈ اور ریسکیو کی بہترین خدمات فراہم کرتا ہے۔
کاش ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر سٹاف کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی بھی ایسی تربیت کی جا سکے کہ وہ بھی غریب مریضوں اور عوام کی اسی جذبے سے خدمت کریں اور ان کی دعائیں سمیٹیں اور صحیح معنوں میں پبلک سرونٹ ہونے کا حق ادا کریں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات میں دوران تعلیم ہمیں ایم اے کا امتحان پاس کرنے کے لئے جو فائنل پراجیکٹ بنانا تھا اس کے لئے میرے گروپ کے طلباء نے متفقہ طور پر ریسکیو 1122 کا انتخاب کیا اور اس پراجیکٹ کے حوالے سے محکمے کے تمام افسران نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔
ایمرجنسی کے شعبے میں خدمات کے حوالے سے بجا طور پر 1122 کو پاکستانی عوام کے لئے ایک بین الاقوامی سطح کی سروس شمار کیا جا سکتا ہے جس کی خدمات کے دائرہ کار میں دن بدن وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس میں ڈاکٹر رضوان نصیر کی تخلیقی صلاحیتوں کا بہت عمل دخل رہا ہے وگرنہ ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ پاکستان میں کسی درست کام کے لئے درست شخص کا انتخاب کیا جائے۔ حد تو یہ ہے کہ انجینئرنگ پاس سی ایس پی سول سرونٹ کو اس کے متعلقہ شعبہ میں کبھی تعینات نہیں کیا جاتا اور ایم بی بی ایس کو کبھی صحت کے شعبے میں پوسٹنگ نہیں ملتی اور اسی طرح ہی دیگر پروفیشنل کوالیفیکیشن کے حامل افسران کے ساتھ ہوتا ہے۔
اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ ڈاکٹر رضوان پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں یا ایم بی بی ایس۔ بہر حال دونوں صورتوں میں انھوں نے ایک ویژنری افسر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس طرح دیگر افسران کو بھی ان کے مزاج اور رجحان کے موافق اداروں میں واضح مینڈیٹ اور اختیار کے ساتھ ذمہ داریاں سونپی جائیں تو یقیناً معجزے رونما ہو سکتے ہیں جبکہ اس وقت حالت یہ ہے کہ چند ایک اداروں کو چھوڑ کر کوئی ایسا سرکاری ادارہ نہیں جہاں عوام اپنے جائز اور روزمرہ کاموں کے لئے خوار نہ ہوتی ہو۔لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ تمام سرکاری اداروں کے اہلکاروں کو عوام دوست رویہ اپنانے کے لئے ان کی تربیت (Capacity building) کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کام یا تو اثر و رسوخ یا پھر رشوت کے بل بوتے پر ہوتے ہیں۔ بہرحال پنجاب میں چودھری شجاعت الٰہی اور پرویز الٰہی کے دور حکومت اور ان کی ذاتی سرپرستی میں لگایا گیا یہ پودا اتنا ور درخت بن چکا ہے کہ اس کی افادیت کے پیش نظر اب اس درخت کی شاخیں تمام صوبوں اور ریجنز میں بھی پھیل چکی ہیں اور وہاں بھی ریسکیو سروسز کا آغاز ہو چکا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ ادارے کی کارکردگی اور ریسکیو عملے کی خدمات جس میں اپنی جان تک کا بھی خطرہ ہوتا ہے اور جو مسلسل ریسکیو آپریشنز میں مصروف رہتے ہیں کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے ان کو تنخواہ کی مد میں کیا مراعاتی پیکج دیا ہے لیکن اگر سپیشل پے سکیل لینے والے بہت سے دیگر اداروں کی طرح اس ادارے کے ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لئے انھیں بھی یہ پیکج دیا جائے تو ایسا حق بجانب ہے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق بجا طور پر یہ ڈیپارٹمنٹ نہ صرف ملک کے دوسرے صوبوں بلکہ سارک ممالک کے لئے بھی رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ادارے کے شاندار کاموں میں سے ایک ریسکیو کے حوالے سے ضروری لٹریچر کی اشاعت ہے جس میں ریسکیو کے حوالے سے کمیونٹی کی آگاہی، فرسٹ ریسپونڈرز کے بارے میں معلومات، ابتدائی طبی امداد کے اصول اور حادثاتی اقدامات کے حوالے سے مختلف کتابچے اور پمفلٹ چھاپے گئے ہیں۔ جبکہ پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے اور ریسکیو کے بارے میں طلباء و طالبات کو ضروری تربیت بھی دی گئی ہے۔ ریسکیو 1122 پنجاب نے ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں میں بھی اپنی خدمات کا دائرہ کار بڑھایا ہے اور خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان، کراچی اور آزاد جموں و کشمیر کی مقامی حکومتوں کو ادارے کے قیام کے سلسلے میں تکنیکی اور تربیتی معاونت فراہم کی ہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں یہ ادارہ اپنے تجربے اور پروفیشنل ازم کی بنیاد پر دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی خدمات پیش کر کے پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ انسانی خدمات کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی سروس ریسکیو 1122 کو اپنے قیام سے اب تک تمام حکومتوں نے سپورٹ کیا ہے اور موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اس ادارے کی ترقی و تعمیر میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ادارے کو مزید جدید سطور پر استوار کریں گے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ریسکیو 1122 ادارے کا تربیت یافتہ عملہ لوگوں کی زندگیاں بچانے والے مسیحا بن کر ایمرجنسی مینجمنٹ کی تمام مہارتوں کو برؤئے کار لاتے ہوئے پوری تندہی سے اپنے ہم وطنوں کی خدمت بجا لاتے ہوئے ان کی دعائیں سمیٹتے رہیں گے۔


