گوادر میں حالیہ بارشوں سے تباہی
رئیل اسٹیٹ ایجنسیاں جب گوادر میں اپنے اپنے پروجیکٹوں کی تشہیر ٹی وی پر کرتی تھیں تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی پاکستانی شہر کی نہیں بلکہ باہر کسی اور ملک کی مناظر ہیں۔ لوگ گوادر کو دبئی سمجھنے لگے۔ لیکن جب انہوں نے گوادر میں آ کر زمینی حقائق دیکھے، تب انہیں پتہ چلا کہ ایسا کچھ نہیں جو ٹی وی میں اشتہار کی صورت میں دکھایا جاتا ہے۔
27 فروری کی صبح سے شروع ہونے والی بارشوں نے جو قریبا 187 ملی میٹر تک ہوئیں ان حالیہ بارشوں نے سی پیک کے جھومر کی ترقیاتی کاموں کا پول کھول دیا۔ گوادر شہر کی بات کی جائے تو ڈھور جو کہ گوادر شہر سے متصلہ ہے۔ اور جب آپ کراچی سے گوادر شہر میں داخل ہوتے ہیں، سب سے پہلے گوادر شہر کا حصہ ڈھور آتا ہے۔ ڈھور میں حالیہ بارشوں نے تباہی مچائی ہے۔ لوگوں کے دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہو گئی ہے۔ ڈھور سے آگے قندیل چوک، طاہری پلازہ، بلوچ پاڑہ، ٹی ٹی سی کالونی، ظہور شاہ واڑ، ملا موسی موڈ تک یہی حال ہے۔
حالیہ ترقیاتی کاموں میں جو نکاسی آب کا سسٹم بنا گیا، وہ سسٹم پانی نکالنے میں سراسر ناکام ہوا۔ سربندر جو گوادر کا نواحی بستی ہے۔ گوادر کے حالیہ منتخب نمائندہ مولانا ہدایت الرحمان کا آبائی گھروہی ہے۔ ان کی رہائش اب بھی وہی ہے، وہاں پر بھی بارشوں کی وجہ سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں۔ سربندر سے آگے گوادر کی جانب شنکانی در میں بھی بارشوں سے مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ گوادر سے آگے مغرب کی جانب پیشکان میں حالیہ بارشوں نے تبا ہی مچائی ہے۔
پیشکان میں بہت سارے چار دیواری اور مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ مزید مغرب کی جانب گنز میں بھی یہی صورتحال ہے۔ جیونی جہاں مشرقی جانب کھیت، اور مغربی جانب سمندر ہے۔ کھیتوں کی جانب دو بڑے بند ٹوٹ گئے ہیں۔ پہلے زمانے میں آب نوشی کے لئے یہ بند بنائے گئے تھے اور اب بھی قلت آب کی وجہ سے ان بندات کے پانی سے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ یہ پانی جب بندوں کے ٹوٹنے سے سمندر کی جانب چلی گئی، سمندر کنارے پر موجود سینکڑوں کی تعداد میں اسپیڈ بوٹ، ان کے اندر جالوں اور اسپیڈ بوٹ میں موجود انجنوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔
الحمدللہ پورے علاقے میں جانی نقصانات نہیں ہوئے۔ لیکن مالی نقصانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ ان حالیہ بارشوں کی وجہ سے پورے علاقے میں کروڑوں کے نقصانات ہوئے ہیں۔ غریب لوگ جو کچے مکانات میں رہتے ہیں۔ وہ قابل رحم ہیں۔ ان کے گھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ گھروں میں بارشوں کا پانی آنے سے رہائش میں مشکلات ہیں۔
پاکستان میں چھوٹے اور بڑے شہروں میں نکاسی آب کا نظام ہمیشہ مشکلات کا شکار رہا ہے۔ بارش زیادہ ہو یا کم سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ نکاسی کی نالیاں یا تو موجود نہیں ہوتے۔ یا ان میں اتنی گندگی ڈالی جاتی ہے کہ یہ نالیاں بند ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ ایک جگہ کا المیہ نہیں۔ پورے پاکستان میں یہی صورتحال ہے۔
گوادر جو کہ سی پیک کا مرکزی شہر ہے، ان بارشوں کے بعد مستقبل کی دبئی کے حالات مخدوش ہیں۔ ہمیں حیرانی ہوتی ہے جب حکمران طبقہ کروڑوں کی ترقیاتی کا موں کی بات کرتا ہے اور جب آپ زمینی حقائق کی طرف آتے ہیں تو ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا، جسے معلوم ہو کہ واقع کروڑوں کی ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ گوادر کی حالیہ بارشوں میں متاثر لوگوں کی میرٹ پر مدد ہونی چاہیے۔ اب ان طوفانی بارشوں کے بعد فوٹو سیشن کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ معلوم نہیں کہ لوگوں کی کیا مدد کی جائے گی البتہ سیاسی لوگ اپنی سیاست چمکانے کے لئے آمادہ ہیں۔
آخر میں گوادر کا ایک محلہ جو ملا موسی موڈ کے حالیہ بارشوں کے بعد ایک منظر پیش کر رہا ہے، ایک رپوٹ کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ ملا موسی موڑ سے منسلک گھروں کی جو حالت ہے اس کو دیکھ کر سنگ دل سے سنگ دل ترین انسان بھی رونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے گھروں میں چار، پانچ فٹ پانی جمع ہے، ان کے جتنے بھی اوڑھنے اور بچھونے کے بستر کمبل وغیرہ تھے وہ پانی میں گیلے ہوچکے ہیں، برتن وغیرہ بھی پانی میں ڈوب چکے ہیں، اب یہ لوگ تو دوسرے جگہوں پر منتقل ہوچکے ہیں مگر صرف رات کے لیے (کیونکہ دن کے اوقات میں تو یہ سارے اپنے گھروں میں پانی نکالنے کا کام کرتے ہیں ) رات کے اوقات میں انھیں نہ تو اوڑھنے بچھونے کے لئے بستر دستیاب ہیں اور نہ ہی کھانا بنانے کے لیے برتن ہیں، ویسے برتن اگر موجود ہوں بھی تو ان کے لئے پکانے کو بچا ہی کیا ہے؟ کیونکہ اگر کسی کے پاس تھوڑا بہت راشن موجود بھی تھا تو وہ بھی پانی میں ضائع ہوچکا ہے۔
بادل اب بھی گوادر میں موجود ہیں۔ اور محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارش کے امکانات ہیں۔


