حلوہ۔ سر تن سے جدا


حلوہ کا جلوہ تو سب نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کیسے ملا حلوہ لکھا دیکھ کر آپے سے باہر ہو گئے، پاکستان میں سوجی، گاجر، بیسن، پیٹھا، دال و دیگر اشیاء سے بنائے گئے میٹھے کو حلوہ کہا جاتا ہے، پاکستان میں حلوہ ملا کی مرغوب غذا ہے، زمانہ قریب میں یا شاید موجودہ دور میں بھی مسلمان اپنے عزیزواقارب کی روح کے ایصال ثواب کے لئے روٹی اور حلوے پر ختم دے کر اسے مسجد کے ملا کو بھیج دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ملا ہر وقت مسجد میں عبادت الہی میں مشغول ہوتا ہے اس لئے نیک آدمی کو کھانا اور حلوہ کھلایا جائے جس سے ثواب برق رفتاری سے مرحوم کی روح کو پہنچ جائے گا، 25 فروری کو لاہور کے اچھرہ بازار میں ”حلوہ“ کا واقعہ پیش آیا وہ سب نے سوشل میڈیا پر دیکھ بھی لیا اور سن بھی لیا (حلوہ کا واقعہ اس لئے لکھا کہ عورت کی مزید تضحیک نہ ہو)

حلوہ واقعہ کی بہت سی ویڈیو دیکھی ہیں، ایک ویڈیو دیکھ کر دل بہت گرفتہ ہو گیا، اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون سہمی ہوئی منہ کو اپنے ہاتھوں میں چھپا کر کرسی پر بیٹھی ہے تو ایک قبیح آواز ویڈیو میں سنائی دیتی ہے ”اٹھ نی کھڑی ہو توہین نہ کر “ (اٹھ او، کھڑی ہو، توہین نہ کر) یہ سن کر خاتون فوراً کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوجاتی ہے اس کے ساتھ ہی ایک اور آواز سنائی دیتی ہے ”ساڈا اسلام خطرے چ اے“ (ہمارا اسلام خطرے میں ہے) یعنی ہمارے ہاں ہر ایک کا اپنا اپنا اسلام ہے، ان عقل کے اندھوں کو علم ہی نہیں کہ کیلی گرافی کس بلا کا نام ہے جس کا توہین سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں

ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر جو جو فوائد اٹھائے گئے ہیں ان سے تاریخ بھری پڑی ہے، ملا جو کہ جمعرات کی روٹی پر پلتے تھے وہ آج کروڑوں کی گاڑیوں اور کروڑوں کے بنگلوں کے مالک بن گئے ہیں اور ان کے پیروکار اب بھی بھوک اور افلاس میں مبتلا ہیں، انہی ملاؤں کی وجہ سے بہت سے قصے بھی مشہور ہیں، ایک قصہ بچپن میں سنا تھا کہ دو دیہاتی (پینڈو) پہلی بار لاہور دیکھنے آئے، ریلوے سٹیشن پر اتر کو انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں الگ الگ سمت جاتے ہیں اور لاہور کی سیر کرتے ہیں، تاریخی عمارات دیکھتے ہیں اور گاؤں والوں کو بتائیں گے کہ ہم نے سارا لاہور دیکھ لیا ہے

ایک ریلوے سٹیشن کے دائیں اور دوسرا بائیں جانب چلا جاتا ہے اور فیصلہ کرتے کہ واپسی پر اسی جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے گاؤں روانہ ہو جائیں گے، ایک تھوڑی دور جاتا ہے تو اسے رفع حاجت ہوجاتی ہے وہ قریبی ایک بیت الخلاء جاتا ہے اور فارغ ہو کر باہر آتا ہے تو ٹھگ دیکھ کر اسے پکڑ لیتا ہے اور پچاس روپے کا مطالبہ کرتا ہے (لاہوری ٹھگوں کے بھی بہت سے قصے ہیں ) ، وہ پینڈو حیران ہو کر کہتا ہے کہ پچاس روپے تو بہت زیادہ ہیں (اس دور میں ایک یا دو روپے فیس ہوتی تھی) تو ٹھگ جواب دیتا ہے کہ یہ لاہور شہر ہے کوئی تمھارا دیہات نہیں کہ کھیتوں میں جہاں مرضی فارغ ہو جاؤ، دیکھا نہیں کہ چینی کے مہنگے برتن لگے ہیں، مجبوراً دیہاتی اسے پچاس روپے دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ رفع حاجت کے پچاس روپے ہیں تو سیر کرنا کتنا مہنگا ہو گا وہ حساب کرتا ہے کہ اس طرح تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں بچے گا

وہ دیہاتی وہیں سے واپس آ کر ریلوے سٹیشن بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ساتھی کا انتظار کرنے لگتا ہے، شام کو دوسرا دیہاتی واپس آتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سناؤ کہاں کہاں گئے تو پہلے والا جو ٹھگ سے لٹ چکا ہوتا ہے کہتا کہ پہلے تم بتاؤ جس پر دوسرا دیہاتی بتاتا ہے کہ اس نے بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ، مینار پاکستان، مزار اقبال و دیگر تاریخی مقامات دیکھے ہیں

پوری تفصیل بتانے کے بعد وہ پوچھتا ہے کہ تم بتاؤ کہ کہاں کہاں گئے تو پہلے والا شرمندہ ہوتا ہے اور اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے کہتا ہے کہ جا اوئے جہاں میں گیا ہوں تو تو وہاں گیا ہی نہیں، دوسرا پوچھتا ہے اچھا کہاں گئے تھے تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں بیت الخلاء گیا تھا تم گئے ہو؟ جس پر دوسرا دیہاتی جھک کر ادب سے جواب دیتا ہے ”ساڈی قسمت چ کتھے“ (ہماری قسمت میں کہاں)

کم عقلی اور جہالت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، کسی کو توہین کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا تو کسی کی بوٹیاں تک نوچ لی گئیں کسی نے بھی تحقیق کرنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی، سب اس موقع پر منصف بن کر سزا سنا دیتے ہیں، مذہب کے ٹھیکیدار توہین کا ایسا جواز بناتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے کہ جس جہالت کو ختم کرنے کے لئے ہمارے پیارے نبیﷺ نے اپنی سیرت اور حیات طیبہ کا عملی نمونہ بن کر تعلیمات دی تھیں ان کا اثر ان پر کچھ بھی نہیں ہوا

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں کئی افراد نے انہیں تکالیف پہنچائیں، پتھر برسائے، بوڑھی خاتون کوڑا پھینکا کرتی تھی، ایک دن جب اس نے کوڑا نہ پھینکا تو پوچھا کہ وہ بوڑھی خاتون کہا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ بیمار ہے جس پر آپ ﷺ اس کی عیادت کرنے گئے جس پر وہ خاتون آپﷺ پر ایمان لے آئی، ایک اور واقعہ ہے جس میں گستاخ شاعر آپﷺ کے حسن سلوک سے سچا عاشق رسول بن گیا تھا، حلوہ واقعہ پر کیا کسی بھی ملا یا پڑھ لکھے شخص نے آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا کہ اگر اس کے لباس پر شک تھا تو اس کو بیٹی کہہ کر پیار سے سمجھاتے اور اس کو چادر اوڑھنے کا مشورہ دیا ہوتا مگر ”ساڈا اسلام خطرے چ اے“

لاہور پولیس نے جنونیوں سے خاتون کی جان بچا کر بہترین کام کیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، اے ایس پی شہربانو نقوی نے جرات اور بہادری کی بہترین مثال قائم کی، یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں پولیس نے اپنے فرائض کو بہت احسن طریقے سے نبھایا، آپ وہ ویڈیو دوبارہ دیکھیں اور غور سے سنیں کہ جب اے ایس پی خاتون کو برقع اور دوپٹہ پہنا کر اپنی بانہوں کے حصار میں لے کر نکل رہی تھیں تو ایک آواز اور آتی ہے، سر تن سے جدا۔

ایسا ہی ایک واقعہ دہائیوں قبل رحیم یار خان کے خواجہ فرید ڈگری کالج کے پروفیسر کے ساتھ بھی پیش آیا تھا، کالج میں کلاس کے دوران سلیبس سے ہٹ کر کسی ایشو پر گفتگو ہو رہی تھی کہ پروفیسر نے ایک لفظ ڈکٹیٹر استعمال کیا بس پھر ساڈا اسلام خطرے میں پڑ گیا اور کالج میں ہنگامہ ہو گیا اگلے روز شہر میں ہنگامہ ہو گیا، اس وقت پولیس کے مشہور پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ رحیم یار خان کے ایس ایس پی تھے انہوں نے فوری طور پر انکوائری کی اور پروفیسر کو بے گناہ قرار دیدیا اور پروفیسر کو حراست میں لے لیا۔

اگلے روز عدالت میں پیش کیا تو باہر ہزاروں کا مجمع تھا وہ ”گستاخ“ پروفیسر کو انجام تک پہنچا کر اسلام کی خدمت کرنا چاہتے تھے مگر ذوالفقار چیمہ نے بالکل اچھرہ والے انداز میں پولیس کی حفاظت میں پروفیسر کو وہاں سے نکالا اور جیل منتقل کیا بعد میں معاملہ ٹھنڈا ہوا۔

ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں، بعض دانشور اور صاحب علم کو یہ بھی اعتراض ہے کہ خاتون نے ایسا لباس زیب تن کیوں کیا ہوا تھا جس سے اشتعال پیدا ہو، حضرت علی ؑ کا فرمان ہے کہ جاہل سے بحث نہ کرو کیونکہ جب اس کے پاس دلیل نہیں ہوگی تو وہ تمھارا دشمن بن جائے گا، اب لباس میں کچھ قابل اعتراض تھا ہی نہیں تو اس پر اعتراض کیسا؟ ، نجانے نیٹ پر اس خاتون نے عربی ڈیزائنر سالک ریاض کا ڈیزائن دیکھ کر کہاں سے منگوایا اور کتنا مہنگا منگوایا ہو گا اور اسے کیا معلوم کہ وہ جہاں پہن کر جا رہی ہے وہاں جہالت اب بھی سڑکوں پر دندناتی پھر رہی ہے۔

اس واقعہ میں خاتون کی جان تو بچ گئی مگر کچھ دیر بعد ہی دل پھر دکھی ہو گیا جب ویڈیو دیکھی کہ وہی اے ایس پی شہر بانو نقوی پولیس کے غلیظ اور فرسودہ نظام کے سامنے بے بس ہو گئی اور اس بے گناہ اور معصوم خاتون کو ملاؤں کے درمیان بٹھا کر معافی مانگنے پر مجبور کیا، خاتون نے خود کو پکا مسلمان ثابت کرنے کے لئے یہ بھی بتایا کہ اس کے والد حافظ قرآن ہے اور وہ توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتی پھر بھی معافی مانگتی ہوں

یہ معافی عوام سے نہیں تھی، اس بیہودہ اور غلیظ نظام سے مانگی گئی جس کی دلدل میں ہم پھنس چکے ہیں، پولیس کا فرض تو یہ بنتا تھا کہ وہ خاتون پر جھوٹا الزام لگانے اور اسے ہراساں پر کرنے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے سخت ترین سزا دلا کر نشان عبرت بناتی مگر افسوس پولیس ان ملاؤں کے آگے بے بس اور مجبور ہی نظر آئی، آخر کب تک ہم اپنے مسلمان ہونے کا ملاؤں کو یقین دلاتے اور ثبوت دیتے رہیں گے

آخر میں ایک بات جو سب نے نظرانداز کی، میرا سلام ہے اس شخص پر جس نے خاتون کی جان بچانے کے لئے برقع اور دوپٹہ دیا اللہ تعالی اس کو اجر دے اور اس کی بہن، بیٹیوں کی عزت محفوظ رکھے

Facebook Comments HS