لوئیجی پیراندیلو کا افسانہ: مرتبان
”اب باہر نکلنے میں میری مدد کرو۔“ چاچا دیما نے آخر میں کہا۔
مگر گڑھا پیٹ سے جتنا کشادہ تھا، گردن سے اتنا ہی تنگ تھا۔ کسان نے خبردار کیا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے، لیکن چاچا دیما نے غصے میں توجہ نہیں دی تھی۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، مگر اسے باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملا۔ کسان اس کی مدد کرنے کے بجائے وہاں کھڑا قہقہوں سے دوہرا ہو رہا تھا۔ چچا دیما اسی مرتبان میں قید ہو گیا تھا۔ جس کی اس نے مرمت کی تھی۔ اب اس کے علاوہ کوئی حل نہ تھا کہ اسے نکالنے کے لیے مرتبان دوبارہ توڑا جائے۔ قہقہوں اور چیخوں نے ڈان لولو کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ چچا دیما مرتبان کے اندر کسی جنگلی بلی کی طرح بے چین تھا۔
”مجھے باہر نکالو!“ وہ چیخ رہا تھا۔ ”خدا کے لیے میری مدد کرو! میں باہر آنا چاہتا ہوں!“
ڈان لولو پہلے تو دنگ رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
”کیا مطلب؟ اس نے خود کو سی لیا؟ مرتبان کے اندر؟“
وہ مرتبان کے قریب پہنچا اور بوڑھے پر چیخا۔
”مدد؟ میں تمھاری مدد کیسے کر سکتا ہوں؟ بیوقوف آدمی! کیا تم نے پہلے پیمائش نہیں کی تھی؟ چلو دوبارہ کوشش کرو، ایک بازو باہر نکالو، اس طرح، اب سر، چلو، نہیں، ہرگز نہیں، تم نے یہ کیا کیا؟ اب مرتبان کا کیا ہو گا؟ رک جاؤ! رک جاؤ!“ وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کو تسلی دینے لگا، جیسے وہ خود نہیں، لوگ اپنا حوصلہ کھو رہے ہوں۔
”اوہ نہیں۔ میرا سر پھٹ رہا ہے! پرسکون رہو! یہ ایک نیا مقدمہ ہے! میرا خچر!“
اس نے اپنی انگلیوں سے مرتبان کو بجایا۔ اس سے واقعی گھنٹے جیسی آواز آئی۔
”بہت خوب! بالکل نئے کی طرح، انتظار کرو! میرے خچر پر کاٹھی ڈالو!“ اس نے کسان کو حکم دیا اور اپنی انگلیوں سے پیشانی کھجاتے ہوئے بڑبڑانے لگا۔ ”دیکھو میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ یہ مرتبان نہیں ہے، یہ جہنم کا آلہ ہے۔ رک جاؤ! روکو اسے!“
اور وہ مرتبان کو سنبھالنے کے لیے بھاگا جس میں چچا دیما جال میں پھنسے ہوئے جانور کی طرح لڑ رہا تھا۔
”میرے دوست! یہ ایک نیا مقدمہ ہے جو میرے وکیل کو سنبھالنا پڑے گا۔ مجھے خود پر بھروسا نہیں۔ میں ابھی واپس آتا ہوں، صبر کرو۔ یہ تمھارے مفاد میں بھی ہے۔ دریں اثنا پرسکون رہو! میں اپنے لوگوں کا خیال رکھتا ہوں، اور سب سے پہلے ایک منصفانہ دعویٰ کرنے کے لیے اپنا فرض ادا کرتا ہوں، اچھا میں تمہیں کام کی اجرت دے رہا ہوں۔ تین لیرے، کیا یہ کافی ہے؟“
”مجھے کچھ نہیں چاہیے!“ چاچا دیما چیخا۔ ”میں باہر نکلنا چاہتا ہوں!“
”تم باہر نکلو گے، لیکن پہلے میں تمہیں ادائیگی کر رہا ہوں۔ یہ تین لیرے لے لو۔“
اس نے اپنی صدری کی جیب سے لیرے نکال کر مرتبان میں ڈال دیے۔ پھر اس نے فکر مندی سے پوچھا۔ ”کیا تم نے کھانا کھایا؟ اسے فوراً کچھ کھانے کو دو! تمہیں نہیں چاہیے؟ اچھا کتوں کو دے دوں، مگر میں تمہیں دے رہا ہوں۔“
اس نے حکم دیا کہ بوڑھے کو کھانا دیا جائے، خچر پر کاٹھی باندھی جائے اور شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جن لوگوں نے اسے جاتے دیکھا ان کا خیال تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے، کیونکہ وہ خود سے باتیں کر رہا تھا اور عجیب انداز میں اشارے کر رہا تھا۔
خوش قسمتی سے اسے اپنے وکیل سے ملاقات کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا، لیکن جب اس نے وکیل کو تمام قصہ سنایا تو وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔ جس کے باعث اسے کافی دیر انتظار کرنا پڑا۔ اس ہنسی پر وہ الجھن کا شکار تھا۔
”معاف کیجئے گا۔ اس میں اتنی مضحکہ خیز بات کیا ہے؟ میں نے آپ کو کوئی گپ نہیں سنائی۔ وہ میرا مرتبان ہے۔“
لیکن وکیل ہنسی نہ روک سکا۔ وہ کہانی دوبارہ سننا چاہتا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ”ہاہاہا، اچھا اندر، وہ مرتبان میں پھنس گیا؟ ہاہاہا، ڈان لولو! وہ کیا سمجھ رہا تھا؟ ہاہاہا، ارے اسے وہیں رہنے دو۔ تاکہ تم مرتبان سے محروم نہ ہو جاؤ۔“
”کیا مجھے مرتبان کھونا پڑے گا؟“ زرافہ نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے پوچھا۔ ”میرے نقصان اور تکلیف کے بارے میں کیا خیال ہے؟“
”جانتے ہو اسے کیا کہتے ہیں؟“ وکیل نے پوچھا۔ ”اسے کہتے ہیں غیر قانونی قید۔“
”غیر قانونی قید؟ اسے کس نے قید کیا؟“ زرافہ نے پوچھا۔ ”اس نے خود کو قید کیا ہے۔ یہ میری غلطی نہیں ہے۔“
آخر وکیل اسے سمجھانے لگا کہ یہ دو دفعات ہیں۔ پہلی ڈان لولو، قیدی کو فوری طور پر رہا کرنے کا پابند ہے تاکہ ”غیر قانونی قید“ کے الزام کا ذمہ دار نہ ہو، دوسری بوڑھا اس نقصان کے لیے جوابدہ ہے جو وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی کمی اور اپنی لاپرواہی سے اسے پہنچا رہا ہے۔
”آہا۔“ زرافہ نے سکون کا سانس لیا۔ ”اسے مجھے مرتبان کا معاوضہ دینا ہو گا؟“
”ہاں، مگر نئے مرتبان کا نہیں۔ یہ یاد رکھو۔“ وکیل نے کہا۔
”کیوں؟“
”کیونکہ وہ ٹوٹ چکا ہے۔“
”نہیں جناب۔“ زرافہ نے اعتراض کیا۔ ”اب وہ نئے کی طرح ہے۔ بلکہ نئے سے بہتر، وہ خود کہتا ہے۔ اگر اسے دوبارہ توڑنا پڑے تو پھر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ضائع ہو جائے گا۔“
وکیل نے اسے سمجھایا کہ مرتبان کی موجودہ حالت دیکھ کر مالیت کا حساب لگایا جائے۔ اس نے مشورہ دیا۔ ”اس سے کہو کہ پہلے وہ خود تخمینہ لگائے۔“
”آپ کا بہت بہت شکریہ!“ ڈان لولو نے جلدی سے کہا۔
شام کو جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ مرتبان کے گرد تمام کسانوں نے محفل جما رکھی ہے۔ یہاں تک کہ چوکیدار بھی شریک ہے۔ چاچا دیما اس حد تک پرسکون ہو چکا تھا کہ وہ اپنی اس عجیب و غریب مہم جوئی سے لطف اندوز ہونے لگا تھا اور اس پس مردہ خوشی کے ساتھ ہنس رہا تھا جو اداس لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔
زرافہ نے سب کو ایک طرف دھکیلا اور مرتبان میں جھانک کر دیکھنے لگا۔
”تم ٹھیک ہو؟“
”زبردست ٹھنڈک ہے۔“ دیما نے جواب دیا۔ ”گھر سے بہتر ہے۔“
”یہ جان کر خوشی ہوئی۔ خیر میں تم کو مطلع کر رہا ہوں کہ جب یہ مرتبان نیا تھا تو اس کی قیمت چار اونزا تھی، اب تمھارے خیال میں اس کی قیمت کتنی ہوگی؟“
”مجھ سمیت؟“ چاچا دیما نے پوچھا۔
کسان زور سے ہنسے۔
”بکواس بند کرو!“ زرافہ چیخا۔ ”تمھارے پاس دو صورتیں تھیں یا تو سیمنٹ کام کرتا یا کام نہیں کرتا، اگر یہ کام نہیں کرتا تو تم ایک دھوکے باز ہو، اگر کام کرتا ہے تو اب مرتبان کی قیمت کیا ہونی چاہیے؟ تم فیصلہ کرو۔“
چاچا دیما نے کچھ دیر سوچا، پھر بولا۔ ”میرا خیال ہے کہ اگر آپ مجھے صرف سیمنٹ استعمال کرنے دیتے، جیسا کہ میں چاہتا تھا تو میں یہاں پھنستا ہی نہیں اور جار کی قیمت تقریباً پہلے جیسی ہوتی۔ لیکن آپ نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسے ٹانکے لگاؤں۔ اب اس کی قیمت ہوگی۔ اصل قیمت کا تیسرا حصہ، کم و بیش۔“
”یعنی ایک تہائی؟ زرافہ نے پوچھا۔“ ایک اونزا تینتیس؟ ”
”ہاں، تقریباً۔“
”ٹھیک ہے۔“ ڈان لولو نے کہا۔ ”میں اسے قبول کرتا ہوں، تم مجھے ایک اونزا اور تینتیس دے دو۔“
”کیا؟“ چاچا دیما نے یوں پوچھا جیسے وہ کچھ سمجھا نہ ہو۔
”میں تم کو باہر نکالنے کے لیے جار توڑ دوں گا، مگر میرے وکیل کے مطابق تمھیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ایک اونزا اور تینتیس۔“ ڈان لولو نے کہا۔
”میں ادا کروں گا؟“ چاچا دیما نے طنزاً کہا۔ ”تم مذاق کر رہے ہو! اس کے برعکس میں یہاں رہنے کو ترجیح دوں گا۔“
یہ کہہ کر اس نے اپنا پائپ نکالا اور اسے جلا کر تمباکو نوشی کرنے لگا۔ مرتبان کے منہ سے بدبودار تمباکو کے مرغولے اڑنے لگے۔
ڈان لولو جھنجھلا گیا۔ اس دوسرے امکان پر کہ چاچا دیما مرتبان سے باہر نکلنے سے انکار کر سکتا ہے، اس نے اور نہ ہی وکیل نے غور کیا تھا۔ اب وہ کیا کرے؟ وہ حکم دینے ہی والا تھا کہ دوبارہ خچر پر کاٹھی ڈالو، لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ اندھیرا چھا گیا ہے۔ اس نے خود کو روک لیا۔
”کیا مطلب؟ یعنی تم میرے مرتبان میں رہنا چاہتے ہو؟ یہاں موجود ہر شخص گواہ رہے! وہ باہر نکلنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر رہا، حالانکہ میں مرتبان توڑنے کے لیے تیار ہوں۔ چنانچہ کل میں اس پر نیا مقدمہ کرنے جا رہا ہوں کہ وہ مجھے اپنا مرتبان استعمال کرنے نہیں دے رہا۔“ اس نے کہا۔
چاچا دیما نے دھویں کا ایک اور مرغولہ اڑایا اور اطمینان سے بولا۔ ”نہیں جناب! میں آپ کو روکنا نہیں چاہتا، آپ کو لگتا ہے کہ میں یہاں رہنا چاہتا ہوں؟ مجھے باہر نکالیں، لیکن میں کچھ نہیں دوں گا۔“
ڈان لولو نے غصے سے بے قابو ہو کر اپنا پاؤں اٹھایا اور مرتبان کو لات مارنے ہی والا تھا، لیکن اس نے خود کو روک لیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے مرتبان پکڑا اور زور زور سے ہلانے لگا اور کانپتے ہوئے چیخا۔ ”تم کو جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ کس نے پیدا کیا، تم نے یا میں نے؟ تم چاہتے ہو کہ سارا نقصان میں اٹھاؤں؟ تم یہاں بھوک سے مر جاؤ گے؟ ہم دیکھیں گے کہ کون جیتتا ہے؟“
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ وہ تین لیرے بھول گیا تھا جو اس نے صبح مرتبان میں پھینکے تھے۔ چاچا دیما نے اس رقم سے کسانوں کے ساتھ محفل جمانے کا فیصلہ کیا جو اس عجیب واقعے کی وجہ سے وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ کھلیان کے صحن میں رت جگا منا رہے تھے۔ ان میں سے ایک مقامی سرائے میں خورد و نوش کا سامان خریدنے چلا گیا۔ آسمان پر چاند اتنا روشن تھا کہ دن کی روشنی محسوس ہو رہی تھی۔
رات کے کسی لمحے جب ڈان لولو بستر پر سو چکا تھا، اچانک ایک وحشیانہ دھما چوکڑی سے بیدار ہو گیا۔ اس نے فارم ہاؤس کی بالکونی سے دیکھا کہ آسمان پر چاند چمک رہا ہے اور کھلیان کے صحن میں شیطانوں کا ایک ٹولہ، شرابی کسان ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے مرتبان کے گرد ناچ رہے ہیں اور چچا دیما اندر پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے گا رہا ہے۔
اس بار ڈان لولو خود پر قابو کھو بیٹھا۔ وہ پاگل سانڈ کی طرح نیچے بھاگا اور اس سے پہلے کہ کسی کو اسے روکنے کا موقع ملتا۔ اس نے مرتبان کو زوردار دھکا دیا۔ مرتبان ڈھلوان پر گرا اور مے نوشوں کے قہقہوں کے درمیان لڑھکتے ہوئے زیتون کے درخت سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔
اس طرح چاچا دیما جیت گئے۔
ختم شد۔
1۔ ابیس۔ بڑی راہبہ۔
2۔ اونزا۔ ایک قدیم سکہ جو 18 ویں اور 19 ویں صدی میں سسلی میں گردش میں تھا۔
3۔ گودھولی۔ غروب آفتاب کے وقت اڑتی وہ دھول جو چراگاہوں سے پلٹتے مویشیوں کے کھروں سے اٹھے۔
( ”دی جار“ بیسویں صدی کے عظیم اطالوی ڈرامہ نگار اور افسانہ نویس نوبل انعام یافتہ ادیب لوئیجی پیراندیلو کی سب سے مشہور کہانیوں میں سے ایک ہے جو پہلی بار 1909 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ دو کرداروں کی کشیدگی کے گرد گھومتی ہے۔ ایک دولت مند اور جھگڑالو زمیندار ڈان لولو اور دوسرا چاچا دیما لاکاسی۔ کہانی میں مصنف نے پیش کردہ حرکیات کے ذریعے دیہاتی سماج کے کسان طبقے کی روزمرہ زندگی کی سرگرمیوں، پیچیدگیوں اور ثقافتی روایات کو خوب صورتی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ ایک تجزیہ نگار کے بقول۔ ”ہم یہاں جس پیراندیلو سے ملتے ہیں وہ ایک ماہر کہانی کار ہے، جس کے پاس مکالمے کے لیے کان، تفصیلات کو ظاہر کرنے کے لیے آنکھ اور نچلے طبقے کی تکالیف کے گہرے احساس کے ساتھ ساتھ جنس، جغرافیہ اور بہت کچھ ہے۔“
پیراندیلو اپنی کہانیوں میں سسلی کی زرعی زندگی کے جو خاکے حکمت اور گہرے مزاح کے ساتھ پیش کرتا تھا۔ اسے وہ ”چھوٹے آئینے“ کہتا تھا۔ اس کہانی کے مواد کو پہلے 1916 میں، ون ایکٹ ڈرامے کے ماخذ کے طور پر پیش کیا گیا، پھر 1925 میں روم میں اسٹیج ڈراما اور موسیقی کے ساتھ بیلے کے طور پر بھی کھیلا گیا۔ اس پر اطالوی زبان میں مختصر فلم بھی بنائی گئی۔ ) )

