ہم کہاں جا رہے ہیں؟


پچیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں توہین مذہب محض ایک جرم نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور قانونی مسئلہ بھی ہے۔ جس کے لیے نہ تو کسی عدالت کے سخت فیصلے کی ضرورت ہے، اور نہ ہی کسی مولوی کے فتوے کی گنجائش۔ توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو بھی ہجوم کے سامنے پھینک دینا کس قدر آسان ہے کوئی ہمارے معاشرے سے پوچھے۔

انتھک کوششوں کے باوجود تین سو سے زائد کے ہجوم میں گھری لڑکی کے خوف میں ڈھکے ہوئے چہرے کو نظر انداز نہیں کر پا رہی۔ اتوار کی سہ پہر، لاہور کے پر ہجوم اچھرہ بازار میں ایک مشتعل ہجوم اس وقت اٹھا ہوا جب کسی نے الزام لگایا کہ خاتون کی قمیض پر قرآنی آیات چھپی ہوئی ہیں۔ خاتون نے عربی خطاطی سے مزین لباس پہنا ہوا تھا۔ لباس پر عربی حروف میں لفظ ’حلوہ‘ چھپا ہوا تھا۔ جس کا مطلب عربی میں ’خوبصورت‘ ہے۔ عربی برینڈ کے مشہور ڈیزائن کی قمیض پہنے خاتون کے گمان میں کہاں ہو گا کہ بازار میں ہجوم کا ہجوم اس پر جھپٹ پڑے گا۔

پولیس کی نگرانی میں مذہبی شخصیات اور بھڑکتے ہجوم سے معافی مانگتی خاتون کس جرم کا اعتراف کر رہی تھی، یہ سوال اس کھوکھلے معاشرے کے ہر فرد سے پوچھنے کا ہے۔ خاتون افسر کی بہادری قابل ستائش ہے جو دکان کے داخلی دروازے پر کھڑی ہو کر ہجوم کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، خاتون افسر کا سب سے بڑا کارنامہ متاثرہ خاتون کو علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنا تھا۔

خاتون کے لباس کو مبینہ طور پر قرآنی آیات سمجھنے کے بعد ، توہین رسالت کا نشانہ بنایا۔ توہین مذہب وہ ہتھیار ہے جس کا شکار کوئی بھی کہیں بھی ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء پاکستان میں توہین مذہب کی سزا موت ہے، لیکن کچھ لوگوں کو ان کے مقدمات کی سماعت سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا۔ یہاں انصاف ملتا نہیں، مل جائے، تو ہجوم چھوڑتا نہیں!

سال 2011، پنجاب کے 26 ویں گورنر سلمان تاثیر کا 27 گولیوں سے چھلنی جسم ابھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا، جو کہ اپنے قتل تک وضاحت دیتے رہے کہ وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔

جب مذہب کو سیاست اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو انتہا پسندی عروج کو پہنچتی ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا کے کئی مشال خان جنونیت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں تو ، کہیں جنید حفیظ جیسے اپنی بے گناہی کا ثبوت لیے طویل ٹرائلز کا انتظار کرتے کرتے انصاف نامی عدالتوں سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے پر نہ تو کوئی تصدیق کرتا ہے، نہ تو کوئی چھان بین۔ نہ ثبوت مانگے جاتے ہیں اور نہ ہی بیان سنا جاتا ہے ۔

جس کے نتائج 16 اگست 2023 کے جڑانوالہ فسادات کی صورت میں ابھرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دیا گیا ہے کہ وہ اپنی محرومیوں کو قسمت، اور ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں۔ حق کے لیے آواز اٹھانے کو گناہ جبکہ غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیتے ہیں، اور قتل کو موت کا دن معین سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ؟ کیسے یہاں تک پہنچے، اور کون ذمہ دار ہے؟ یہ سوال محض سوال ہی ہے جواب کسی کے پاس نہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ہم کہاں جا رہے ہیں؟

  • 04/09/2024 at 7:55 شام
    Permalink

    .It was significant to read as it depicts well to the tolerance level in our society

Comments are closed.