سیاسی چورن کی شکار پاکستانی قوم

جب سے 2024 کے الیکشن اور ان کے نتائج مرتب ہوئے ہیں ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ نلی نہاری، بڑے کے پائے اور حلوے مانڈے کھانے اور ہضم کرنے والی قوم کے مضبوط نظام ہضم سے خائف خاکی اینڈ سنز کریانہ اسٹور کے سیاسی شراکت دار اپنی دکان چلانے کے لیے اگرچہ پچھلی کئی دہائیوں سے انواع و اقسام کے سیاسی چورن بیچ رہے ہیں۔ لیکن 2018 میں قوم کے مضبوط نظام ہضم کے پیش نظر سیاسی چورن کے اجزائے ترکیبی میں جمال گھوٹے کی مقدار کچھ زیادہ ہی بڑھا دی گئی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ قوم جو عمومی نظام ہضم کے قبضی اصولوں پر کاربند تھی یعنی جوں کی توں 2024 کے آتے آتے جلاب کے عارضے میں مبتلا ہو گئی۔
اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسے مخبوط الحواس سیلاب رواں نے زور پکڑا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لہذا خطرے کی ریڈ لاین عبور ہوتے ہی خاکی اینڈ سنز کریانہ اسٹور کی کرائسز مینجمنٹ حرکت میں آئی اور اس سیلاب سے بچاؤ کے لیے راتوں رات بند باندھنے میں کامیاب ہو گئی۔ یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ 2024 کے الیکشن میں غیر متوقع سونامی کے پیش نظر جو پالیسی اپنائی گئی وہ 2018 میں اپنائی گئی پالیسی سے نسبتاً مختلف تھی۔
کیوں کے اس دفعہ نہ صرف بند باندھا گیا بلکہ سیلابی ریلے کا زور توڑنے کے لیے اسے مساوی سمتوں میں حسب ضرورت تقسیم بھی کر دیا گیا۔ جو کہ فی زمانہ انتہائی پیچیدہ، نامناسب اور خطرناک صورت حال سے نمٹنے کے لیے خاکی اینڈ سنز کریانہ اسٹور کی کرائسز مینجمنٹ کی جدید پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کی عمدہ مثال ہے۔
2018 کے عہد نا پختہ کار میں بلین ٹریز، لنگر خانے اور بیرون ملک سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت جس میں 190 ملین پونڈ بھی شامل ہیں جو ملک میں آنے کے باوجود قوم کے ہاتھ نہ لگی کے چورن نے صحت پر جو جز وقتی مثبت اثرات مرتب کیے ان کی وجہ سے ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھنا بند ہو گئے تھے۔ اور ہمیں لگا کہ ہمارا پیٹ اور ضمیر من حیث القوم کافی حد تک صاف ہو چکا ہے لہذا ہم نے پر کشش پڑیا (پیکجنگ) میں لپٹا 2018 کا بچا کچا چورن ایک خستہ حال مرتبان میں ڈال کر باورچی خانہ کی قدیم المرض ریاستی خزانہ کی مانند خالی اور قرض کی دبیز تہوں سے اٹی الماری کے انتہائی مخدوش معیشت کے خفیہ خانہ میں رکھ دیا تھا۔ اب آپ اسے ہماری دوراندیشی کہیے یا ایک غریب پاکستانی کی پس اندازی۔ یوں بھی پاکستان میں غریب عوام کی پس اندازی زیادہ دور اندیش ثابت نہیں ہوتی اور زیادہ سے زیادہ دو سے تین سال کے عرصے میں ہی صرف کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے لہذا ہماری پس اندازی پر بھی وہ وقت آن پہنچا تھا۔
جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا کہ 2024 کے الیکشن کے بعد جو مروڑ ہمارے پیٹ میں اٹھ رہے تھے اس کی شدت میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا اور کسی کروٹ چین نہ پڑتا ایسے میں جبکہ کچھ اور سجھائی نہ دے رہا تھا دفعتاً 2018 کے پس انداز کیے چورن کا خیال آیا۔ اور ہم اس چورن کے اجزائے ترکیبی میں جمال گھوٹے کی اضافیت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے باورچی خانہ کی جانب دوڑے لپک کر الماری سے مرتبان نکالا اور آناً فاناً وہ ہی چورن پھانک گئے۔
بس پھر کیا تھا اختلاج سے اخراج تک کا سفر بڑی سہولت سے طے پا گیا اور ہمیں آرام بھی آ گیا۔ ہم جو کئی دنوں سے پیٹ اور سر تھامے بے خوابی کے عالم میں گھر پر پڑے ہوئے تھے ایک دم ہشاش بشاش ہو اٹھے اور معیشت کا بوجھ ڈھونے کی خاطر کام کاج کی طرف توجہ مبذول کی۔ گزر اوقات کے لیے محلے میں ہماری چھوٹی سی دکان تھی۔ بد ہضمی اور بے خوابی سے نڈھال ہونے کی وجہ سے ہم اپنی دکان پر چند دنوں سے توجہ نہ دے پائے تھے جس کی وجہ سے دکان میں اشیاء خرید و فروخت تقریباً ختم ہو چکیں تھیں۔
لہذا دکان کے لیے خریداری کی نیت سے کراچی کے تجارتی علاقے صدر کا رخ کیا صدر کا یہ علاقہ جہاں سے ہمیں خریداری کرنی تھی انتہائی پچھڑا ہوا تھا۔ یوں تو انتظامی، تعمیراتی اور سیاسی انتقامی اعتبار سے پورا کا پورا کراچی ہی کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے لیکن صدر کا وہ علاقہ جہاں سے ہمیں خریداری کرنی تھی کچھ زیادہ ہی خستہ حال تھا اور اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے موئن جو دڑو کے انہدام کے بعد سن 1700 قبل مسیح سے نظر انداز ہے۔
ہمارا تو خیال ہے کہ اگر یونیسکو والے صدر کے اس علاقے کا دورہ کریں تو وہ موئن جو دڑو کے بعد اس علاقے کو بھی عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے۔ لیکن اس میں اندیشہ یہ ہے کہ یونیسکو کی یہ حرکت انتہائی مخدوش داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت نہ قرار دے دی جائے۔ اور ہم اس دانستہ و غیر دانستہ مشورے کی بنیاد پر سہولت کاری کے جرم میں نہ دھر لیے جائیں۔
بہرحال ہم ان ہی غیر زود ہضم فکر میں غلطاں صدر کے سب سے پچھڑے ہوئے علاقے میں پہنچ تو چکے تھے۔ لیکن بد ہضمی کے عارضے سے نجات پانے کی خوشی میں ہم یہ بھول بیٹھے تھے کہ جو چورن ہم نے لیا ہے اس نے 2018 میں بھی عارضی آرام ہی فراہم کیا تھا اور 2024 کی ثقیل صورت حال کے پیش نظر اس عارضی آرام کی مدت مزید گھٹ کر عدت کی حالیہ شرعی مدت کی طرح متنازع ہو چکی تھی۔ عدت کا ذکر آ ہی گیا ہے تو ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہماری نظر میں زبانی طلاق اور عدت کی میعاد کا زبانی تعین ایک شرعی مسئلہ ہے لیکن شرعی عدالت نے اس میں مداخلت نہ کر کے اپنا دامن بچا لیا۔
کیوں کہ متوقع سیاسی فیصلہ کی روشنی میں شرعی عدالتوں کا تقدس بھی پامال ہو سکتا تھا۔ اب جہاں تک بات رہی دیگر عدالتوں کی جہاں اس قسم کے سیاسی اسٹنٹ ابھی تک قابل قبول ہیں تو ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس قسم کے سیاسی فیصلوں کا بھگتان قوم 1955 سے بھر رہی ہے۔ 1955 کے جسٹس منیر سے کون واقف نہیں۔ لیکن یہاں قابل ذکر نقطہ یہ ہے کہ تاریخی حوالوں کو ہر دو طرح کے لوگ اپنے مفاد میں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں آج کل یہ روایت بہت عام ہے کہ ہر وہ شخص جس کے خلاف عدالتی فیصلہ آتا ہے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے جج کو جسٹس منیر سے تشبیہ دیتے ہوئے جمہوریت دشمن قرار دے دیتا ہے اور پستہ قامت سیاسی قائدین کو بھگت سنگھ جیسا انقلابی بننے کا شورٹ کٹ فراہم کرتا ہے۔
بحر حال، جیسا کہ ہم بیان کر رہے تھے کہ صدر کے علاقے میں داخل ہوتے ہی ایک دفعہ پھر ہمارے پیٹ میں ایسا شدید مروڑ اٹھا کہ الامان الحفیظ اور تب کہیں جا کر ہم پہ یہ عقدہ کھلا کہ ہمارا پیٹ صاف نہیں ہوا تھا بلکہ ہمارے ساتھ ایک دفعہ پھر ہاتھ ہو گیا تھا۔ ہم قبض یعنی جوں کی توں صورت حال سے چھٹکارا پانے کے چکر میں جلاب کے عارضے میں مبتلا ہو چکے تھے۔
لہذا اب جس چیز کی ہمیں شدت سے تلاش تھی وہ تھا ایک عدد پائے خانہ۔ کراچی کے علاقے صدر میں حاجت مندوں کی نا گزیر رفع حاجت کے لیے بیت الخلا ہوا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ رہنمائی کے لیے جا بجا دیواروں پہ جلی حروف میں بیت الخلا بھی لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اور یقین جانیے جہاں بیت الخلا لکھا ہوتا ہے عین اس کے نیچے ہم نے حاجت مندوں کو متعدد بار اپنی حاجت رفع کرتے ہوئے بھی پایا ہے۔ اس عمل کو یہ ثابت کرنے کے لیے دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا لٹریسی ریٹ یقیناً معیاری نہ صحیح عربی ضرور ہے کیوں کہ ہر پاکستانی کم از کم بیت الخلا پڑھنا تو جانتا ہے یہ الگ بات کے بیت الخلا کا راستہ تلاش کرنا نہیں جانتا۔
حالانکہ راستہ تلاش کرنے کا طریقہ بہت سادہ ہے اور وہ یہ کہ ریلوے اسٹیشن کی طرح فضا میں گھلی بیت الخلا کی مخصوص بو کے پیچھے ہو لیا جائے اور منزل مقصود حاصل کر لی جائے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ حبس زدہ ماحول میں جا بجا کچرے کے ڈھیروں سے اٹھتے انواع و اقسام کے تعفن میں بیت الخلا کی مخصوص بو کو کیسے پہچانا جائے۔ لہذا اس کا حل من حیث القوم ہم نے یہ نکالا کہ جہاں بیت الخلا لکھا ملے وہیں بیٹھ جائیں اور جہاں کچرے کا ڈھیر نظر آئے وہیں کچرا پھینک جائیں۔
ہوس اقتدار میں مبتلا فاطر العقل سیاستدانوں کے پر کشش پڑیا میں لپٹے سیاسی چورن نے نہ صرف قومی نظام ہضم کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں بے خوابی کے عارضے نے عقل و شعور کے حریتی پیمانے بھی اس قدر محدود کر دیے ہیں کہ اپنی قومی زبان میں پاخانہ لکھنا اور پکارنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بجائے اس کے عربی زبان کا لفظ بیت الخلا لکھا اور پکارا جاتا ہے۔ اور یوں اپنی مقروض اور تنگ دست زبان پر پشیمان ذہنی غلامی کے اشتہار دیواروں پر برسرعام چسپاں کیے جاتے ہیں اسے نوشتہ دیوار سمجھنا چاہیے۔
عربی قرض اور عربی زبان سے لگاؤ نے بیت الخلا میں جو روحانیت پیدا کی وہ مفلوک الحال قومی زبان کے لفظ پاخانہ میں ماند تھی۔ اس کی ایک حالیہ مثال لاہور کے اچھرہ بازار میں پیش آنے والا واقعہ ہے جہاں ایک خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ عربی رسم الخط کے ڈیزائن سے مزین لباس جس میں لفظ حلوہ نمایاں تھا زیب تن کیے شاپنگ کے لیے آئیں تو خود ساختہ مولوی کی رہنمائی میں مردوں کا انبوہ یہ کہتے ہوئے ان کی جان کے در پہ آ گیا کہ انھوں نے توہین مذہب کی ہے۔
وہ تو بھلا ہو بہادر خاتون انسپکٹر شہر بانو کا جو بر وقت وہاں پہنچ گئیں اور حلوے کو چادر میں چھپا کر وہاں سے لے اڑیں۔ یہ ثابت ہو جانے کہ باوجود کہ خاتون کسی قسم کے توہین مذہب کی مرتکب نہیں ہوئیں ہیں پھر بھی انھیں ہی قوم سے معافی مانگنی پڑی۔ اور اس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ مولویوں کے ہاتھ آیا حلوہ منہ کو نہ لگا اور وہ حلوہ کے یوں ہاتھ سے نکل جانے پر برہم تھے۔
عمران خان نے جب قوم کو ریاست مدینہ کا چورن بیچنا شروع کیا تو نہ صرف مدینہ سے ملنی والی امداد بند کر دی گئی بلکہ دیے گئے قرض کی فوری ادائیگی کی بھی مانگ کر ڈالی۔ قوم یہ چورن چوم چاٹ کے آنکھوں سے لگانے کو تیار تھی لیکن شاید ہمارے عربی آقاؤں کو یہ چورن ایک آنکھ نہ بھایا۔ حالانکہ انھیں قائل کرنے کے لیے باقاعدہ فیشن شو منعقد کیے گئے جسے آگے چل کر نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بھی اپنایا۔ اور ہم نے دیکھا کہ ہاتھوں کی کلائیوں میں کڑوں اور گھڑی کے بجائے تسبیح پہنی جانے لگی۔
گھڑی کا ذکر برسبیل تذکرہ آ ہی گیا ہے تو بتاتے چلیں کہ کلائیوں میں گھڑی کی جگہ تسبیح نے اس لیے لی کیوں کہ توشہ خانہ کی گھڑی کے گھڑی گھڑی تذکرے نے بلا امتیاز ہر گھڑی کو متنازع کر دیا تھا اور قوم پر کڑا وقت آن پہنچا تھا لہذا عافیت اسی میں تھی کہ گھڑی کو تسبیح سے بدل دیا جائے۔ اور ہم نے دیکھا کہ یہ حکمت عملی الیکشن 2024 میں کافی سود مند ثابت ہوئی۔ ایک طرف نواز شریف اور گھاس پر قناعت کرنے والے ان کے شیر تسبیح کے دانوں تلے دبے سہمے بیٹھے رہنے پر مجبور ہوئے۔
جس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ جب فیصل آباد میں نون لیگی امیدواروں نے اصلی شیر کے ساتھ ریلی نکالی۔ واضح رہے کہ شیر نون لیگ کا انتخابی نشان بھی ہے اور نواز شریف بھی ملک میں واپس آچکے ہیں۔ باوجود اس کہ نون لیگی قیادت نے عوام میں اصلی شیر لانے سے نہ صرف منع کیا بلکہ نواز شریف کو وزیراعظم کے لیے نامزد نہ کر کے ثابت بھی کیا۔ پس کہ ثابت ہوا کہ اصلی شیر کوئی اور ہیں جو بشری بی بی کی طرح پردہ نشین ہیں اور عوام میں آنے کے بجائے پردہ میں رہ کر سب کچھ مینیج کرنا چاہتے ہیں اور وہ عوام میں صرف اپنے کارناموں کی وجہ سے جانے جانا چاہتے ہیں۔ اور ان کے کارناموں سے کون واقف نہیں اب تو ان کا نام ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔
تو دوسری طرف پی ٹی آئی کی جانب سے تسبیح پڑھنے والوں نے پڑھے جانے والے دانوں کے مطابق پارلیمنٹ کی نشستیں کلیم کرنی شروع کر دیں۔ جس نے الیکشن کی رات بھر تسبیح کے دانے پڑھے تھے وہ 180 نشستیں کلیم کر رہا تھا اور جس نے مخصوص راتوں میں تسبیح پڑھی تھی وہ مخصوص نشستوں پر اپنا دعوی کر رہا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی کو بڑی تعدد میں نشستیں اور موقع ملنے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا کیوں کہ اس کڑے وقت میں ملک کی خاطر اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگانا کہاں کی سیاسی بصیرت ہے۔
اور پھر نا خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اور یہ قرعہ بد فال بالآخر مسلم لیگ نون کے نام نکلی یا نکالی گئی۔ اس کے تئیں قوم کو بکری بنا کر شیر کی کچھار میں ڈالنے کی کوششیں ابھی تک بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ حالانکہ اتحادی جماعتوں میں بھی دھاندلی کے مجوزہ الزامات کی بنیاد پر سیاسی مستقبل کے حوالے سے شدید عدم تحفظ پایا جاتا ہے اور جس کا بھانڈا ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفی کمال کی لیکڈ ویڈیو نے پھوڑ دیا ہے۔ اس وڈیو میں مصطفی کمال یہ کہتے سنے گئے کہ پی پی پی کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کا مینڈیٹ 50 یا 60 فیصد جعلی ہے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کا مینڈیٹ تو سو فیصد جعلی ہے۔ اگرچہ مانگے تانگے کی یہ ہنڈیا حکومت سازی سے پہلے ہی بیچ چوراہے پر پھوڑ دی گئی ہے لیکن یہ ہی بیل منڈے چڑھنے بھی جا رہی ہے۔ جب کوئی آپشن نہ ہو تو بیسٹ آپشن کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
بہرحال سلسلہ کلام وہیں سے جوڑتے ہیں کہ صدر پہنچتے ہی ہمارا پیٹ پھر خراب ہو گیا۔ اسی اثناء میں جبکہ ہم پیٹ پکڑے بیت الخلا کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہمارے ذہن میں نہ جانے کیسے کیسے خیالات پک رہے تھے جن میں سے چند کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ کہ اچانک ہماری نظر ایک بیت الخلا پر پڑی لہذا نا گزیر رفع احتیاج کے لیے ہم نے جیسے ہی بیت الخلا میں قدم رنجہ فرمایا تو قریب ہی لکڑی کے اسٹول پر بیٹھے ایک شخص نے ہمارا راستہ روک لیا۔
حالانکہ ہم اس وقت روکے جانے اور روکنے کی حالت میں نہیں تھے۔ کیوں کہ 2018 کے چورن کا خراج سود سمیت 2024 میں ادا کرنے کا کڑا وقت تھا باوجود اس کہ ہمیں رکنا پڑا۔ اس شخص نے جو غالباً وہاں کا دربان / چوکیدار تھا نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ہم سے پیسے طلب کیے ہم نے تیزی سے ہاتھ جیب میں ڈالا اور پیسے نکال کر اس شخص کے پھیلے ہوئے ہاتھ پہ دھر دیے۔ ہم ابھی اگے بڑھنے کے لیے پر تول ہی رہے تھے کہ اس شخص نے قریب ہی پڑے لب لب ووٹوں سے بھرے لوٹوں میں سے ایک لوٹا ہمارے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا اب جاؤ۔
اور ہم یہ گراں قدر بار اٹھائے آگے بڑھ گئے۔ بیت الخلا کے کھلے در پہ بھنگیلا لٹک رہا تھا یہ بوری کے کپڑے کا میلا کچیلا سا بوسیدہ پردہ تھا اور اوٹنگا اتنا کہ زمین سے تقریباً ایک فٹ اونچا جبکہ پائے خانہ زمین میں دھنسا ہوا لہذا اس پردے کا مقصد دکھائی نہ دینے والوں کی پردہ داری تو ہو سکتا تھا لیکن ہماری پردہ پوشی ہرگز نہیں۔ اسلام نے پردے کی خاص تاکید فرمائی ہے اور ہم نے پہلی بار اسلام کی اس دور اندیش تاکید کی افادیت پر سر تسلیم خم کر دیا۔ اور خرگوش کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے یا جدید محاورے میں یوں کہہ لیجیے کہ ہم نے انکھوں پر بے شرم سوشل میڈیا کا چاک دار پردہ چڑھایا اور بیٹھ گئے۔
ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اور شخص ہاتھ میں لوٹا پکڑے اندر داخل ہوا گھڑی بھر کو آنکھیں دو چار ہوئیں اور ہم نے شرمندگی کے مارے سر جھکا لیا کیوں کہ ویسا ہی ایک لوٹا ہمارے پاس بھی تھا۔ کچھ دیر میں سر اوپر اٹھایا تو وہ شخص جا چکا تھا لہذا ہم نے اپنی گنتی مکمل کرنے کی غرض سے گردن گھما کے اپنے لوٹے سے رجوع کرنا چاہا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بھی غائب تھا ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے ہی رہ گئی۔
پیسے جو دربان کو دے کر آئے تھے وہ نہ صرف ہماری خستہ حال معیشت بلکہ معدے پر بھی گراں گزرتے دکھائی دے رہے تھے۔ بہرحال ہم جیسے تیسے باہر کی طرف لپکے تو بیت الخلا کے دربان نے ہمیں پھر روک لیا اور لوٹے کی بابت دریافت کیا لوٹا کہاں ہے۔ ہم نے اس شخص کو غصہ میں یوں گھورا جیسے لوٹے کی فال اسی کے نام نکلی ہو۔ اور ہم سمجھ گئے کہ یہ شخص صرف حاجت مندوں سے پیسے اینٹھنے اور لوٹوں کی خرید و فروخت پر مامور ہے اسے تجارت کے اخلاقی اصولوں اور مالکانہ حقوق سے قطعی کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی یہ حاجت مندوں کی پردہ پوشی کا قائل ہے جب چاہتا ہے سر بازار برہنہ تن کر کے رکھ دیتا ہے۔
اور یوں بھی ہمارے ہاں چادر اور چار دیواری کا مفہوم عرصہ ہوا بدل چکا ہے اب چادر سر ڈھانپنے کے لیے نہیں بلکہ سیاہ کار منہ ڈھانپنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تا کہ لاپتہ کیے جانے والوں کے پیارے لاپتہ کرنے والوں کو پہچان نہ سکیں۔ اور دیوار سے مراد عقوبت خانوں کی بلند فصیلیں ہیں جنھیں کوئی نہیں پھلانگ سکتا۔ غریب کے گھر کی دیوار بھی کوئی دیوار ہے جسے آئے روز جو چاہے جب چاہے پھلانگ لے۔
مزید برآں یہ کہ مختلف اقسام کے سیاسی چورن لینے کی وجہ سے ہمارا قومی نظام ہاضمہ بہ حیثیت مجموعی اگرچہ کئی دہائیوں سے کمزور چلا آ رہا تھا لیکن الیکشن 2018 کے بعد دیا جانے والا سیاسی چورن کمیت کے اعتبار سے معدے پر اس قدر گراں گزرا کہ ثقیل اشیاء تو ایک طرف پانی بھی ہضم کرنا دشوار ہوا جا رہا تھا۔ اس دو دھاری سیاسی چورن کی کاٹ کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ پانی میں پائے جانے والے ہیپاٹائٹس کے مضر اثرات کو بھی مات دے چکا تھا۔
ہم نے اتنے لوگ ہیپاٹائٹس کی وجہ سے نہیں کھوئے کہ جتنے اس سیاسی چورن کی نذر ہو گئے۔ پہلے جو تقسیم زبان، فقہ اور صوبے کی بنیاد پر عمل میں آئی تھی وہ اب دو ہاتھ آگے نکل کر خاندان اور دوستوں میں رنجش کا باعث بنتی جا رہی تھی۔ لیکن قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ اس سیاسی تقسیم کا شکار صرف کمزور نظام ہضم رکھنے والی عوام ہے۔ جبکہ مقتدر اشرافیہ اور حکمران طبقے میں جو جز وقتی تقسیم دیکھنے کو ملتی ہے اس کی واحد بنیاد ہوس اقتدار ہے جو مضبوط نظام ہضم کا متقاضی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ شدید دشمنی کے باوجود پی ٹی آئی کا وفد جے یو آئی ف کے مولانا فضل الرحمن کا پیش کردہ گاجر کا حلوہ اور کھوئے کی مٹھائی بڑی رغبت سے تناول فرماتا ہے اور جس کی بے شرم ڈکار اتنی بلند ہوتی ہے کہ اس کی گونج امریکہ کے ایوانوں تک جا پہنچتی ہے اور اپنا مدعا صاحب بہادر کے سامنے رکھتے ہوئے گویا ہوتی ہے کہ آپ کو پاکستان کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی پر سخت موقف اپنانا چاہیے۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مفلوک الحال قوم کی لنگڑی لولی معیشت کا واحد سہارا آئی ایم ایف کو بھی مداخلت کی دعوت دے دی جاتی ہے۔ اور اس سلسلے میں پاکستانیوں کی تو زرہ برابر فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ دو سال پرانا فارن مداخلتی چورن اپنا کام کر چکا ہے اور اب نئی صورت حال پیش نظر میں ذرا سی رد و بدل کے ساتھ یہ ثقیل چورن بیچا جائے گا کہ دھاندلی کی وجہ سے پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر یہ عالمی رائے عامہ ہے اور جس کی وجہ پاکستان دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے اور ہم پاکستان کا عالمی تشخص بحال کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا ہمارے دعوت نامہ کا مقصد بیرونی مداخلت کی حوصلہ افزائی نہیں ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنا ہے۔
حکومت سازی اپنے آخری مراحل میں ہے لہذا ہم ارباب اختیار اور تمام سیاسی جماعتوں بشمول حزب مخالف کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ گھڑی اور لوٹے کی اس مضحکہ خیز لڑائی سے عوام کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہذا پارلیمان میں اسٹینڈ اپ کامیڈی سے پرہیز کریں۔ اور ہم آپ کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ عوام کو آئین کے آرٹیکل 6 کی بنیاد پر صدر کے مواخذے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے لہذا یہ چورن بیچنا بھی بند کریں۔ اگر آپ عوام کی فلاح چاہتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 38 کو اپنا منشور و مقصود بنائیں جو ریاست کو ڈکٹیٹ کرتا ہے کہ عوام کو معیاری خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔
ووٹ کو عزت دو یا نہ دو لیکن ووٹر کو بلا امتیاز عزت دو۔ پاکستان کو نواز دو یا نہ دو لیکن ہر پاکستانی کو دستور میں درج اس کے حق سے نواز دو۔ ریاست مدینہ، ایبسولوٹلی ناٹ اور حقیقی آزادی کے چورن بیچنے کے بجائے ریاست پاکستان کے آئین میں جو اظہار رائے کی آزادی، عزت نفس اور تحفظ کے چیپٹر درج ہیں ان کے مطابق ہی ہر پاکستانی کو اس کا حق دینے پر توجہ مرکوز کی جائے تو ہمیں کسی دوسرے ماڈل کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
یوں بھی پیش کیے گئے ریاستی ماڈلز میں کافی تضاد ہے۔ عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اور ان کے ایک رہنما شیر افضل مروت کے پی کے کو سنگاپور بنانا چاہتے ہیں۔ اور ہم کنفیوز ہیں کہ بچوں کی تربیت کس ماڈل کے مطابق کریں آیا ریاست مدینہ میں تسبیح جپنے کے لیے تیار کریں یا سنگاپور میں لڈی ڈالنے کے لیے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اپنے بچوں کے لیے کون سا چورن ورثہ میں چھوڑ جائیں۔

