مریم نواز، ریاست اور ففتھ جنریشن وار فیئر ٹرینڈ


پاکستان تحریک انصاف کے پیروکار اکثر و بیشتر بغیر سوچے سمجھے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں اخلاقی اقدار سے گری ہوئی چیزیں دن رات شیئر کرتے رہتے ہیں۔ جن کو دیکھ اور سن کر ایسا لگتا ہے کہ شاید ملک میں ففتھ جنریشن وار فیئر کی شروعات ہوا چاہتی ہیں۔ محترمہ مریم نواز شریف کی وزیر اعلیٰ پنجاب بنتے ہی ایک تصویر پاکستان تحریک انصاف کے گروپس میں وائرل ہوتی نظر آئی جس میں ایک خاتون کی لال سینڈل پہنے آدھی برہنہ ٹانگ کے دوسری ٹانگ ایک وردی والے کی دکھائی گئی۔

اس تصویر کو دیکھ کر میرے دل و دماغ میں یہ سوال بار بار ابھرتا رہا کہ ایک طرف تو تحریک انصاف، خان صاحب کے فتح مکہ والا پیغام سنا رہی ہے اور نیلسن منڈیلا کا ٹرتھ اینڈ ریکنسیلیئشن کا درس دیتے نہیں تھکتی مگر دوسری طرف دل میں کینہ رکھے کسی کے لیے لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ کیا ہم صرف چور چور کا کھیل کھیلتے مستقبل کے معماروں کے لیے صرف ایک دوزخ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں؟

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے معاشرے میں ایک عورت کی تذلیل کر کے دکھانا کیا چاہتے ہیں؟ اگر وہی عورت ہم میں سے کسی کی ماں، بہن یا بیٹی ہو تو پھر ہمیں کیسا لگے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کے بڑے پڑھے لکھے افراد بھی بڑی منطق کے ساتھ خان صاحب کا دفاع کرتے چور چور کی صدائیں لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج کل ایمل ولی خان، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور دیگر وہ صاحبان جو ریاست کے خلاف بات کرتے نظر آتے ہیں ان کی آڈیوز، ویڈیوز کو وائرل کرنا ہی ہمارے ان دوستوں کی ذمہ داری نظر آتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں جب تک پاکستان تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارہ تھے تو سیاستدانوں، صحافیوں کو گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالا جاتا تھا۔

اور وہ سیاسی حریف جنہیں خان صاحب مختلف القابات سے نواز کر اپنے کارکنوں کو محظوظ کیا کرتے تھے آج وہی پاکستان تحریک کی آنکھ کا تارہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔ کیا ففتھ جنریشن وار فیئر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جھوٹی خبروں، سیاسی اور سماجی انجینیئرنگ کی مدد سے آپ اپنے ورکرز کو اس حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں کہ وہ شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے صرف اور صرف کام کرتیں نظر آئیں اور وقت آنے پر تعمیل کرتے ہوئے خود کشی کرنے سے بھی گریز نہ کریں؟

ملکی افواج کے سابق سپہ سالار جب اپنے خطابات میں ففتھ جنریشن وار فیئر پر بات کرتے ہوئے ملک کو لاحق خطرات اور ملک کے نوجوانوں کو دہشتگرد تنظیموں، داعش اور طالبان سے بچانے کی بات کرتے تھے تب ہم نے دیکھا کہ بہت سے پڑھے لکھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے بچیاں داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ہتھے چڑھتے یہاں تک کے اپنی جان بھی ان تنظیموں کی خاطر قربان کرتے نظر آئے۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ اپنے ملک میں دہشتگردی کے خودکش حملوں جس میں مذہبی و معاشی پہلوؤں کی مدد لے کر کم نا پختہ ذہنوں کو یرغمال بنایا جاتا تھا۔

ہائبرڈ نظام کے تحت سابقہ ریاستی اہلکاروں کی مدد سے ایک نئی جماعت کو تخلیق کرنے اور دو جماعتی سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک گریٹر پلان آئی جی آئی 2۔ 0 بنایا گیا اور وہی پلان شاید ریاست کے گلے کی ہڈی بن گیا یا پھر ریاست کے کچھ انڈر کور اہلکار ابھی تک آئی جی آئی 2۔ 0 کو چلانے میں مصروف عمل ہیں۔

ملک کی تمام تر سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان تحریک انصاف کو بھی یہ بخوبی پتہ ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ریاست کی جڑیں اب بہت کمزور ہو چکی ہے۔ بھارت، اسرائیل سمیت دیگر دشمن ممالک جو اس ملک کو اس طرح نقصان پہنچانے سے قاصر ہیں ان کی توقع صوبے سندھ سے جی ڈی اے، بلوچستان کے قوم پرست اور پنجاب اور خیبرپختون خواہ کے ففتھ جنریشن وار فیئر کے نوجوان، ادھیڑ عمر مرد و خواتین سے کی جا سکتی ہے۔ بھلے ہی عرب اسپرنگ، تحریک اسکائر جیسے بڑے بڑے ہلا دینے والے واقعات بے رنگ رہے ہوں مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انتخابات میں دھاندلی کل کے دشمن اور آج کے دوستوں کے جڑنے لے لیے ایک نکتہ بھی مہیا کر سکتا ہے۔

خان صاحب کی رہائی کے لیے یہ ففتھ جنریشن وار فیئر کے ورکرز اڈیالہ جیل کا گھیراؤ کر کے، تاریخ ہندوستان کے سانحہ جلیاں والا باغ اور سنہ 1952 میں ڈھاکہ کی سڑکوں پر مادری زبان کے لیے لڑی گئی خونریز لڑائی جیسے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

ملک کی تمام قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہد میں شامل ہو بھی گئے تو یقین مانیے پاکستان تحریک انصاف ان کو استعمال کر کے دوبارہ اسٹیبلشمنٹ سے مل جائے گی۔ کل کے قوم پرست ایک بار پھر غدار بن کر پارلیمانی سیاست سے ہزاروں بلکہ لاکھوں میل دور ہوتے نظر آئیں گے۔ یہ ففتھ جنریشن وار فیئر کوئی مذاق نہیں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو چلانے والے اس ٹرینڈنگ وار فیئر کے ماہر کھلاڑی ہیں۔

خدا نخواستہ اگر ریاست اور اس کی اکائیاں کمزور ہو کر گرتی ہیں پھر کیا ہو گا؟ قوم، ملک اور سلطنت کے گیت گانے والے بڑے بڑے لیڈران یہاں سے چلتے نظر آئیں گے مگر ملک خداداد کے پناہ گیروں کو لینے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہو گا۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ اپنے لوگوں کے ساتھ سگی ماں نہ سہی سوتیلی ماں جیسا ہی سلوک کر کے تھوڑا سا جینے کا حق ضرور دے دے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قوم پرست لیڈران کو قومی دھارے میں لانے کے لیے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں ففتھ وار فیئر کے ورکروں کو راہ راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ ایک ٹرینڈنگ نظریہ انہیں یرغمال بنائے ہوئے ہے۔

Facebook Comments HS