بوسنیا کی چشم دید کہانی (59)


مرزا اور میمن کے ہمراہ ہم رات دیر تک تاش کھیلتے رہے۔ صبح نو بجے ہم نے اپنے نیپالی ساتھیوں کو ان کے دوستوں کے ہاں سے ساتھ لیا اور ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ ایک ایک کر کے تمام شعبہ جات سے کلیرنس ہوتی چلی گئی۔ پھر آخری شعبے پر سانل کی باری آئی۔ اس شعبے کے سربراہ ایک سردار جی تھے۔ ہم نے ان کے پاس پہنچ کر اپنے کاغذات ان کی میز پر رکھ دیے۔ انھوں نے نگاہ اوپر اٹھائی اور بولے

دفتر میں آنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے

سردار جی سے ہم جو اپنائیت محسوس کر رہے تھے اس کے پیش نظر، ان کا یہ رویہ ہمارے لیے ناقابل یقین تھا۔ اس سرزنش کے بعد انھوں نے ہمارے کاغذات پر سرسری نظر ڈالی اور بولے۔ موسطار کے افسران کو تو مرکزی ہیڈ کوارٹر سے کلیرنس کے لیے 23 مئی کی تاریخ دی گئی تھی، آپ ایک دن پہلے کیسے آ گئے؟

ریجنل ایڈمن افسر ٹینا کی طرف سے ہمیں ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ ہم نے عرض کی
ٹھیک ہے، ٹینا سے میں بات کر لوں گا۔ آپ کل تشریف لائیں۔ انھوں نے روکھے انداز میں کہا

مزید بحث لاحاصل تھی۔ چنانچہ ہم اپنے کاغذات اٹھا کر باہر چلے آئے۔ دفتر سے باہر نکلتے ہی اقبال نے کہا

شکر ہے کسی اور شعبے کا سربراہ ”اپنا بندہ“ نہ تھا وگرنہ یہ کلیرنس ایک دیوانی مقدمہ بن جاتی۔ ہماری وہ شام اور رات بہت بے چین گزری۔ ہمیں پکا یقین تھا کہ سردار جی اپنی حیثیت کے اظہار کے لیے ہمارے کاغذوں میں کوئی غلطی ضرور ڈھونڈیں گے۔ لیکن ہمارے تمام وسوسوں کے برعکس سردار جی نے سرپرائز دیا۔ اگلی صبح انھوں نے ہمارے کاغذات پر بلا چون چرا دست خط کر دیے۔ اب ہم نے دفتر خزانہ سے اپنی اپنی تنخواہوں کے لیے رجوع کیا تو وہ پہلے سے بند لفافوں میں ہماری منتظر تھیں۔

کاؤنٹر پر موجود ورنیسا نامی خاتون مجھے اچھی طرح جانتی تھی۔ ایڈمن افسر اور بعد میں ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر کی حیثیت سے اسٹیشن کے مالی امور کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس دفتر سے میرا اکثر رابطہ رہتا تھا۔ تمام افسروں اور ترجمانوں کی تنخواہ اور دوسرے بل وغیرہ ہر ماہ میں ہی یہاں سے وصول کیا کرتا تھا۔ ہر تنخواہ اور بل کی رقم مشین پر گن کر میرے حوالے کی جاتی تھی۔ لیکن میں پھر بھی اسے اپنے دیسی طریقے سے گننا ضروری سمجھتا تھا۔

اس عمل کے دوران میرا بار بار انگلی کو زبان کی مدد سے تر کرنا ورنیسا کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مجھ سے پوچھا۔ آخر تمام لوگوں کی تنخواہ آپ ہی کیوں لے کر جاتے ہیں وہ خود کیوں نہیں آتے۔ اس وقت اتفاق سے سلاجہ بھی میرے ہمراہ تھی۔ میں نے کہا لگتا ہے یہ میرے اسٹیشن کے لوگوں کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ہر چند آج سلاجہ میرے ساتھ یہاں موجود ہے، پھر بھی اس کی تنخواہ بھی میں ہی وصول کر رہا ہوں۔ اس شوخی پر اس کی حالت محبوب مومن کی سی تھی

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

میری آخری تنخواہ کو لفافے میں بند کرتے وقت ورنیسا کے ذہن میں شاید یہ خیال آیا تھا کہ ممکن ہے کہ جب میں یہاں آؤں تو وہ موجود نہ ہو، لہٰذا اس نے نیک خواہشات لیے ہوئے کلمات وداع لفافے کے کونے پر لکھ رکھے تھے۔ لیکن میں اس کے سامنے موجود تھا۔ تنخواہ کا لفافہ میری طرف بڑھاتے ہوئے وہ بولی۔ مجھے اور میرے دوستانہ رویے کو وہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا۔

میری خوبیوں کی حقیقت آپ کی اعلیٰ ظرفی اور مہذب پن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

دن گیارہ بجے ہم سرائیوو سے موسطار کی جانب روانہ تھے۔ مرکزی ہیڈ کوارٹر سے نکل کر ورالا بوسنا تک میں نے کئی بار پیچھے مڑ کر سرائیوو پر ایک نظر ڈالنا چاہی۔ لیکن ہمت نہ ہوئی۔

شہر سرائیوو۔ اللہ امانت۔ میں نے دل ہی دل میں کہا
شہر سرائیو دور ہوتا جاتا تھا۔

24 مئی ہمارا سٹولک میں آخری دن تھا۔ آج سہ پہر تین بجے اسٹیشن کے عملے کی طرف سے ہمارے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس پارٹی کے انتظام میں روقے پیش پیش تھا۔ اس موقع پر تمام مانیٹر اور ترجمان خواتین موجود تھیں۔ پارٹی کے اختتام پر میں نے الوداعی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام ساتھیوں کا خصوصی طور پر اپنے ہم منصب روقے کا، جس نے میرا چارج لیا تھا، اس تقریب کے اہتمام پر شکریہ ادا کیا۔ اسٹیشن کمانڈر کے جوابی کلمات کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہونے کو تھی کہ جان جوزے نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس موقع پر ایک خصوصی تحفہ اقبال کی نذر کرنا چاہتا ہے۔ اس نے جیب سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا اور اسے اقبال کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔

یہ تمہاری وہ پٹرول رپورٹ ہے جو ہمیشہ ایک جیسی ہوا کرتی تھی۔ اسے سنبھال کر رکھو آئندہ کسی مشن میں کام آئے گی۔

اس پر ایک مشترکہ قہقہہ بلند ہوا جس کے دھیمے ہوتے ہی لوینیا بولی۔

اقبال کسی دوسرے مشن میں یہ رپورٹ لکھتے وقت یہ غلطی نہ دہرانا۔ عین ممکن ہے سلاجہ کی طرح کوئی ترجمان ایک ہی وقت میں تمہارے ساتھ بھی ڈیوٹی پر ہو اور دوسری پٹرولنگ ٹیم کے ہم راہ بھی۔

شام کی چائے ہم نے لوبینیا میں سیکا، لیپا اور میرا کے ساتھ پینا تھی۔ وہ تینوں اس دن صبح کی شفٹ میں کام کر رہی تھیں۔ پارٹی کے بعد ہم اکٹھے لوبینیا کے لیے روانہ ہوئے۔ لوبینیا میں شام بہت جلد ڈھلتی تھی۔ اس کی وجہ اس کے ارد گرد واقع وہ اونچے اونچے پہاڑ تھے جن کے سائے لمبے ہو کر عصر سے بھی کچھ پہلے اس پر پھیل جاتے تھے۔ سردیوں میں تو اس کی اس قدر تیزی سے ڈھلتی ہوئی شام میں قصبے کا بازار اجڑ سا جاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ بستی آج بھی حالت جنگ میں ہے۔

یہ مکمل طور پر سفید پوش سربوں کی بستی تھی جن کی معاشی حالت ابھی تک سنبھل نہ پائی تھی۔ لیکن وضع داری اب بھی اس کے باسیوں پر ختم تھی۔ اس بستی میں ایک چھوٹی سی دکان چلانے والی زندہ دل بڑھیا وثیقہ بھی رہتی تھی۔ وہ ہر بار ہمارے لاکھ انکار کے باوجود جوس اور کافی سے ہماری تواضع ضرور کرتی تھی۔ اس کی چار بیٹیاں تھیں۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا

آپ لوگوں کے ہاں تو عمومی طور پر دو سے زیادہ بچے نہیں ہوتے لیکن تمہاری چار بیٹیاں ہیں۔
بیٹے کی خواہش میں یہ بیٹیاں دو سے چار ہو گئیں لیکن بیٹا پیدا نہ ہوا۔ وہ بولی۔

خدا واقعی بے نیاز ہے۔ میرا ایک دوست بیٹی کی خواہش میں دو سے چار بیٹے کر بیٹھا لیکن بیٹی نہ ہوئی اور تمہارا معاملہ اس کے برعکس رہا۔ میں نے کہا۔

خدا کی بے نیازی اپنی جگہ لیکن اگر تمہارے دوست کی یہ خواہش اب بھی قائم ہے تو اسے کہو میرے خاوند سے رابطہ کرے۔ بیٹی پیدا کرنے میں وہ سند کا درجہ رکھتا ہے۔ اس نے جواب دیا۔

اسی لوبینیا کے کیفے درینا میں اقبال اور شیام کے آخری چند مہینوں کی اکثر شامیں گزرا کرتی تھیں۔ یہیں ایک مرتبہ شیام نے سربوں کا مشہور گیت ”ایما ہو“ سنا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ سب اپنی اپنی میزوں سے اٹھ کر اس کے گرد جمع ہو گئے تھے، اور شیام کے ساتھ ہم آواز ہو کر گانے لگے تھے۔ گیت ختم ہونے پر انھوں نے خوب تالیاں بجائی تھیں۔ ایک بوڑھے نے تو آگے بڑھ کر سربوں کی محبت کے روایتی اظہار کے طور پر شیام کے گالوں پر پٹاخ پٹاخ تین بوسے بھی ثبت کیے تھے۔

اسی لوبینیا میں جب بین الاقوامی فوج کے قافلے گزرتے تھے تو فوجی یہاں سڑک کنارے کھڑے بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتے تھے۔ یہ بچے پھر روزانہ ان قافلوں کی آمد کا دن بھر انتظار کرتے تھے۔ شیوا ان فوجیوں کی دیکھا دیکھی اپنی جیب سے ٹافیاں خرید کر اپنی گاڑی میں رکھ لیتا تھا اور پھر ان بچوں میں تقسیم کرتا تھا۔ اب یہ بچے ہماری ہر گاڑی کو دیکھ کر سڑک کنارے جمع ہو جاتے تھے اور بمبونہ، بمبونہ کا کورس شروع کر دیتے تھے۔ لیکن شیوا تو شیوا تھا اس کی تقلید ہر کس و ناکس کے بس کی بات بھلا کہاں تھی۔

Facebook Comments HS