آگ لگے ان کتابوں کو


پچھلے مہینے کالم نگار یاسر پیرزادہ کی یہ کتاب نظر سے گزری تو مجھے اس کا ٹائٹل کچھ عجیب لگا۔ یاسر پیرزادہ جیسے پڑھنے والے اور لکھنے والے انسان کی کتابوں کو لے کر یہ رائے عجیب لگی کہ سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگا دینی چاہیے۔

اب اپنی لائبریری میں موجود سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگانے کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی یاسر پیرزادہ کی اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ کیا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ یاسر پیرزادہ کو ان کتابوں سے کیا مسئلہ ہے۔ جہاں تک یاسر پیرزادہ کے تعارف کی بات ہے تو یہ ملک کے بہترین کالم نگاروں میں سے ایک ہیں اور لیجنڈری مصنف عطا الحق قاسمی صاحب کے فرزند ہیں۔ یہاں میں یاسر پیرزادہ کو بھی داد دینا چاہوں گا جو عطاء الحق قاسمی صاحب کے گھر پیدا تو ضرور ہوئے مگر لکھنے کے معاملے میں انہونے اپنی محنت اور علم سے اپنا نام بنایا ہے۔

جہاں تک ان کی اس کتاب کی بات ہے تو اردو بازار میں یہ کتاب ڈھونڈنا الگ چیلنج تھا لیکن کتابوں کے زیادہ تر چیلنجز میں پورے کر ہی لیتا ہوں۔

تین دن پہلے یہ کتاب پڑھنا شروع کی اور تب سے اب تک اس کتاب کو پڑھ رہا ہوں۔ میں امید کر رہا تھا کہ اس کتاب میں تنقید ہو گی اور سیلف ہیلپ کتابوں کی درگت بنائی ہوگی لیکن ایسا نہیں تھا۔ یہ کتاب تو آپ کو کچھ الگ نالج دے گی اور یاسر پیرزادہ کے کالموں ”ذرا ہٹ کے“ کی طرح تھوڑی ہٹ کے ہے جس میں آپ کو مزاح کی بھی جھلک نظر آئے گی۔ اس مزاح کی جھلک کی وجہ سے آپ کتاب سے بور نہیں ہوں گے۔

اب کتاب کے کانٹینٹ کی بات کریں تو یہ کتاب تو ستر 70 کے قریب بہترین اصولوں کا ایک مجموعہ ہے۔ یہ اصول عام طور پر سیلف ہیلپ کتابوں میں ملنے والے اصولوں سے مختلف ہیں۔ ہر اصول ایک مضمون یا پھر اسے کالم کہیں، دو تین صفحات پر مشتمل ہے۔

یاسر پیرزادہ کا ہر مضمون یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ کافی پڑھنے والے آدمی ہیں اور ہر مضمون میں آپ کو کوئی نہ کوئی شاندار کہانی یا کسی بہترین کتاب کا نچوڑ ملتا ہے۔

یہ کتاب موضوعات کے لحاظ سے بڑی متنوع کتاب ہے۔ اس میں آپ کو سائیکالوجی، فلسفہ، تاریخ اور زندگی کے وہ اصول سیکھنے کو ملیں گے تو حقیقی زندگی میں اپلائی کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے پاکستانی سوسائٹی کے لحاظ سے کیونکہ مغرب کے اکثر اصول ہمارے یہاں لاگو نہیں ہوتے۔ اس بات کو انہوں نے اپنے مضمون ”سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگا دیں“ میں بڑے شاندار انداز میں بیان کیا ہے۔

ایک اور خاص بات جو اس کتاب میں ہے وہ یہ کہ آپ کا تعارف وقتاً فوقتاً بڑی شاندار کتابوں سے بھی ہوتا رہے گا جو کہ آپ میں مزید پڑھنے کی خواہش پیدا کریں گی۔ مجھے خود ایسی کتابوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جو میرے وہم و گمان میں نہیں تھی اور کچھ بہترین Concepts سے بھی واقفیت ہوئی۔

اگر آپ ایک ایسی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں جو آپ کو ذہنی وسعت عطا کرے اور معمول کی سیلف ہیلپ کتابوں سے کچھ الگ ہو تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔ اس کتاب میں ایک اور چیز جو مجھے ملی وہ ہے ”Stoicism“ جو مجھے آج تک اردو کی کسی کتاب میں دیکھنے کو نہیں ملا جب کہ Stoicism اپنے اندر خود ایک فلسفہ ہے۔

مجھے خود ایسی کئی کتابوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جو آج تک میری نظر سے نہیں گزری۔ اگر آپ مجھ سے اپنے لیے مطالعے پر کوئی سفارش لینا چاہیں گے تو اردو کی کتابوں میں سے یہ ایک کتاب ہوگی۔

Facebook Comments HS