معاف کرو بابا
سنا تو یہی ہے کہ موسم چار ہوتے ہیں یعنی سردی، گرمی، خزاں اور بہار لیکن اب پتہ چلا ہے کہ ان موسموں کے علاوہ بھی کئی اور موسم ہوتے ہیں جنھیں اردو میں ”سیزن“ کہا جاتا ہے۔ جیسے درزیوں کا سیزن، قصائیوں کا سیزن، پھل فروشوں کا سیزن وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ تمام سیزنز ہیں جن کی وجہ سے عوام کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے یعنی ان سیزنوں میں پیدا ہونے والی چیزیں یا خدمات نایاب یا مہنگی ہوجاتی ہے۔
مذکورہ بالا سیزنوں کے علاوہ ایک اور سیزن بھی ہوتا ہے جسے گداگروں کا سیزن کہتے ہیں۔ ویسے تو کیلے کی طرح بھکاری بھی سال کے بارہ مہینے آپ کو شہر کے بازاروں، مسجدوں، سڑکوں اور محلوں میں گھومتے مانگتے نظر آئیں گے مگر شعبان کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک کے کونے کونے سے بھکاریوں کی آمد شروع ہوجاتی ہے (جھل کراچی مچ کمایاں ) اور یہ سلسلہ رمضان کی ستائیسویں شب تک جاری رہتا ہے۔ ہر پندرہ منٹ بعد آپ کو دروازے پر دستک سنائی دیتی ہے اور جب آپ دروازہ کھولتے ہیں تو سامنے ایک مانگنے والا جھولی پھیلائے کھڑا ملتا ہے۔
میں اپنے ( 30 مربع گز کے ) دو منزلہ مکان کے اوپری منزل پر اپنی ہم عمر بیوی کے ساتھ رہائش پذیر ہوں، نیچے کے دو کمرے بیٹے کے پاس تھے مگر ایک دن رات 12 بجتے ہی ان کی نئی نویلی دلہن انھیں بھگا کر لے گئی (حالانکہ یہ کام وہ آہستہ چل کر بھی کر سکتی تھی مگر جو مزہ بھاگنے میں وہ کسی اور میں کہاں ) ۔ میں نے ان کمروں کو ابھی ویسے ہی خالی رکھا ہوا ہے کہ شاید ’لوٹ کر آ جائے میری جان پشیماں ہو کر۔‘ ابا جان پہلے ہی اماں جان کو لے کر منگھوپیر میں سلطان بابا کے مزار کے قریب کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہو گئے ہیں کیوں کہ وہ مزار کے قریب ہی دھندا کرتے ہیں۔
اس گھریلو داستان کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ زیادہ تر بھکاری دور سے صدائیں لگانے یا کیسٹ پر نعت پڑھنے کے بجائے (جسے سن کر اندازہ ہو کہ کوئی مانگنے والا آ رہا ہے ) دروازے پر اس انداز میں دستک دیتے ہیں کہ جیسے کوئی مہمان گھر آیا ہو، ہمیں دروازہ کھولنے کے لیے سیڑھیاں اتر کر نیچے آنا پڑتا ہے۔ دروازہ کھولنے پر جب منحوس شکلوں کو دیکھتے ہیں تو خون کھولنے لگتا ہے۔ ایک دن میں نے ایک بھکاری کو دروازہ کھٹکھٹانے کے جواب میں اوپر لے جاکر کہا: ”معاف کرو بابا“ ۔
یہ سن کر بھکاری کو بڑا غصہ آیا، کہنے لگا: ”یہی بات تم اوپر سے نہیں کہہ سکتے تھے!“ میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا: ”تمھیں دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے نیچے سے ہی“ اللہ کے نام پر دے دو بابا ”کہتے ہوئے موت آتی تھی کیا۔“ مگر اس کے بعد یہ حرکت میں نے پھر کبھی نہیں کی کیوں کہ بھکاری بڑے مسٹنڈے ہوتے ہیں مبادا ہمیں اکیلا دیکھ کر ڈکیتی ہی کر بیٹھیں۔
روز روز کی بک بک چخ چخ سے تنگ آ کر میں نے بھکاریوں کو بھگانے کا یہ طریقہ نکالا کہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سن کر اوپر ہی سے جواب دیتا ہوں : ”معاف کرو بابا“ ۔ اس جواب پر اکثر بھکاری برا مانتے ہیں حالانکہ ایسا ہم انھیں چڑانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی کوتاہی پران سے معافی مانگنے کے لیے کرتے ہیں، نجانے کیوں فقیروں کو اس جملے سے چڑ سی ہونے لگی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بھکاری میرے جواب پر کہنے لگا: ”اگر معاف نہ کروں تو کیا کرو گے!
”، میں نے اوپر سے انھیں پتھر مار کر کہا کہ :“ یہ کروں گا ”۔ جس پر وہ وہاں سے گالیاں بکتے ہوئے بھاگ گیا۔ ایک اور فقیر نے کہا کہ بس ایک ہی جملہ سارے محلے نے رٹ لیا ہے“ معاف کرو بابا، معاف کرو بابا، ہم تمھیں معاف کریں یا نہ کریں مگر اللہ معاف نہیں کرے گا ”۔ میں نے پوچھا:“ بابا! یہ بات تمھیں اللہ نے خود بتائی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح گول کرتے ہوئے کہنے لگا: ”جگت بازی نہ کرو، یہ بتاؤ کہ کچھ دو گے یا آگے جاؤں؟ میں نے کہا:“ مرضی ہے، بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جاؤ ورنہ رستہ پکڑ لو ”۔
شومی قسمت، ایک دن دروازے پر دستک کی آواز سن کر میں نے حسب معمول اوپر ہی سے کہا: ”معاف کرو بابا، آگے جاؤ“ ۔ دستک کی آواز پھر بھی آنے لگی، میں نے دل میں سوچا کہ بڑا ڈھیٹ فقیر ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتا لہذا پھر زور سے کہا: ”بابا سنتے نہیں ہو، کیا بہرے ہو؟ آپ سے کہہ تو رہا ہوں کہ معاف کرو۔“ اس اعلان کے بعد دروازہ پیٹنے کی آواز میں مزید شدت آ گئی۔ اب میں سمجھا کہ یہ کوئی فقیر نہیں بلکہ پولیس والے لگتے ہیں (وہی اتنے زور زور سے دروازہ پیٹتے ہیں ) لہذا جلدی جلدی نیچے اتر کر دروازہ کھولا۔
آگے سے گالیوں کا ایک طوفان تھا کہ تھمنے کا نام ہی لے رہا تھا۔ ابا بہت غصے میں کھڑا تھا، کہنے لگا: ”ابے وہ ناہنجار! اب مجھے فقیر بنا کر آگے جانے کا کہہ رہو، دیکھتے نہیں ہو کہ میں منگھوپیر سے تمھارے لیے کیا کیا لایا ہوں (میں یہ بات بتانا تو بھول ہی گیا تھا کہ ابا منگھوپیر میں درگاہ عالیہ کے پاس مانگنے کا دھندا کرتے ہیں اور جب کمائی زیادہ ہوتی ہے تو میرے لیے بھی کافی سامان لاتے ہیں جس سے ہمارے پورے مہینے کا خرچہ نکل آتا ہے ) ۔ بدحواسی میں میں نے ابا کے پیر (پکڑنے کے بجائے ) پکڑ لیے (اس لیے نہیں کہ ان سے معافی مانگنی تھی بلکہ اس ڈر سے کہ کہیں وہ مال ملیدہ سمیت واپس منگھو پیر کا رخ نہ کرے ) اور ان سے دوبارہ کہا: :معاف کرو بابا، غلطی ہو گئی ہے“ ، ابا نے مہربانی فرما کر ہمیں معاف کر دیا اور اوپر چلے آئے (مال ملیدہ سمیت) ۔


