دنیا رنگ رنگیلی ہے بابا


رنگ زندگی ہیں۔ جیون کے بدلتے رنگ ہمیں بہت کچھ بتاتے ہیں۔ اس بہت کچھ میں ایک بات جو سب سے اہم ہے وہ ہے کائنات کا ابتداء آفرینش سے تا دم تحریر مختلف رنگوں سے مزین چلے انا ہے۔ قدیم یونان ہو یا جدید ریاستی ڈھانچے۔ ہر جگہ ہمیں تنوع کی حکمرانی ملتی ہے۔ یہ تنوع یہ فرق ہونا ہی اس زندگی میں امکانات کے نئے سے نئے در کھولتا ہے۔

چلیں تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ 8 ارب سے زیادہ انسانوں کے اس مسکن کے لیے صرف ایک موسم ہو۔ یا تمام لوگ ایک سی خوراک لیں۔ یا صرف ایک نظریے پر یقین رکھیں۔ سوچو کبھی ایسا ہو تو کیا ہو۔ اس کے انجام کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ دور جائے بنا ماضی قریب کے ان سماجوں کو دیکھیے جنہوں نے یک رنگی کو اپنانے کی سعی ناکام کی۔ آخر کار انہیں لوٹنا پڑا۔ یہ الگ قصہ ہے کہ کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی اس ذہنی انتشار کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اب بھی بہت سے سماج زندگی سے ڈرتے ہیں

بس یوں سمجھ لیں کہ یہ دنیا ایک چمن ہے۔ اس کی سندرتا اس کی رنگا رنگی میں ہے۔ ایک پھول (بھلے وہ گلاب ہی کیوں نہ ہو) سے اسے سجایا تو جا سکتا ہے مگر اس کی دلکشی کا حقیقی راز اس کے اندر مختلف النوع کے پھولوں اور پودوں میں ہی ہے۔ یہی بات ہم ہر شعبہ حیات پر لاگو کر سکتے ہیں۔ مثلاً زبانوں کے معاملے میں ایک دلچسپ صورت حال ہمارے ہی ریجن میں ماضی قریب اور حال میں سامنے آئی ہے۔ ضیاء الحق کے عہد میں مقتدرہ قومی زبان کے تحت اردو کو باقی زبانوں سے پاک کرنے کا عمل انتہائی خشوع و خضوع سے شروع ہوا۔

میں یہاں صرف ایک مثال دینا چاہوں گا۔ پورے پاکستان میں ہماری ورکشاپوں میں کام کرتے مستریوں کے زیر استعمال انے والا اوزار ”پانا“ ، کے لیے دست پیما کا لفظ تجویز کیا گیا۔ جو صرف مقتدرہ کے ائر کنڈیشن والے دفتروں میں ہی بولا جا سکتا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ لفظ بھی وہیں کہیں دفن ہو گیا۔ ایسا نہیں کہ اس وقت کے تمام اہل فکر اس خیال کے حامی تھے لیکن وقت کے جابر نے اپنی مرضی کی۔ لیکن سرائیکی مثال ہے کہ نادر کیا گنٹری تے قادر کیا گنٹری۔

مطلب انسان کیا سوچتا ہے اور قدرت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کچھ دن گزرے کہ بھارتی راشٹر پتی بھون میں کسی ایوارڈ کی تقریب میں استعمال ہوئی زبان سننے کو ملی۔ ہمارے لیے تو وہ نامانوس تھی ہی۔ مجھے پکا یقین ہے کہ بہت سے بھارتیوں کے لیے بھی اسے سمجھنا بے حد مشکل ہو گا۔ سوشل میڈیا یا بولی ووڈ کی فلموں کے ذریعے جو زبان ہمیں ملتی ہے وہ تو آسانی سے سمجھ انے والی ہوتی ہے۔ لسانیات کے حوالے سے اگر ہم دیکھیں تو پورے برصغیر (خصوصاً شمالی حصے ) میں استعمال ہونے والے ورب (فعل) ، ناؤن (اسم) ، اڈ جیکتیو (اسم صفت) اور اڈ ورب (متعلق فعل) کم و بیش ایک سے ہی ہیں۔

اسی وجہ سے وہاں بنی ہندی فلم کو یہاں اردو فلم ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ امر مبنی بر حقیقت ہے۔ ایسے میں جب کوئی ایک یا ایک سے زیادہ گروہ اپنی اپنی زبانوں کو شدھ حالت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو نتیجہ پہلے سے ہے معلوم ہوتا ہے۔ زبانوں کی ترقی کا عمل ایک تدریجی پروسیس ہے۔ اردو ہو یا انگریزی کتنے ہی نئے سے نئے الفاظ روزانہ کی بنیاد پر ان میں شامل ہو رہے ہیں۔ ( اس حوالے سے ہندی لفظ کرما کو دیکھیے جو اب انگلش میں بلا تکلف استعمال ہوتا ہے ) ۔ تو بات تو وہیں آ جاتی ہے کہ تنوع ہی آخر کار آگے جانے کا راستہ ہے۔ یہ فرق ہی اس ”گولے“ ، کی پہچان ہے جو اربوں انسانوں اور حیات کی لاتعداد شکلوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

پیارے پاکستان کے جذباتی لوگوں سے گزارش ہے کہ اس بات کو سمجھیں۔ یک رنگی زندگی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ سیاست ہو یا معاشیات۔ سماجی ڈھانچہ ہو یا تعلیمی نظام۔ سبھوں کو اب مختلف رنگوں کی طرف جانا ہو گا۔ جی ہاں ان لوگوں یا افکار سے بھی رہنمائی لینی ہو گی جسے ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم کے تحت مسترد کیا گیا ہے۔ اس میں ہر انسان کو انسان ہی سمجھنا ہو گا۔ ذات دھرم بھید بھاؤ۔ ذات کے اندر چھپی ترجیحات سے بالا تر ہو کر سبھوں کو ان کے حقوق دینا ہوں گے۔ ورنہ مصنوعی ذہانت نے آنے والے دنوں میں سب کچھ کو بدل دینا ہے

اور یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ آج کے تمام بند معاشروں نے ایک دن کھلنا ہے۔ اس عمل کو اب روکا نہیں جا سکتا۔ آج کے دن کی بہترین مثال سعودی سماج ہے جو تیزی سے ایک بدلتے ہوئے سماج میں ڈھل رہا ہے۔ دوسری طرف وہ سماج بھی ہیں جو آج بھی طرز کہن پر بضد ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے آنے والے تیز و تند سیلاب کے سامنے یہ لوگ بند باندھ سکیں گے؟ اس کا منطقی جواب تو ایک واضح ناں ہے۔ ہاں مختلف تاویلات کے ذریعے کوئی جو کچھ کہنا چاہے تو کہہ لیں۔

بہتر ہو گا کہ ان کے حکمران طبقات بھلے ڈارون کی تھیوری پر یقین کریں یا نہ کریں مگر اس بات کو بروقت سمجھ لیں کہ کائنات میں وہی ”جاتی“ ترقی کرتی ہے جس میں تبدیلی اور تنوع کو قبولنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ ان معاشروں کے حکمران طبقات کو چاہیے کہ پریشر کوکر کے اندر ابلتی کیفیت کو آہستہ آہستہ سے اپنے اخراج کا موقع فراہم کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پریشر کوکر ایک زوردار دھماکا سے پھٹ سکتا ہے جس کا انجام صرف تباہی ہی ہو گا۔ اور اب ماضی کی طرح یہ تباہی ایک مقام تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے ارد گرد کے معاشرے بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ تو بات جہاں سے شروع ہوئی وہیں پر ختم ہونی ہے کہ رنگوں سے۔ فرق سے۔ مختلف ہونے سے مت گھبرائیں بلکہ ان کو انجوائے کریں کہ ہمارے پاس رہنے کے لیے صرف ایک گھر ہے اور زندگی کا ٹکٹ بھی ون وے ہے

Facebook Comments HS