برستے بادل، انڈین ساڑھی اور گلگتی مومو


یکم مارچ 2024 کو محلہ کی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے چندہ کے لیے کی جانے والی اپیل کے بار بار دہرانے کی آوازوں سے آنکھ کھل گئی۔ کمرے سے باہر نکل کر دیکھا، گہرے بادل بہاول پور پہ چھائے ہوئے تھے۔ رات کو یا شاید فجر کے قریب ہلکی بارش بھی ہوئی تھی۔ فضا میں خنکی تھی۔ وضو کر کے قضا نماز پڑھی۔ مجھے لکڑی کے تخت پوش پہ بچھے جائے نماز پہ نماز پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ جمعہ کی مناسبت سے سورہ کہف پڑھی۔

سوچا، نظامی صاحب کے ناشتہ پوائنٹ پہ ناشتہ کروں گا پھر ابرار جوگی سے گرما گرم چائے پیوں گا لیکن عجیب سی غنودگی شاید وہ ابر آلود موسم کی وجہ سے تھی یا رات کو دیر تک یو ٹیوب پر افریقی ممالک روانڈا وغیرہ پہ ٹریول ویلاگز دیکھتا رہا تھا، اس غنودگی نے غلبہ کیا تو لحاف دوبارہ اوپر اوڑھ لیا۔

پاکستان سے ابرار نام کے ایک باہمت ویلاگر ہیں جو موٹر سائیکل پہ عرب ممالک، یورپ، انڈیا اور افریقی ممالک میں جا کر لائیو ویلاگز بنا کر دکھاتے ہیں۔ ویسے کمال کا بندہ ہے گھنٹوں دنیا کے خطرناک علاقوں میں موٹر سائیکل پہ سفر کرتا ہے اور دل کو موہ لینے والے مناظر دکھاتا ہے۔

پچیس تیس سال پہلے روانڈا خوفناک قسم کی نسل کشی سے گزرا جس میں آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ نسلی تعصب کی وجہ سے بے گناہ مارے گئے لیکن ابرار نے جنوری 2024 میں وہاں وزٹ کر کے جو روانڈا دکھایا، اس قدر صاف ستھرا اور خوبصورت کیگالی شہر، صاف پتہ چل رہا تھا کہ صفائی ستھرائی میں شاید یورپ بھی اس سے بہت پیچھے ہو۔ تیزی سے ترقی کرتا روانڈا دنیا کو حیران کر گیا۔

kigali-rwanda

لینڈ سکیپ بیوٹی میں روانڈا کا مقابلہ شاید سویٹزرلینڈ، ناروے اور اٹلی کے کچھ علاقے کر سکتے ہوں وگرنہ وہ تو انتہا درجہ کی لینڈ سکیپ بیوٹی رکھتا ہے۔ سینکڑوں کلومیٹرز پہ پھیلے رین فاریسٹ، ہزاروں سرسبز پہاڑیوں اور جھیلوں پہ مشتمل روانڈا ایک قدرتی جنت ہے۔ کیگالی روانڈا میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ بھی ہے جہاں چکن کڑاہی، بریانی اور توا روٹی ملتی ہے۔ اس کے ہمسائے تنزانیہ کا زنجیبار ساحل رین فاریسٹ، ساحلی پانی کی شیشے جیسی شفافیت اور اس میں پائی جانے والی رنگین مچھلیوں کی وجہ سے ہزاروں یورپی سیاحوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ خیر۔

آنکھ کھلی تو دوپہر کا وقت ہو چکا تھا لیکن سرمئی بادل بدستور چھائے ہوئے تھے۔ تھوڑی تھوڑی بھوک بھی لگ رہی تھی۔ بائیک باہر نکالا اور شہر سے باہر جانے والی سڑک پہ ڈال دیا۔ سوچا، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے بغداد کیمپس کے سامنے ایک ڈھابہ پہ بریانی کھا لوں گا۔ پھر سڑک پہ ہی ایک الگ تھلگ سا ڈھابہ ہے وہاں مجھے اپنی پسند کی چائے مل جاتی ہے۔ اس چائے میں کون سی پتی ڈالی جاتی ہے مجھے نہیں پتہ بس یہ تجربہ کئی بار ہوا کہ جب کبھی میرے سر میں شدید درد ہو یا دماغ پہ دباؤ ہو تو وہاں چائے کا بس ایک کپ پیتے ہی سردرد اور دماغ پہ دباؤ غائب۔ ہاں، ڈھابہ والے کو پتہ ہے کہ میں سٹرانگ چائے پیتا ہوں شاید اس وجہ سے وہ میری طبیعت پہ فوراً اثر کرتی ہے۔ خیر۔

بغداد کیمپس سے پہلے ہی ریلوے لائن اور سڑک کے درمیان پکھی واس خانہ بدوشوں نے جھونپڑیاں ڈالی ہوئی ہیں۔ وہاں سڑک کنارے ایک ڈھابہ پہ تندور پہ لگتی گرم روٹیوں کی خوشبو میرے نتھنوں میں گھسی تو بائیک کو وہیں بریک لگا دی۔

”دال پکائی ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”سائیں! دال دے بغیر وی کوئی ہوٹل چلدا اے بھلا؟“ (جناب! دال کے بغیر بھی کوئی ریسٹورنٹ چل سکتا ہے بھلا؟ ) ڈھابہ والے نے جواب دیا۔ فرائی دال کے ساتھ تندور سے آتی گرم گرم روٹی کھاتے ہوئے جھونپڑیوں پہ نظر پڑی تو خیال آیا ”ان کی غربت بھی کبھی ختم ہو گی؟“ ۔ ٹی وی کی خبروں میں مسلسل ”نوید“ سنائی جا رہی ہے کہ پاکستان معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے حل کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے یعنی عالمی بنیا جو بولے گا ہمیں وہ سب کچھ ماننا ہو گا۔

Rwanda

ہمارے محلے میں ایک بہت ہی غریب عورت کچی آبادی سے آتی ہے۔ کسی گھر کے کپڑے، کسی کے برتن اور کسی کا فرش دھو دیتی ہے۔ کوئی تین ہزار روپے، کوئی دو ہزار روپے اور کوئی چار ہزار روپے مہینہ بعد دے دیتا ہے۔ اب آ کے رونے لگ گئی کہ گیس کا ماہانہ بل تیس ہزار روپے سے زیادہ آ گیا ہے اب میٹر کٹواؤں گی۔

میں خود بھی حیران تھا کہ جن گھروں میں وہ کام کرتی ہے وہ لوگ بچا ہوا کھانا اس کے بچوں کے لیے دے دیتے ہیں، بس سردی سے بچنے کے لیے وہ کمرہ میں شام کو چولہا جلا لیتی تھی اور صبح بچوں کے لیے ناشتہ بنا لیتی تھی تو پھر اتنا بڑا بل کیسے آ گیا؟ وہ بھی تو ہیں جن کے گھروں میں استعمال ہونے والی گیس اور بجلی کا بل حکومت ادا کرتی ہے یہاں تک ان کی فیملیاں شاپنگ وغیرہ کے لیے جو گاڑیاں استعمال کرتی ہیں ان کا پٹرول بھی حکومتی خزانہ سے ڈلوایا جاتا ہے۔ دنیا میں ہی جنت کی زندگی گزارنے والے ”خوش قسمت“ لوگ۔ خیر۔

بائیک سڑک پہ رواں دواں تھا اور پھر سے بارش شروع ہو گئی۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بارش میں بھیگنا اچھا لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا دل پہ لگی کثافتیں دھل رہی ہوں۔ واپسی پہ شہر میں داخل ہوا تو شام ہو چلی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی جوگی چائے کے برتن دھونے لگ گیا۔ یہ اس کی محبت ہے کہ وہ برتن دھو کر نئی پتی ڈال کر میرے لیے سٹرانگ چائے بناتا ہے۔ کچھ لوگ حالات حاضرہ اور مہنگائی کے موضوع پہ باتیں کر رہے تھے۔ ”سائیں! رل گئے آں۔ اس طرح دی مہنگائی پہلے کدی نی ویکھی؟“ (سائیں! رل گئے ہیں۔ اس طرح کی مہنگائی پہلے کبھی نہیں دیکھی) ۔ ایک شخص بولا۔

ان کی باتیں سنتے اکبر شیخ اکبر کا ذہن خیالوں کی دنیا میں کھو گیا۔ ایسے ہی بے سروپا سا خیال آیا ”ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی رکھنے والے انڈیا میں کروڑوں عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں، اگر پاکستان کی ٹیکسٹائل ملوں کو انڈیا کے لیے ساڑھیاں بنانے اور انھیں انڈیا برآمد کرنے کی اجازت مل جائے تو پاکستان اپنے سارے قرضے اتار سکتا ہے۔ لاہور میں موبائل فون سیٹ تیار کرنے کی چار سے زیادہ فیکٹریاں لگ چکی ہیں جو بہت اچھے موبائل فون سیٹ بنا رہی ہیں۔

اگر یہ پاکستانی موبائل فون سیٹ انڈیا کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیں تو صرف انڈیا کو پاکستانی موبائل فونز کی برآمد سے پاکستان کئی ارب ڈالرز کما سکتا ہے۔ انڈیا میں لوگ کالج، یونیورسٹی اور آفس جاتے ہوئے کندھے پہ ایک چھوٹا سا شولڈر بیگ لٹکا کر جاتے ہیں۔ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی والے ملک کو اگر آپ دس کروڑ پاکستانی شولڈر بیگز ہی برآمد کر لیں تو “ ۔ ڈولی بھائی کے ٹھیلہ سے چائے پیتا بل گیٹس بھی تو وہاں اپنی پراڈکٹس کے لیے انڈین مارکیٹ کو قابو کرنے آیا ہوا ہے۔ مجھے اپنے بکھرے ہوئے خیالات پہ خود ہی ہنسی آنے لگ گئی۔

کہاروں نے شام دلہن کی ڈولی رات دولہا کے آنگن میں اتار دی تھی۔ پارک کے نکڑ سے میں نے ایک ٹھیلہ سے گلگتی مومو کھائے اور گھر کی راہ لی۔

Facebook Comments HS