شہربانو شاہی مہمان

اچھرہ لاہور میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کے بعد ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر گرماگرم بحث چھڑ گئی ہے، اس میں مختلف طبقات اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں اس واقعہ کو انتہاپسندی سے جوڑنا ہرگز جائز نہیں، یہ محض غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی غلط فہمی اس واقعہ تک محدود نہیں، متعدد معاملات میں ہماری غلطیاں درحقیقت غلط فہمیوں کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ خاتون کا متنازع لباس پہلی نظر میں دیکھتے ہوئے کوئی بھی بدگمان ہو سکتا تھا۔
جہاں ہجوم ہو وہاں خوف اور شور پیدا ہونا فطری ہے تاہم وہاں موجود کسی شہری نے اس خاتون پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ پولیس کا انتظار کیا اور جب اے ایس پی شہربانو نے وہاں کھڑے شہریوں سے خطاب کیا تو انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، وہ باآسانی اس خاتون کو وہاں سے بحفاظت پولیس اسٹیشن تک لے جانے میں کامیاب رہیں۔ ان کی اس نیت اور صلاحیت پر انہیں خوب سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر نے بھی شہربانو کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ برادر اسلامی ملک سعودیہ عرب کے اسلام آباد میں تعینات سفیر نے شہربانو کو خاندان سمیت شاہی مہمان کی حیثیت سے دورہ سعودیہ کی دعوت دی۔ شہربانو جیسی خاتون افسر پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کے لئے مشعل راہ ہیں۔
ہمارے ہاں اردو اور انگلش سیکھنے پر زور دیا جاتا ہے، لیکن اگر عرب ملکوں کی طرح ہماری اسلامی ریاست اور معاشرت میں بھی عربی زبان عام فہم ہوتی تو اچھرہ میں ایک عورت کو عربی طرز تحریر والے لباس میں دیکھتے ہوئے وہاں موجود ہجوم بدگمان اور مشتعل نہ ہوتا تاہم دبنگ اور پروفیشنل خاتون اے ایس پی گلبرگ شہربانو نے بروقت اور درست انداز میں اس معاملے کو ہینڈل کیا اور شہر لاہور کو ایک ممکنہ سانحہ سے بچا لیا، جس پر وہ بجا طور پر داد و تحسین کی مستحق ہیں۔ جس طرح ایک طبقہ کے نزدیک ہجوم کا عورت کو ہراساں کرنا ہرگز قابل برداشت نہیں وہاں ایک حلقہ اس متنازع لباس پر بھی معترض ہے۔ بہر کیف خاتون کا متنازع اور ناپسندیدہ لباس ناخوشگوار واقعہ کی بنیاد بنا۔ لباس بدن چھپانے کے لئے پہنا جاتا ہے، اسے دوسروں کو متوجہ اور مشتعل کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ساحل کے کسی اونچی سطح پر بیٹھ کر دور سمندر کی خوفناک لہریں اس قدر پر سکون نظر آتی ہے جیسے برسوں سے یہ سندر کسی درد و غم کا شکار ہی نہیں ہوا لیکن وقتاً فوقتاً سمندر کے پانی میں آگے بڑھو تو لہروں کے اس شور و تسلسل سے اس سمندر کے صدیوں کا درد و غم کا عالم سامنے آ جاتا ہے، یہ درد و غم کچھ اور نہیں بلکہ اس سمندر کے ساتھ سب سے چھوٹے پوائنٹ پر انتہائی تیزی سے کسی دوسرے سمندر کا ملنا، سمندر کی تہہ میں موجود زمینی دراڑوں اور کچھ ہواؤں کی بدلتی ہوئی سمت اس سمندر کو دردناک اور غمگین بناتی ہیں۔
بالکل اسی طرح انسان کی زندگی بھی ایک سمندر ہے دور سے دیکھو تو ہموار سطح کے مانند نظر آتی ہے لیکن گہرائی میں جا کر دیکھنے سے بہت سی کہانیوں سے پردہ اٹھ جاتا ہیں۔ کسی بھی انسان کی زندگی ہموار نہیں ہو سکتی کوئی نہ کوئی اندرونی جنگ انسان میں چلتی رہتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں معاشرے میں مختلف صورتوں کے انسان نظر آتے ہیں کوئی اچھا تو کوئی برا۔ یاد رکھیں انسان کوئی بھی برا نہیں ہوتا بلکہ لفظ ”برا انسان“ کا کوئی معنی نہیں ہے اور کیوں ہو گا جب انسان رب کائنات کی وہ واحد تخلیق ہے جس کو درد و غم، احساس و شعور کی آگاہی حاصل ہے، تو انسان برا کس طرح ہو سکتا ہے لیکن ہمارے معاشرے نے جو انسانوں کی مختلف صورتیں بیان کی ہے اس میں بے شعور اور مردہ ضمیر انسان بھی ایک انسانی صورت ہے اور یہ اس کو کہا جاتا ہے جس میں شعور اور احساس نہیں تو پھر وہ انسان بھی نہیں، اس شخص کو انسان کہنا اور سمجھنا پوری انسانیت کی توہین کے مترادف ہے کیونکہ شعور اور ضمیر کی نعمت سے اللہ تعالیٰ نے صرف ہم انسانوں کو ہی نوازا ہے اور شعور ہی وہ واحد پہلو ہے جس کی وجہ سے انسان کو دوسری مخلوقات سے اشرف قرار دیا گیا ہے ، ایک چور بھی میری نظروں میں بہت اعلیٰ مقام رکھتا ہے کیونکہ کوئی ماں کے رحم سے کوئی چور یا قاتل بن کر نہیں نکلتا یا تو بچپن کی عادت ہوتی ہے جس میں 80 فیصد غلطی معاشرے کی ہوتی اور جس عہد شباب میں مجبوریوں کے سبب دماغی بینائی سے محروم ہوجاتا ہے ہیں جس میں بھی معاشرہ اور ماحول بھی برابر کا قصوروار ہے۔
اب اچھا انسان تو سب ہی جانتے ہیں لیکن جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں، جس انسان کو معاشرے میں اچھا سمجھا جاتا ہے اس انسان کی صفات کبھی دیکھیں تو وہ ہمیشہ لوگوں سے خوش ہو کر ملے گا ہر وقت جب تک وہ عام لوگوں کی صحبت میں ہو خوش ہی نظر آئے گا یعنی ہموار لیکن اسی انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دی جاتی ہے اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ جو بہت ہی خاموش ہوتا ہے کسی کو پلٹ کر جواب نہیں دیتا اس کو دراصل انسان سمجھا ہی نہیں جاتا لیکن یاد رکھیں معاشرے کی زبان کے مطابق برا اور اچھا انسان ہزار مصیبتوں اور اذیتوں سے گزر رہا ہوتا ہے اس کی ذات اور زندگی کے کسی نہ کسی حصہ میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہوتی ہیں لیکن وہ بظاہر ہموار نظر آتا ہے وہ کہتے ہیں نا جو ٹوٹ جاتا ہے وہ بولنا بھول جاتا ہے۔
تو انسان کی زندگی عین اسی سمندر سی ہے جو جتنا پر سکون اور ہموار نظر آتا ہے اس کی گہرائی اتنی پہنچ سے دور ہوتی ہے۔ ان سب باتوں کا ایک مقصد ہے انسان کو باہر سے نا دیکھیں اس کے اندرونی معاملات تک پہنچنے کی کوشش کریں تو آپ کو ہر انسان کی سمجھ آنا شروع ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ دنیا جتنی بڑی نظر آتی ہے اس سے کئی گنا چھوٹی ہے اور کبھی نہ کبھی ہم سب کو حساب دینا پڑتا ہے دنیا میں بھی اور آخر میں بھی۔ کیونکہ ایک انسان جیسا بھی ہو ہم اس کے خالق نہیں کہ ہمیں اس کی نیت معلوم ہو۔
لہٰذاء اپنے اندر ہر وقت ایک دیا جلائے رکھیں، اسے کبھی بجھنے نہ دیں تاکہ اس کے نور سے ہمیشہ آپ کے آس پاس بیٹھنے والے افراد پراس کی روشنی پڑتی رہے۔ اچھرہ واقعہ کی مرکزی کردار خاتون کا دفاع کرنے والے یہ محاورہ یاد رکھیں ”جیسا دیس ویسا بھیس“ ۔ دونوں طبقات کو اچھرہ واقعہ میں پنہاں راز تلاش کرنا ہوں گے، اگر ہمارے معاملات معاشرتی روایات سے مطابقت رکھیں تو اس میں عافیت ہے۔

