پاکستان میں اردو افسانہ


مجھ سے ملنے والے اکثر نوجوان جو افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کوئی ایک کتاب بتائیے کہ ہم اردو افسانے کا سفر جان لیں۔ اگرچہ یہ سہل انگاری مجھے پسند نہیں اور ایسا سوال کرنے والوں کی بابت شک میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ افسانہ نگاری ایسے نوجوان کی پہلی ترجیح ہے بھی یا بس گھومتے گھماتے ادھر آ نکلے ہیں اور اسے تخلیقی سطح پر اپنے وجود کا مسئلہ بنانے کی بجائے محض مشغلے کے طور پر برتنا چاہتے ہیں؟

تاہم پھر خیال آتا ہے کہ انہیں کہیں نہ کہیں سے تو آغاز کرنا ہو گا۔ فکشن کے علاوہ مسلسل اور متنوع علوم کا ایک فکشن نگار کے ذوق کا حصہ ہو جانا چاہیے۔ تب ہی وہ زندگی کے مختلف دائروں میں موجود لوگوں میں سے اپنے کردار منتخب کر سکے گا اور جس فضا کے اندر وہ وجودی سطح زندگی بسر کر رہے ہیں اسے جان پائے گا۔ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ آج میں ایک ایسی کتاب کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جہاں سے اپنے مطالعے کا آغاز نئے لکھنے والے کر سکتے ہیں۔

یہ کتاب افسانہ نگار، نقاد اور محقق ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے مرتب کیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ تحقیق اور منتخب افسانوں کی کتاب ہے لیکن وہ افسانہ نگاروں کا سوانحی خاکہ اور تخلیقی فتوحات مرتب کرتے ہوئے اپنے تنقیدی فیصلے بھی دیتے نظر آتے ہیں۔ کتاب کا نام ”پاکستان میں اردو افسانہ“ ہے۔ ایک ہزار سے زائد صفحات کی اس کتاب میں 1947 ء سے لے کر آج تک کے افسانہ نگاروں پر بات کی گئی ہے ؛ کہہ لیجیے یہ تقسیم کے بعد ، پاکستان میں لکھے گئے افسانے کی تاریخ ہے۔

مرزا حامد بیگ قبل ازیں بھی اس نوع کے کام کر چکے ہیں۔ ”اردو افسانے کی روایت“ اسی ادارے نے شائع کی تھی، جس نے زیر نظر کام کے منصوبے پر کام کے لیے ان کی طرف دیکھا۔ میری مراد اکادمی ادبیات پاکستان ہے۔ اکادمی نے آزادی کے جشن الماسی کے سلسلے میں کئی اہم کتب شائع کیں اور یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مرزا صاحب چوں کہ خود بھی الگ دھج کے افسانہ نگار ہیں، عمدہ نثر لکھتے ہیں اور تنقید کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں لہٰذا ان کے اس انتخاب کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے اور مفید بھی۔

مرزا صاحب ہمیشہ سے مصر رہے ہیں کہ اردو کے پہلے افسانہ نگار راشد الخیری تھے (افسانہ:نصیر اور خدیجہ:مطبوعہ مخزن لاہور:دسمبر 1903 ء) اور جب یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ افسانہ کم اور ایک خط زیادہ ہے تو ان کا دفاع ہوتا ہے کہ ”خطوط کی صورت میں فکشن تخلیق کرنے کی تکنیک سیموئل رچرڈسن اور ہنری فیلڈنگ نے اپنے ناولوں میں برتی تھی جو بالترتیب 1740 ء اور 1742 ء میں شائع ہوئے تھے۔ گویا خطوط کی صورت میں فکشن کی روایت موجود تھی اور راشد الخیری نے ایسا اسی تتبع میں کیا تھا۔ یہ دلچسپ بحث اس کتاب کے دیباچے میں دہرائی گئی ہے۔ یہیں مرزا صاحب نے ایک اور مزے کی بات لکھ دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

”بڑا نثر نگار تو وہی شمار ہو گا جو طویل اور پیچیدہ جملہ خلق کرنے پر قادر ہو۔“ اور ”،“ اگر ”،“ لیکن ”وغیرہ کے پیوند لگا کر نہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں اردو میں“ چھوٹے چھوٹے ”اور“ رواں جملوں ”کی تحسین بے جا نے بڑے نثر نگار پیدا ہی نہیں ہونے دیے۔“

مجھے یاد ہے ایک مرتبہ ہم ممتاز مفتی کے پاس بیٹھے تھے۔ اچھی نثر کا ذکر چل نکلا تو ان کا کہنا تھا کہ اردو میں بڑا اور گنجلک جملہ لکھنے والا کبھی اچھا اور بڑا نثر نگار نہیں بن سکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بے شک انگریزی یا دوسری زبانوں میں لمبا جملہ اپنی تاثیر رکھتا ہے مگر اردو میں ایسا کرنے سے نثر رواں نہیں رہے گی اور اس سے تاثیر منہا ہو جاتی ہے۔ خیر یہ الگ بحث ہے جس کا یہ محل نہیں ہے۔ یہاں چوں کہ کتاب کا تعارف کرانا مقصود ہے تو اس ضمن میں بتاتا چلوں کہ اس کتاب میں محض اکہتر افسانہ نگار جگہ پا سکے ہیں۔ مرزا صاحب نے کتاب کے پہلے حصے کا عنوان ”اردو افسانے کی زندہ روایت میں پاکستان کا حصہ“ قائم کر کے مندرجہ ذیل افسانہ نگاروں / افسانوں کو لائق توجہ جانا ہے :

حکیم یوسف حسن (الو، بٹوا اور صندوق) ، نیاز فتح پوری (دو گھنٹے جہنم میں ) ، اعظم کریوی (مہاجر کی عید) ، مسز عبدالقادر (بلائے ناگہاں ) ، پطرس بخاری (عشق کی خود کشی) ، جلیل قدوائی (پتنگے ) ، غلام عباس (فینسی ہیئر کٹنگ سیلون) ، مجنوں گورکھ پوری (سمن پوش) ، اختر حسین رائے پوری (جسم کی پکار) ، احمد علی (ہماری گلی) ، اشرف صبوحی دہلوی (بدلتا ہے رنگ آسماں۔ ) ، حجاب امتیاز علی (درزی) ، سید فیاض محمود (کام چور) ، ابوالفضل صدیقی ( چھلانگ) ، ممتاز مفتی (چکٹ گاڑی، ہونکتا ہوٹر اور موم بتی) ، میرزا ادیب (درون تیرگی) ، محمد حسن عسکری (پھسلن) ، شفیق الرحمن (ننانوے ناٹ آؤٹ) ، ممتاز شیریں (کفارہ) ، ہاجرہ مسرور (صندوقچہ) ، اے حمید (امرتسر کا ماشٹر نثار) اور آغا بابر (گشتی) ۔

دوسرے عنوان ”فسادات: 1947 کے افسانے“ کی ذیل میں جگہ پانے والے افسانہ نگار:

عزیز احمد (کالی رات) ، سعادت حسن منٹو (گورمکھ سنگھ کی وصیت) ، احمد ندیم قاسمی (پرمیشر سنگھ) ، قدرت اللہ شہاب (اور عائشہ آ گئی) ، خدیجہ مستور (مینوں لے چلے بابلا لے چلے وے ) ، شوکت صدیقی (تانتیا) ، اشفاق احمد (گڈریا) اور مرزا حامد بیگ (کاتک کا ادھار) ۔

تیسرے عنوان ”زندہ روایت کا تسلسل“ کے افسانہ نگار اور افسانے :

محمد خالد اختر (چچا عبدالباقی) ، بانو قدسیہ (ہوتے ہواتے ) ، جمیلہ ہاشمی (شدت) ، صادق حسین (کچنار) ، احمد شریف (چھڑکاؤ کی گاڑی) ، خان فضل الرحمن (ادھ کھایا امرود) ، الطاف فاطمہ (بیچلرز ہوم) ، اکرام اللہ (سیاہ آسمان) ، عرش صدیقی (باہر کفن سے پاؤں ) ، انور سجاد (گائے ) ، ضمیرالدین احمد (تشنہ فریاد) ، خالدہ حسین (ہزار پایہ) ، عبداللہ حسین (جلاوطن) اور احمد ہمیش (مکھی) ۔

چوتھے عنوان ”زوال ڈھاکہ : 1971 اور اردو افسانہ“ کے باب کا خاکہ یوں بنتا ہے۔

انتظار حسین (وہ جو کھوئے گئے ) ، مسعود اشعر (آنکھوں پر دونوں ہاتھ) ، غلام محمد (کہاں؟ کدھر؟)، مسعود مفتی (تشنگی) ، اے خیام (خالی ہاتھ) ، زین العابدین (ہاتھ ہمارے قلم) ، شاہد کامرانی (شہید غازی) ، انور فرہاد (انسان بنے حیوان) اور جمیل عثمان (پرچم ستارہ و ہلال) ۔

”جدید افسانہ“ اس کتاب کا پانچواں حصہ ہے۔ اس حصے کے افسانہ نگار/ افسانے :

منشا یاد (تیرہواں کھمبا) ، سمیع آہوجا (بدلے کے نرت بھاؤ) ، رشید امجد (گملے میں اگا ہوا شہر) ، زاہدہ حنا (کم کم بہت آرام سے ہے ) ، مظہر الاسلام (لائن مین اب شہر کی شکایت کس سے کرے ) ، اسد محمد خاں (رکے ہوئے ساون) ، علی تنہا (کرونا کا تاج) ، احمد جاوید (کیڑے مکوڑے ) اور احمد داؤد (گمشدہ مسافر کی گاڑی) ۔

آخری عنوان ”افسانہ:مابعد جدیدیت“ کی ذیل میں سات افسانہ نگاروں کو جمع کیا گیا ہے :

نیلوفر اقبال (گھنٹی) ، یوسف چودھری (پھول آئے کٹہرے میں ) ، نیلم احمد بشیر (اللہ کی مخلوق) ، محمد عاصم بٹ (سکرپٹ) ، محمد حمید شاہد (سورگ میں سور) ، طاہرہ اقبال (لاری اڈا) اور علی اکبر ناطق (شہاب خلیفہ کا شک) ۔

اس انتخاب میں کئی ایسے افسانہ نگار/ افسانے شامل ہو گئے ہیں جو اس سے پہلے کسی ایسی کتاب کا حصہ نہیں ہو سکے۔ مرزا صاحب نے بڑی محنت سے افسانہ نگاروں کے کوائف جمع کیے ہیں۔ ان کی اس محنت اور قرینے نے قیام پاکستان کے بعد کے اردو افسانے پر اسے نہایت مفید کتاب بنا دیا ہے۔

Facebook Comments HS