گڑا ماضی اور آج کا گڑا
آج دن کو جب کالج اوقات میں اچانک تیز بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری شروع ہو گئی تو ملازم دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور استغفار پڑھتے ہوئے بولا کہ سر ہمارے گناہوں کی وجہ سے دیکھیں کتنا بڑا اور زیادہ ”چندرا“ شروع ہو گیا ہے آپ جلدی سے گاڑی اندر کھڑی کر لیں۔ مجھے اس کی اس سادگی پر بہت ہنسی آئی اور میں نے لطافت سے عرض کیا کہ نواز گناہ تو ہم انسانوں کے کردہ ہیں لیکن چندرا ہمارے بجائے گاڑیوں، فصلوں اور جانوروں پر پہ کیوں برس رہا ہے؟
اتنی دیر میں استاد محترم معین نظامی نے ایک پوسٹ پر دعا کی کہ اللہ کرے یہ چندرا ”چندرا“ ہی رہے ”گڑا“ (شدید ژالہ باری) نہ بن جائے۔ اس لفظ گڑا سے یادوں کے دریچے اچانک کھلے اور اپنے زرعی معاشرت والے گاؤں ٹھکر کلاں کا وہ وقت یاد آ گیا جب بزرگوں کی سنائی کہانیوں کے مطابق ہر بڑی آفت کو ٹالنے کے لئے گاؤں میں خدا کے خود ساختہ نمائندے، ہرکارے یا آگے ان کے کارندے موجود ہوتے تھے۔ یہ گاؤں والوں کے فطری مظاہر سے پیدا ہونے والے خوف کو خوب کیش کیا کرتے تھے۔
ایسے ہی ایک گروہ کا نام تھا ”گڑا بنھ“ جو کہیں اور سے آ کر یہاں بسیرا کیے ہوئے تھا۔ جیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہے ان کا دعویٰ تھا کہ دو ٹوپے (چار کلو) گندم فی گھر کے عوض وہ پورے گاؤں پر شدید ژالہ باری (جسے گڑا کہتے ہیں ) کو بند کیے ہوئے ہیں۔ کتنے ہی عشروں تک وہ تیار فصل پر فی گھر یہ پروٹیکشن منی گندم کی صورت حاصل کرتے رہے اور گاؤں کو اپنے تئیں گڑے سے محفوظ بنائے رکھا۔ پھر ایک اللہ کا بندہ نیا نیا وہابی ہو کر آ گیا اور اس نے آہستہ آہستہ اس اعتقاد کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کیا اور یوں آہستہ آہستہ ژالہ باری روکنے کا مسروقہ اذن خدا کو واپس ملا۔ یہ محض تین چار عشرے پہلے کی بات ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ کوئی ایسا گڑا بند کرنے کا دعویٰ کرے تو شاید گاؤں والے اس پہ ہنس ہنس کر اسے پاگل کر دیں۔
یوال نوح ہراری کی کتاب ”سیپیینز“ میں دیوتاؤں کی موت کے عنوان سے قابل ذکر بحث کی گئی ہے کہ کیسے انسانی معلوم تاریخ میں جب تک کوئی معاملہ انسانی تفہیم سے باہر رہا تو وہ کسی دیوی، دیوتا یا بھگوان کے سپرد سمجھا جاتا تھا مگر جیسے ہی اس کی کوئی سائنسی وضاحت سامنے آئی تو اس سے متعلقہ دیوی یا دیوتا صرف ذکر میں باقی رہ جاتا گیا اور انسانی عقیدت سے نکل گیا۔ یوں کتنے ہی یونانی دیویاں، دیوتا اور خدا آہستہ آہستہ موت کی بھینٹ چڑھ گئے جبکہ ان سے منسوب مظاہر انسانی مزاج کے لئے ایک قابل فہم و قبول عمل بن کر انسانی شعور کی علت و معلول کی بنیاد پر کھڑی چار دیواری میں قید ہو گئے۔
اب میرے گاؤں میں عورتیں ”اپلے“ بنانے اور چھت کا لیپ کرنے سے پہلے بھی راہ گزرنے والے سے پوچھ لیتی ہیں کہ پتر ذرا نیٹ سے دیکھ کر بتائیں آج یا کل میں بارش تو نہیں ہونی جبکہ ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر موسم کا حال بتانے والے محمد حنیف کی بارش کی پیشگوئی کو صریحاً قیامت کی پیشگوئی کہا جاتا تھا۔ اب نوبت یہ کہ شادی کے لئے ایک ماہ قبل موسم کی پیش گوئی دیکھ کر ہی ٹینٹ والے کو بیعانہ دیا جاتا ہے اور روز آپ کے جاگنے سے پہلے ہی سکرین پر دمکتا گوگل کا ویدر الرٹ آپ کو چھتری ساتھ لے جانے کا مشورہ دے رہا ہوتا ہے۔ مزید براں گوگل الرٹ زلزے کے شروع ہوتے ہی ان علاقوں کو الرٹ بھیج دیتا ہے جہاں ابھی زلزلہ پہنچنے والا ہوتا ہے۔ تو اب مختصراً عرض کرتا ہوں کہ اولے کیسے پڑتے ہیں۔
جب بادلوں کی نمی یا پانی کسی اوپر کی طرف طوفان کی وجہ سے نیچے برسنے کی بجائے بادلوں سے اوپر شدید ٹھنڈے ایٹمو سفیر کے علاقے میں دھکیل دی جاتی ہے تو وہ جم جاتی ہے اور وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے نیچے کو گرتی ہے۔ نیچے سے دوبارہ اوپر دھکیلے جانے کی صورت میں اس کا سائز بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس سائز تک چلا جاتا ہے کہ اوپر کی سمت ہوا کی دھکیلنے کی قوت بھی اس کو روک نہیں پاتی تو یہ ننھا برف کا ٹکڑا گریویٹی کے زیر اثر سیدھا زمین کی طرف محو سفر ہو جاتا ہے۔ اس کا سائز چند ملی میٹر سے لے کر چند انچوں تک ہو سکتا ہے۔
اللہ بزرگ و برتر کے خوف کو الگ رکھ کر اس کی اس حیران کن کائنات اور اس کے مظاہر کا سائنسی مطالعہ کریں اور ان کو گناہوں سے منسوب کر کے توبہ کرنے کی بجائے اللہ کی قدرت اور صناعی پر فرط محبت سے سبحان اللہ کہیں اور گناہوں سے توبہ کے لئے کسی جواز کے منتظر رہنے کی بجائے گناہوں سے گریز کی پالیسی اور توبہ بلاجواز کا رستہ اختیار رکھیں۔ آخر توبہ اور استغفار کے لئے گڑے اور زلزلے کا انتظار ہی کیوں؟


