اسلام میں خدا کا تصور: اختتامیہ

میں نے گزشتہ بارہ مضامین میں اسلام کے سنہری دور میں اسلامی معاشروں میں فلسفیانہ اور دیگر دلائل کی بنیاد پر خدا کی فطرت اور خصوصیات کی تلاش کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کے سنہری دور کو تقریباً آٹھویں صدی کے وسط سے تیرہویں صدی کے وسط تک کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں اسلامی تہذیب کا عروج آٹھویں صدی میں اس وقت شروع ہو چکا تھا جب اسلامی فقہ کی تشکیل ہوئی تھی۔ پانچ مکاتب فکر ہیں۔ ان مکاتب کے بانی جعفر الصادق ( 702۔ 765 ) ، ابو حنیفہ ( 699۔ 767 ) ، مالک بن انس ( 711۔ 795 ) ، محمد بن الشافعی ( 767۔ 820 ) ، اور احمد بن حنبل ( 780۔ 855 ) ہیں۔ یہ سب ہی ہم عصر تھے۔ انہوں نے اسلامی فقہ کے قوانین زیادہ تر عقلی دلائل کی بنیاد پر تشکیل دیے۔ اس ماحول نے یونان کے ساتھ ساتھ فارس، ہندوستان اور چین کے فلسفیوں، سائنسدانوں اور دانشوروں کی تعلیمات کو جاننے کی تڑپ پیدا کی۔ یہ وہ دور بھی تھا جسے روایتی طور پر سائنس کے اسلامی سنہری دور کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔
ان مضامین میں پیش کی گئی خدا کی تلاش کی یہ مختصر تاریخ کئی طاقتور پیغامات پر مشتمل ہے :
سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ خدا ایک ایسا تصور ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہے۔ عقل اور فلسفے کی بنیاد پر خدا کی تلاش نے متضاد نتائج دیے۔
الکندی اس نتیجے پر پہنچے کہ کائنات محدود ہے اور ابدی نہیں ہے۔
ابن سینا، اسی طرح کے فکری دلائل کی بنیاد پر اس کے بالکل برعکس نتیجہ پر پہنچے کہ کائنات لامحدود اور ابدی ہے۔
الفارابی اور ابن سینا کا خدا سادہ اور انسانی معاملات میں مداخلت کرنے سے قاصر تھا۔
الاشعری اور ان کے پیروکاروں کا خدا اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہ خدا دنیا میں ہونے والے ہر عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔
الغزالی کو یقین تھا کہ خدا انسانی عقل سے ماورا ہے۔ ان کے نزدیک فلسفیانہ دلائل کے ذریعے خدا کو تلاش کرنے کی کوئی بھی کوشش متضاد نتائج دینے کی پابند ہے۔
صوفیاء کا خیال تھا کہ انسان صوفیانہ تجربے کے ذریعے خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ اسلامی معاشروں میں ایک مقبول نظریہ بن گیا۔ تاہم، صوفیانہ تجربے کا کوئی واضح طریقہ نہیں ہے۔ صوفیانہ تجربہ مابعد الطبیعیات کے دائرے میں ہے اور فطرت کے قوانین اس کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔
اور پھر بنیاد پرست تھے جو قرآن کے اصل متن کی تشریح پر یقین رکھتے تھے۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ عالمی تاریخ کے یہ عظیم ترین عالم خدا کے بارے میں کتنے مختلف نتائج تک پہنچے۔ یہ تو ان فلسفیوں اور عالموں کا حال ہے جو مسلمان تھے اور اسلامی سنہری دور کی علامت تھے۔ اگر ان علما کے خیالات کو بھی شامل کیا جائے جو اسلامی دائرے سے باہر تھے تو صورت حال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ خدا وہی ہے اور ویسا ہی ہے جیسا وہ تصور کرتے ہیں۔
میرے نزدیک تو ہماری عقلی سوچ کی حدود خدا سے وابستہ کوئی بھی سوال کو بے معنی بنا دیتی ہیں۔ ا گر اس کائنات کے پیچھے کوئی ہے تو وہ ہمارے تصورات کی صلاحیتوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انسانی علم کی کم مائیگی اور عاجزی کو میں اس طرح بیان کروں گا۔ خدا کے بارے میں انسان کا عمومی تصور زمان و مکان کے ایک دائرے کے اندر ہی محدود ہے۔ ہماری سوچ کی پرواز کی ایک حد ہے ہم اس سے باہر جا کر کچھ بھی سوچ نہیں سکتے۔ ہمارا موجودہ شعور صرف ایک سہ سمتی زمانے کا تصور کر سکتا ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف جا رہا ہے۔ یہاں غلطی یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کا تصور زمان و مکان بھی ہماری طرح کا ہے۔ اسی لئے روز مرہ زندگی میں ہم خدا کی جو صفات بیان کرتے ہیں وہ عین انسانی صفات ہیں۔ میری نظر میں اس بات سے ہماری جہالت اور کبھی کبھی ہٹ دھرمی کا اندازہ ہوتا ہے۔
زمان و مکان، کائنات کے اسرار و رموز اور خدا کی حقیقت سمجھنے کے لئے ہمارے پاس علم کتنا محدود ہے؟
کیا ہمارے حواس خمسہ اور ہمارا تمام علم کا ذخیرہ اس قابل ہیں کہ ہم خدا جیسی مافوق الفہم ہستی کے بارے میں وثوق سے یہ جان سکیں کہ وہ وجود رکھتی ہے یا نہیں؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی نومولود بچہ یہ بتانے کی کوشش کرے کہ راکٹ کیسے چلتا ہے۔
ہمارا المیہ ایک اور بھی ہے۔ ہم تو وثوق سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس عالم میں ہم اپنے آپ کو زندہ جاوید اور جیتا جاگتا محسوس کرتے ہیں کیا یہ واقعتاً ایسا ہی ہے؟ اس جہاں میں ہماری زندگی ایک خواب بھی تو ہو سکتی ہے۔
یہاں پہنچ کر ایک اہم سوال جنم لیتا ہے : اس بحر بے کراں ایسی کائنات کے وجود کا آخر مقصد کیا ہے؟ بطور بنی نوع انسان ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات ہم زمین کے باسیوں کے لئے بنائی گئی ہے۔ ایسا دعوٰی کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی حیثیت ہی کیا ہے اور کائنات کی ترتیب میں ہمارا کردار کیا ہے۔
ذرا تصور کیجئیے، ہماری کہکشاں اپنے اندر کھربوں ستارے رکھتی ہے جن میں سے سورج ایک معمولی ستارہ ہے۔ اور کائنات کے اندر اس طرح کی کھربوں کہکشائیں موجود ہیں؟ اس بات کی کوئی سائنسی توجیح نہیں ملتی کہ یہ کائنات محض ہمارے لئے بنائی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم اس پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے اور ہمارا وجود کائنات کو متاثر کر سکتا۔ موجودہ سائنسی تحقیق کے مطابق ہماری رفتار کی ایک حد ہے جو روشنی کی رفتار ہے۔ کوئی چیز روشنی سے زیادہ تیزی سے حرکت نہیں کر سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو قریب ترین ستارے تک پہنچنے میں بھی چار سال لگیں گے۔ لہٰذا ہماری کم مائیگی کہ ہم کسی قریبی ستارے کی سیر پر بھی نہیں جا سکتے۔ اگر یہ سب تماشا ہمارے لئے ہوتا تو ہم میں یہ صلاحیت تو ہونی چاہیے تھی۔
ایک اور امکان بھی موجود ہے کہ کائنات کا وجود ہی نہ ہو۔ اور جس کو ہم کائنات سمجھ رہے ہیں یہ ہمارے دماغ کا بنایا ہوا افسانہ ہو۔ کچھ ایک خواب ہو اور ہم پر حقیقت اس وقت منکشف ہو جب ہم نیند سے جاگ جائیں۔
ان متجسس اور پریشان کن خیالات کی اساس اس ارتقاء پذیر اور محدود علم پر ہے جو ہمیں موجودہ وقت تک حاصل ہوا ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم کسی طور اس پوزیشن میں نہیں کہ خدا سے وابستہ سوالات کا کوئی مستند جواب دے سکیں۔ اشرف المخلوقات کا متکبرانہ دعویٰ رکھنے کے باوجود ہماری حیثیت زمین پر رینگنے والے کیڑے سے زیادہ نہیں۔ اپنی ذات اور حیثیت پہچانے بغیر خدا اور اس کی سر گرمیوں کے بارے میں بڑے بڑے سوالات اٹھانا ایک دعوٰی باطل اور دکھاوے کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح وحی کی حقیقت اس وقت تک معلوم نہیں کی جا سکتی جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ الہیات سے ہماری مراد کیا ہے؟ اور یہ کہ ہمارا اپنا تجربہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
ان مضامین کو لکھنے کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ یہ سمجھا جائے کہ اسلامی دنیا اپنی ابتدائی صدیوں میں ایک سنہری دور سے کس طرح تاریکی کے موجودہ دور میں داخل ہوئی۔ اور یہ کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک روشن سائنسی دور میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔
ایک سائنسی سوچ صرف عقلی دلائل پر سچائی کی تلاش کی متقاضی ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ سائنس نے مسلم دنیا میں اس زمانے میں ترقی کی جب فلسفیانہ نقطہ نظر کو خدا کے وجود اور فطرت جیسے مذہبی سوالات کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ الکندی کے زمانے سے لے کر ابن رشد تک کے دور میں، مسلم تہذیب نے الخوارزمی، الہازن، ابن خلدون، ناصر الدین الطوسی، بنو موسیٰ برادران، الزھروی جیسے سائنس دان اور ریاضی دان پیدا کیے۔ الکندی بذات خود آپٹیکس، میڈیسن اور ریاضی میں اہم خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔
یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ اسلام کا سنہری دور چودھویں اور سترہویں صدیوں کے درمیان یورپ میں رونما ہونے والے سائنسی انقلاب سے مکمل طور پر الگ نظر آتا ہے۔ صرف اس بات پر زور دینے کے لیے کہ فلسفیانہ اور سائنسی ترقی کس طرح ایک ساتھ چلتی ہے، یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ جس دور میں یورپ نے اعلیٰ پائے کے سائنسدان پیدا کیے، اس نے ایسے فلسفی بھی پیدا کیے جن کے خیالات نے ہمارے ارد گرد کی دنیا کو بدلنے میں مدد دی۔
جدید یورپی تہذیب جس کا آغاز سترہویں صدی کے آغاز میں ہوا تھا اس نے بڑی تعداد میں ایسے سائنسدان پیدا کیے جن کی تحقیقات اور دریافتوں نے سائنسی اور صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اس انقلاب نے ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں کو تشکیل دیا۔
ان سائنس دانوں میں گیلیلیو گیلیلی ( 1564۔ 1642 ) شامل تھے، جو پہلے شخص تھے جنہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ فطرت کے قوانین کو الفاظ کی شکل میں پیش کرنے کی بجائے، ریاضی کی زبان میں لکھا جانا چاہیے،
آئزک نیوٹن ( 1643۔ 1727 ) ، جن کے بتائے ہوئے قانون کشش ثقل کے ساتھ ساتھ حرکت کے قوانین نے جدید سائنس کی بنیاد رکھی،
انٹونی لاوائسیر ( 1743۔ 1794 ) جنہیں کیمسٹری کے موجودہ دور کا بانی سمجھا جاتا ہے،
پیر سائمن لاپلاس ( 1749۔ 1827 ) جن کا کام انجینئرنگ، ریاضی، شماریات اور طبیعیات کی ترقی کے لیے اہم تھا،
مائیکل فیراڈے ( 1791۔ 1867 ) ، جن کی بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان تعلقات کی دریافت نے صنعتی انقلاب کی بنیاد فراہم کی، چارلس ڈارون ( 1809۔ 1882 ) ، جن کے نظریہ ارتقاء نے قدرتی انتخاب کے ذریعے جینیات کے شعبے کو جنم دیا،
جیمز کلرک میکسویل ( 1831۔ 1879 ) جنہوں نے بجلی اور مقناطیسیت کے قوانین کو مکمل کیا، اور
البرٹ آئن سٹائن ( 1879۔ 1955 ) جن کے کام نے خلا اور وقت کے ہمارے تصور میں انقلاب برپا کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی دور نے فلسفیانہ تحقیق کی شاندار روایات قائم کیں۔ اس دور کے نامور فلسفیوں کی مکمل لسٹ تو بہت طویل ہے۔ یہاں چند اہم نام پیش کرتا ہوں۔
فرانسس بیکن ( 1561۔ 1626 ) ، جنہیں تجرباتی علم کا بانی سمجھا جاتا ہے اور جن کے مطابق علم بنیادی طور پر حسی تجربے سے حاصل ہوتا ہے،
رینے ڈیکارٹس ( 1596۔ 1650 ) ، جنہیں مغربی فلسفہ کا باپ مانا جاتا ہے،
جان لاک ( 1632۔ 1704 ) جنہوں نے سیاسی فلسفے پر گہرا اثر ڈالا اور جن کے نظریات نے چرچ اور ریاست کی علیحدگی کے تصور میں اہم کردار ادا کیا،
والٹیئر ( 1694۔ 1778 ) جنہوں نے مذہب کی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، اور چرچ اور ریاست کی علیحدگی کے خیالات کی بنیاد رکھی،
جان جیک روسو ( 1712۔ 1778 ) ، جن کا خیال تھا کہ اچھی حکومت کا بنیادی مقصد اپنے تمام شہریوں کی آزادی ہونا چاہیے،
ایمانوئل کانٹ ( 1724۔ 1804 ) ، جنہوں نے اس خیال کی حمایت کی کہ انسانی آزادی کے بغیر، اخلاقی ذمہ داری ناممکن ہو گی،
جارج ولہیم فریڈرک ہیگل ( 1770۔ 1831 ) ، جن کے فلسفے نے حتمی حقیقت کو چیزوں کے بجائے خیالات سے وابستہ کیا،
آرتھر شوپنہاؤر ( 1780۔ 1860 ) ، جنہوں نے اخلاقیات کا نظریہ پیش کیا، اور
کارل مارکس ( 1818۔ 1883 ) ، جن کے معاشرے، معاشیات اور سیاست کے بارے میں نظریات، جنہیں اجتماعی طور پر مارکسزم کہا جاتا ہے، نے بیسویں صدی کی سیاست پر اہم اثرات مرتب کیے، ان کا خیال تھا کہ انسانی معاشرے طبقاتی کشمکش کے ذریعے ترقی کرتے ہیں۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ تاریخ میں سائنسی اور فلسفیانہ افکار کس طور ایک دوسرے سے وابستہ رہے۔ مثال کے طور پر ایک طرف 1517 میں مارٹن لوتھر نے عیسائی چرچ میں ایک اصلاحی تحریک پیش کی جس نے کلیسائی بنیادیں ہلا دیں اور دوسری طرف چند سالوں بعد نکولس کوپرنیکس نے 1543 میں سیاروں کی حرکت کا ایک نیا ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا جس نے ہزاروں سال پرانے بطلیموسی ماڈل کی جگہ لی۔
سائنسی اور فلسفیانہ افکار کے اتحاد کی مزید علامت کے طور پر، یہ حیرت انگیز مشاہدہ ہے کہ گیلیلیو گیلیلی جنہیں جدید سائنس کا باپ مانا جاتا ہے اور رینے ڈیکارٹ جنہیں مغربی فلسفے کا باپ سمجھا جاتا ہے، سترہویں صدی میں اسی طرح ہم عصر تھے جیسے فلسفی الکندی اور سائنسدان جابر بن حیان نویں صدی کے اس دور میں ہم عصر تھے جس میں اسلام کے سنہرے دور کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔
تو، ہم ان مضامین میں پیش کی گئی تاریخ سے کیا سیکھتے ہیں؟
میری رائے میں، پیغام بالکل واضح ہے :
کوئی معاشرہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر عقلی نقطہ نظر کو اپنائے بغیر اپنی تاریک رات سے نکلنے کی امید نہیں کر سکتا۔ فلسفہ زندگی کے ہر شعبے میں سوالات کرنا سکھاتا ہے جو سائنس کی اساس ہے۔ مسلم معاشروں کو اپنے نقطہ نظر اور روایات میں فلسفہ اور سائنسی فکر کو واپس لانے کی اشد ضرورت ہے۔ سائنس اور فلسفے کے دائرے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن تاریخ کا پیغام یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے۔ معاشرے کو بحیثیت مجموعی ان فلسفیانہ روایات کو اپنانا چاہیے جو اسلام کی ابتدائی صدیوں میں سنہری دور کے عروج کی ذمہ دار تھیں۔
سکندر اعظم، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی اور محمود غزنوی جیسے جنگی ہیروز کے بارے میں پڑھانے کی بجائے، ہمیں اپنے بچوں کو افلاطون، ارسطو، الکندی، الفارابی، ابن سینا، الغزالی، ابن رشد اور دیگر کے فلسفیانہ نظریات اور ان کی خدمات کو سکھانا چاہیے، جنہوں نے عالمی تہذیب کی فکری تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ اسلام میں خدا کے تصور سے متعلق مضامین کی سیریز کا آخری مضمون تھا۔ مین ان قارئین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ مضامین پڑھنے کی زحمت گوارا کی اور خاص طور پر ان قارئین کا جنہوں نے اپنے ریمارکس سے نوازا۔ میں ’ہم سب‘ کی ادارتی ٹیم کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے ان مضامین کو من و عن چھاپنے کی روایت کو برقرار رکھا۔
ان مضامین پر مختلف فورمز پر دیے گئے ریمارکس سے مجھ کو یہ محسوس ہوا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر یہ واضح نہیں کہ سائنس اور مذہب کا کیا تعلق ہے۔ اگلے مضامین میں، میں اپنی سوچ کے مطابق یہ واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ
سائنس کیا ہے؟
سائنسی سوچ کیا ہے؟ اور
سائنس اور مذہب کا کیا تعلق ہے؟

