داخلی تضادات اور قیادت کا بحران
بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ 8 فروری انتخابات کے نتائج ریاستی ڈھانچہ کو کسی نامطلوب تصادم کی طرف دھکیلنے لگے ہیں، الیکشن سے پہلے جو مملکت دو راہے پہ کھڑا دکھائی دیتی تھی اب اس نے ایک واضح سمت اختیار کر لی یعنی یہ کشمکش اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوا چاہتی ہے، ایک ایسے وقت میں جب ملک و قوم کو کلیئر بیانیہ کی حامل غیر متنازعہ لیڈر شپ کی ضرورت تھی، عین اس وقت قوم فکری بحران اور لیڈر شپ گہرے تنازعات میں الجھ کر رہ گئی، جو لوگ الیکشن میں واضح جیت کی توقع کے ساتھ میدان میں اترے تھے وہ بھی اب مایوسی کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آتے ہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف مشکل حالات میں ملک کی قیادت کی خاطر چار سالوں کی جلاوطنی ترک کر کے وطن واپس آئے لیکن حالات کے جبر نے انہیں پس منظر میں دھکیل دیا، اب ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا۔
اسی طرح انتخابات سے ایک ہفتہ قبل توشہ خانہ چوری اور ریاستی راز افشا کرنے سے لے کر غیر قانونی شادی تک کے الزامات کے تحت عمران خان کو تین مختلف مقدمات میں دہائیوں تک قید کی سزا نے داخلی تضادات کی دھار مزید تیز کر دی، جس کی گونج ہمیں اقتدار کی غلام گردشوں سے لے کر گلی کوچوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی انتخابی سیاست کی بے ثباتی سے اکتا کر گلی میدان میں مزاحمتی ماحول برپا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی، لبیک، جے یو پی، جی ڈی اے اور بلوچستان و خیبر پختون خوا کے نسل پرست گروہوں نے ریاستی مقتدرہ کی طرف سے انتخابی انجنئیرنگ اور سیاسی جماعتوں کی ادھیڑ بن کی روایت کے خلاف حتمی مزاحمت کے لئے کمر کس لی ہے، جس کی واضح مثال پختون خوا میپ کے محمود خان اچکزئی کی پارلیمنٹ میں پرجوش تقریر اور بعد ازاں حکمراں اتحاد کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے مقابل پی ٹی آئی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کی پیش دستی کی صورت میں سامنے آئی، اگرچہ محمود خان اچکزئی کا طرز عمل ایسے مجبور کے ردعمل کے سوا کچھ نہیں جو خود کو تھکانے کی خاطر رسی کودنے کی رسم پوری کرنا چاہتا ہو، حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ کی ریجنل نیشنل ازم کی حامل علاقائی جماعتیں ایک قسم کے جمود میں مبتلا ہو کر عوامی جذبات کی رفتار کے ساتھ ہم قدم رہنے کے قابل نہیں رہیں، اس لئے ان دور افتادہ علاقوں کے عوام نے پی ٹی آئی کی فعالیت میں اپنا مستقبل تلاش کرنے کی راہ اپنائی۔
لاریب، اپنی تمام تر قباحتوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ثقافتی تفریق اور سیاسی افراط و تفریط کو ہموار کر کے پوری قوم کو ایک قسم کی ذہنی وحدت میں جوڑ لیا، چنانچہ حالات کے دھارے پہ خس و خاشاک کی طرح بہتے قوم پرست رہنماؤں اور مذہبی قوتوں نے اپنی بقاء کے لئے خود کو پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار کرنے میں عافیت تلاش کر لی، جس طرح محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے فلور پہ الیکشن میں دھاندلی کے پی ٹی آئی کے بیانیہ کی توثیق کر کے خود سپردگی کا اعلان کیا، اسی طرح جماعت اسلامی کے حافظ نعیم، جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن اور جے ڈی اے کے صدر پیر پگاڑا نے بھی اپنا وزن پی ٹی آئی کے بیانیہ کے پلڑا میں ڈال کر اپنی جداگانہ علاقائی شناخت کو مرکزی دھارے کی جماعت پی ٹی آئی میں ضم کر دیا۔
یہ نئی صف بندی دراصل گزشتہ پچھتر سالوں سے مملکت کے مقدر پہ چھائے اس جمود کو توڑنے کی طرف پیشقدمی نظر آتی ہے جس نے سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقاء کے فطری عمل کو روک رکھا تھا۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ مملکت کو اس بحران سے نکالنے کے لئے فوج، سول بیوروکریسی، جوڈیشری اور سیاسی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور مسائل کا حل تلاش کرے لیکن عمران خان ہر سیاسی جماعت، ہر ادارے سمیت راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو مسخر کرنے کے لئے سر بکف ہیں، چنانچہ رواں الیکشن کی شکست خوردہ جماعتوں کی طرح کمزور ہو کر جو عناصر خان کی نفسیاتی برتری قبول کر لیتے ہیں وہ انہیں اپنے طلسماتی حصار میں لے کر دیگر کی تسخیر کے لئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔
اس لئے بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہمارے نفسیاتی ماحول میں سیاسی مفاہمت کا کوئی امکان باقی نہیں بچا بلکہ وسیع تر قومی مفاہمت کی جگالی کرنے والی قوتیں بدستور زوال آشنا اور مزاحمتی کردار بتدریج توانائی حاصل کرتے جائیں گے۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو موجودہ جمود پرور نظام کے حصار کو توڑنے کی خاطر سسٹم سے حاصل ہونے والی تمام مراعات ترک کر کے اسی طرح کی سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس قسم کی سیاسی جدلیات کو عمران خان نے مہمیز دے کر پورے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے، اس کام میں تاخیر کی گنجائش نہیں، اگر دونوں قومی رہنماؤں نے جلد کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو وقت قیامت کی چال چل جائے گا، دونوں کو واضح انداز میں سویلین بالادستی اور آئین کی حکمرانی قائم کرنے کی خاطر پس پردہ قوتوں کی بالادستی کو چلینج کرنا ہو گا، اگر وہ تن آسان لوگوں کی طرح کسی مہمل سی مفاہمت اور پرامن اصلاحات کی امید پر یونہی گومگو کا شکار رہے تو وقت انہیں پامال کر کے آگے بڑھ جائے گا۔
عبرانی کہاوت ہے کہ تقدیر ہمیشہ دلیروں کا ساتھ دیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس تو اب کھونے کے لئے کچھ نہیں بچا، اسے پی ٹی آئی سے منسلک ہو کر اپنا دینی وقار اور سیاسی وجود گنوانے کی بجائے میدان عمل میں اتر کر جمود پرور قوتوں کو چلینج کرنا چاہیے، وہ اپنے سیاسی قد کاٹھ کے باعث اجڑے ہوئے قوم پرستوں، مذہبی جماعتوں اور بکھرے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کر کے سیاسی نظام پہ مقتدرہ کی بالادستی کو چلینج کر سکتے ہیں، اس مقصد کے حصول کی خاطر، نواز لیگ، جماعت اسلامی، جے یو پی نورانی، اے این پی، لبیک، پی ٹی ایم، سندھ ڈیموکریٹک الائنس، ایم کیو ایم لندن، شاہد خاقان عباسی، مصطفے نواز کھوکھر، عبدالمالک بلوچ، اختر مینگل اور خوشحال کاکڑ سمیت وکلاء، دانشوروں، صحافیوں، کسانوں، مزدوروں اور دیگر پریشر گروپوں کو انگیج کریں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ریاستی کریک ڈاؤن کے ذریعہ مسخر کرنے میں ناکامی اس بات کی نشاندہی ہے کہ ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے مقتدرہ کی آزمائی گئی پلے بک اب کارآمد نہیں رہی اور موجودہ الیکشن رابع صدی پہ محیط جمود کے خلاف ایک ووٹ تھا، جس میں عوام کی اکثریت نے مقتدرہ کی سیاسی مداخلت کو مسترد کر کے قومی قیادت کو آگے بڑھ کر عنان ہاتھ میں لینے کا بہترین موقعہ فراہم کیا ہے۔ بلاشبہ خان نے اپنی برطرفی کے لیے ایک زمانے کے مقدس ادارے کو واضح طور پر ذمہ دار ٹھہرا کر گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستانیوں کو اپنی فوج کے خلاف صف آراء بنایا۔
سوشل میڈیا پہ ملک کے نوجوان اور متوسط طبقہ کی اکثریت نے ملک کی سیاست میں فوج کے آہنی ہاتھ والے کردار سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ پاکستان کا نوجوان طبقہ ایک بڑا اور بڑھتا ہوا آبادیاتی ریلا اور ایک اہم ووٹنگ بلاک ہے، اس الیکشن میں 44 فیصد ووٹرز کی عمر 35 سال سے کم تھیں۔ مگر افسوس کے ہم قومی سطح کی قیادت کے بحران کا شکار ہیں، میاں نواز شریف تاریخی شعور سے عاری اور مولانا فضل الرحمن مذہبی اقدار کے حصار میں مقید ہیں، آصف علی زرداری سودا بازیوں کے ذریعے حصول اقتدار کے نشہ میں سرمست اور عمران خان جنون استرداد میں مبتلا ہو کر ذہنی لچک گنوا بیٹھے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں میں طویل مدتی پالیسیوں میں دلچسپی کا فقدان ہے، وہ تاریخی نتائج کی تدوین کرنے والے مہاتما گاندھی، کمال اتاترک، ابراہم لنکن، ولادیمیر لینن، جوزف اسٹالن، ایڈولف ہٹلر، ماؤزے تنگ، اور ونسٹن چرچل جیسے کرداروں سے مماثلت نہیں رکھتے۔ بلاشبہ تاریخی واقعات اور رہنماؤں کا تعین معاشرہ کرتا ہے اور شاعر ادیب دانشور اور لکھاری معاشرتی دھارے کو ریگولیٹ کرتے ہیں، کرشماتی لیڈر صرف اس صورت میں پیدا ہوتے ہیں، جب بیوروکریسی یا سماجی اصولوں میں مداخلت نہ ہو کیونکہ تاریخی قوتیں، ادارے اور رہنما سب اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اس بحث کو کھولے کہ کون بہتر اور قوم کو چلانے کے لیے موزوں ہے۔


