مسٹر بلاول بھٹو زرداری پاکستان ایک فیڈریشن ہے
اس بات پر بحث کیے بغیر کہ پاکستان کے بخیے بجرے میں واقعی سابق وزیر اعظم، سابق صدر مملکت اور سابق سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید (آپ کے نانا) کے ”ادھر تم ادھر ہم“ کے نعرہ کا ہاتھ تھا یا وہ اس کھیل کے ایک کھلاڑی تھے۔ جب موصوف جنرل ایوب خان کے ڈکٹیٹرانہ دور میں وزارت خارجہ کے مراعات سے مستفید ہو رہے تھے۔ قوم پرست رہنماء بشمول سندھی، پنجابی، بلوچ، سرائیکی بنگالیوں کے اسی ڈکٹیٹر کے ”ون یونٹ“ کے خلاف قید و بند کی بد ترین صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ جن میں آخری قیدی محمود خان اچکزئی کے والد گرامی محترم عبدالصمد خان اچکزئی ہی تھے۔ جو بعد میں اپنے ہی گھر میں بم دھماکوں سے شہید کر دیے گئے۔ اگر اس کی مکمل تحقیقات کی جاتی تو اس میں بھی ضرور کچھ پردہ نشینوں کے نام ہی آتے۔
موجودہ پنجاب کے پیٹ کو پھلانے کے لیے صوبہ بہاولپور کو ختم کرنا اور اس کو پنجاب میں ضم کرنا جبکہ پختونخوا کے دو اضلاع اٹک اور میاں والی کو اس سے کاٹ کر پنجاب میں شامل کرنا پیپلز پارٹی کے دور حکومت ہی میں 1973 کے آئین کے ذریعے ممکن بنایا گیا اور اس کو اتنا پھلایا کہ پنجاب ہی کو پاکستان بنا دیا۔ سرائیکیوں کی شناخت ہی مٹا دی۔ اسی لیے تو پیپلز پارٹی گاہے بگاہے جنوبی پنجاب کے صوبے کی بات کر کے ایسے زیادتی کا ازالہ کرنا چاہتی ہے۔
ساتھ ہی پختون صوبے کمشنر پراونس (برٹش کمشنریٹ) کو جدا گانہ پختون صوبے کی حیثیت دینے کی بجائے بلوچ صوبے ”سٹیٹس آف قلات“ میں ضم کر کے بلوچستان کا نام دیا گیا۔ اور وہاں کے پختونوں کی شناخت ہی ختم کردی۔ اس آئین کی منجملہ ان ہی وجوہات پر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے عوامی نیشنل پارٹی سے اپنی راہیں ہی جدا کر دیں تھیں۔ جو آج محترم محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے نام سے ہر آمر و غاصب اور ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔
اسی آئین میں صوبوں اور دیگر قوموں کے ساتھ مختلف شکل میں بہت زیادتیاں کی گئیں ہیں۔ اور ان کا قومی، معاشی اور دیگر استحصال کی وجہ ہی سے اسی وقت سے تمام قوم پرست اور صوبائی حقوق کے ترجمان اس پر شاکی چلے آرہے ہیں۔ اور پاکستان کے اسی آئین کے مطابق برابر کی شہری، بنیادی حقوق اور اپنے حقیقی مسائل کے لیے وقتاً فوقتاً کبھی سندھی بلوچ پختون فرنٹ تو کبھی رہبر کمیٹی۔ کبھی پونم تو کبھی تو کبھی پی این ڈی اے بناتے اور خوار ہوتے اور تشدد اور قید و بند برداشت کرتے رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود جب بھی جمہوریت خطرے میں پڑتا ہے تو یہ کبھی آئی جے آئی تو کبھی پی این اے کبھی اے پی ڈی ایم تو کبھی پی ڈی ایم کے فعال ممبرز بن کے تحریک میں جان ڈالتے ہیں اور مین سٹریم پارٹیوں پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ کے سروں پر اقتدار کے ہما بٹھا دیتے اور پھر اپنی ہی حکومتوں میں از سر نو خوار ہوتے رہتے ہیں۔
بلوچ قوم کب سے مسلح جدوجہد کر رہی ہے اور پختون اپنے ہی وطن میں بے گھر ہوکے آئی ڈی پی بن کے کیمپوں میں رہتے رہے ہیں۔ سکولوں، بازاروں، مسجدوں، مدرسوں، باراتو، جنازوں اور ہر جگہ اپنے پیاروں کے چیتھڑے اٹھا اٹھا کے تکان اور آنسو تک ختم کر چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کا ایک ہی نعرہ ہے آئین۔ جمہوریت اور پاکستان زندہ باد۔ وفاق تو چند میل پر محیط ہے جس کے سرے سے کوئی وارث والی ہی نہیں اگر ہے تو ان ہی قوم کے لوگ ہیں۔
باقی تو پنجابی سرائیکی سندھی بلوچ اور پشتون اور ان کا رقبہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تو اقتدار کے واری واری پر متفق نظر آرہے ہیں اور اب جبکہ تحریک انصاف اپنا حصہ مانگتا ہے تو مسلے مسائل پیدا ہوئے۔ حکومت خواہ جمہوری ہو کہ آمرانہ قوم پرست یا تو اپوزیشن میں اور یا پھر سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہی رہتے ہیں۔
ایسے میں کوئی بھی قوم پرست جماعت اور لیڈر ہی جو اس سب مسائل اور مشکلات سے آگاہ ہوتا ہے اپنے اور دوسری قوموں کے مشکلات حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات ضرور کریں گے۔ جس سے ملک میں پیار محبت اتفاق اور اعتماد کی فضاء پیدا ہوگی جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ اس لیے جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب آپ کو علم ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے۔ صوبوں اور قوموں کے وسائل پر چلتا ہے۔ اور کسی بھی شخص یا جماعت کو ملکی سیاست کے لیے قومی سیاست چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ وہ سب سے بہتر چلائے گا۔


