آزادی سے غلامی تک کا سفر

حال ہی میں ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ ایک سیاسی ریلی کے دوران جب بھٹو تقریر کر رہے تھے تو ایک گائے نجانے کہاں سے اسٹیج پر آ گئی۔ گھبرانے کے بجائے، بھٹو نے فی البدیہہ کہا، ”یہاں تک کہ گائے بھی پی پی پی (پاکستان پیپلز پارٹی) میں شامل ہونا چاہتی ہے!“ یہ دلچسپ فقرہ ان کے سیاسی کیریئر کا یادگار لمحہ بن گیا۔
بھٹو نے تو وہ بات یقیناً ازراہ مذاق ہی کی ہو گی۔ مگر ہماری طرز سیاست کا اب یہ طرہ امتیاز بن چکی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ گائے تو اصل تھی جو بھولے بھٹکے بھٹو صاحب کے جلسے میں آ گئی۔ لیکن ہم 25 کروڑ انسانوں کی سات دہائیوں پر مشتمل انتھک محنت بھی آخرکار رنگ لے آئی ہے اور خدا کے فضل وکرم سے ہم ایک زندہ اور آزاد قوم کے درجہ اول سے ترقی کر کے گائے بھیڑوں اور بکریوں کے درجہ سوئم پر فائز ہو گئے ہیں۔
اب ہم نہ صرف نام نہاد سیاسی پیشواؤں کے مریدین بن کر بھیڑ بکریوں یا گایوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے ہرے کرشنا ہرے رام کی مالا جپتے ہیں۔ بلکہ یہ رسم اب ایک عبادت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ اس حقیقت سے بے خبر کہ جب ہم کسی بھی سیاسی رہنما کی اندھی تقلید کرتے ہیں، تو اپنی خودمختاری اور آزاد سوچ سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک دن یہی اندھی وفاداری لیڈروں کو طاقت کا غلط استعمال کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس اندھی تقلید نے خوشنودی اور چاپلوسی کے ایسے کلچر کو فروغ دے دیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں پر سوال اٹھانے یا چیلنج کرنے کو ایک گناہ سمجھا جانے لگا ہے۔
جس کا بھیانک نتیجہ جمہوری اداروں کے زوال اور چند لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار کے ارتکاز کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں سیاسی لیڈروں کے ساتھ اندھی وفاداری رائج ہو، جو لوگ اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہیں یا منفی طرز جمہوریت پر تنقید کرتے ہیں انہیں بدمعاشی، ظلم و ستم یا یہاں تک کہ تشدد تک کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔
اقتدار کی جنگ میں اس 25 کروڑ عوام کی رہی سہی کمر موروثی سیاست نے توڑ دی ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس قوم کی تقدیر پر چند خاندانوں کی موروثی حکمرانی نے انمٹ سیاہی سے مہر ثبت کر دی ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ جھولے سے لے کر قبر تک، اس قوم کے ہر فرد کی گردن پر ایک منتخب اشرافیہ کی غلامی کا طوق جکڑا ہوا ہے۔ نسل در نسل، جبر کی میراث مشعل کی طرح ایک حکمران خاندان سے دوسرے خاندان تک منتقل ہوتی جا رہی ہے۔ دیکھا جائے تو اس قوم کی جہالت ہی وہ بنیادی اساس ہے جس پر مٹھی بھر افراد اپنے موروثی اقتدار کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔
نسلوں سے چند حکمران خاندانوں نے عوام کو بیوقوف بنانے کے فن میں ایسی مہارت حاصل کر لی ہے کہ وہ بیل کو اگر اونٹ بھی کہیں تو ہم آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں جب کہ حقیقت میں وہ گھوڑا ہوتا ہے۔
وقت آگے بڑھ رہا ہے، پھر بھی خاندانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی گرفت اس قوم کے گرد مضبوط سے مضبوط تر ہو کر اپنی خواہشات کا غلام بنا رہی ہے۔ ہر زمانے میں، اس قوم کی تقدیر منتخب چند افراد کے ذاتی مفادات کی بدولت ان کے نسب سے طے ہوتی ہے۔ ہر گزرتی نسل کے ساتھ، اس قوم کی خودمختاری خاندانی بالادستی کے بوجھ تلے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اور اسے اشرافیہ کی ذاتی جاگیر سمجھا جانے لگا ہے۔ جہاں حکمران خاندانوں کے شاندار محلات کئی دہائیوں کے استحصال کی یادگار کے طور پر کھڑے ہیں وہیں ہر تاج کے پیچھے دبے ہوئے لوگوں کی خاموش فریاد چھپی ہوئی ہے۔
چند مراعات یافتہ افراد کے ہاتھوں میں جکڑی اس قوم کی حیثیت محض کٹھ پتلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ کبھی پاکستان کھپے، کبھی ووٹ کی عزت اور کبھی صراط المستقیم کے نام پر اس قوم کے ساتھ مسلسل پتلی تماشا کھیلا جا رہا ہے۔
اب تو یہ راز بھی صیغہ راز نہ رہا کہ کیسے نادیدہ قوتوں نے چند اشرافیہ کو ڈھال بنا کر اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لئے عوام کا استحصال کیا۔ اور فن خوبصورتی سے اس ہتھیار کو اس قوم کو دائمی غلامی کی طرف لے جانے کے لئے بڑی ہنر مندی اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔
ضرب کلیم کی نظم ”نفسیات غلامی“ میں علامہ اقبال نے اس قوم کی آزادی سے غلامی تک کے سفر کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

