کنفیوشس

جب انسان زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتا ہے، مختلف ماحول سے گزرتا ہے، سیر و تفریح کے لئے سفر کرتا ہے، یا کتابیں پڑھتا ہے، اس کی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دنیا کے متعلق اس کے اپنی نظریات بن جاتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں موجود یا گزرے ہوئے لوگوں سے وہ متاثر ہوجاتا ہے۔ ان کے لئے کچھ لوگ ان کے آئیڈیل بن جاتے ہیں۔ وہ ان کی گزری زندگی سے متاثر ہوتا ہے۔ اور اس جیسے بننے کی کوشش کرتا ہے۔
دنیا میں کچھ لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پر پا کیا۔ جو انسانیت کے لئے مشعل راہ بنے۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر مرتے ہیں۔ لیکن ان کا کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ چاہیے کتنے ہی مدت گزر جائے۔ لوگ ان کی باتوں کو یاد رکھتے ہیں، اور ان جیسا کردار اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج میرا موضوع ایک ایسی شخصیت ہے۔ جن کا دور قبل مسیح کا ہے۔ لیکن آج بھی لوگوں کے وہ آئیڈیل ہیں، لوگ ان کی طرز زندگی سے متاثر ہیں اور ان کے فرمودات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کنفیوشس قبل مسیح میں ایک اعلی اخلاقی معلم تھے۔ وہ اپنے آپ کو مذہبی رہنما نہیں سمجھتے تھے۔ اگرچہ بعض لوگ انہیں پیغمبری کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں مذہبی تعلیم اور تبلیغ کے ثبوت نہیں ہیں۔ ان کی زندگی میں جس چیز پر بہت زیادہ زور تھا وہ والدین کی اطاعت ان کی فرمانبرداری اور ان کی عزت و احترام پر تھا۔
کنفیوشس اباؤ اجداد کی تقدیس و تعلیم پر زور دیتا تھا۔ وہ پانچ اوصاف کی بات کرتا تھا۔
نرمی اور تحمل، صداقت، شفقت، وقار
عاجزی۔
ان کا فلسفہ تعلیم 6 فنون پر مشتمل تھا۔ تیر اندازی، خوش نویسی موسیقی، رسوم، حساب داری اور بگھی بانی۔
کنفیوشس 551 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ ان کی جائے پیدائش چین میں ایک گاؤں میں ہوئی۔ جو موجودہ چین کی صوبے شان ننگ میں واقع ہے۔ کنفیوشس کے والد ان کی اوائل عمری میں فوت ہوئی۔ اس نے اپنے بچپن یتیمی میں گزارا
کنفیوشس کو سمجھنے کے لئے اس زمانے میں ملک چین کے ماحول اور حالات سے آگاہی ضروری ہے۔ اس زمانے میں چین میں جاگیرداری نظام تھا۔ البتہ اساتذہ کی تکریم کی جاتی تھی۔ تدریس کا عمل زبانی ہوتا تھا۔ چین میں تعلیمات شاعری کی زبانی دی جاتی تھی۔ لوگ فطرت سے قریب تھے۔ فطرت کے حسن ان کی شاعری میں پنہاں تھی۔
اس زمانے میں لوگ دیوتاؤں، روحوں، پریوں، آسیوبوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے۔ کنفیوشس کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کنفیوشس کی تعلیم اخلاقیات پر ہوتی تھی۔
کنفیوشس کی کچھ اقوال سے ان کی سوچ اور تعلیم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
بلند آواز، اور تیز طراری کوئی بھی بڑا آدمی نہیں بنتا۔
کسی شخص کی سچائی کو جھانجنا ہو، اس کی اپنے والدین کے ساتھ طرز عمل کو دیکھو، اگر وہ زندگی میں والدین کی خدمت کرتا ہو، اور والدین کے مرنے کے بعد ان کو یاد کرتا ہو، وہ بہترین انسان ہے۔
بزدلی اصل میں یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لئے آواز نہ اٹھا سکیں۔
مجھے ایسے لوگ پسند نہیں جو اپنے بھدے اور پٹھے ہوئے لباس پر شرمندہ ہو۔
بڑا آدمی وہ ہے جو انصاف کرتا ہے۔
چھوٹے آدمی مفادات کا اسیر ہوتا ہے۔
بڑے آدمی گفتگو میں دھیمے اور عمل میں تیز ہوتے ہیں۔
کنفیوشس نے کہا کہ میری خواہش مجھے کوئی پوچھے تو میں کہوں کہ بوڑھوں کو ہمیشہ تحفظ دوں، دوستوں کا وفادار رہوں اور بچوں کے ساتھ شفقت برتوں۔
بڑا آدمی ہمیشہ مطمئن رہتا ہے۔ چھوٹا آدمی بے چین رہتا ہے۔
بڑا آدمی پریشان ہوتا ہے۔ لیکن خوفزدہ نہیں ہوتا۔
بڑا آدمی ہمیشہ خود احتسابی کرتا ہے۔
بڑا آدمی کی نظر اپنے خامیوں پر ہوتا ہے۔ چھوٹے آدمی کی نظر دوسروں کی خامیوں پر ہوتا ہے۔
بڑا آدمی جب کسی بڑے عہدے پر پہنچتا ہے، تو وہ اس کی پاس بھی رکھتا ہے۔
جن کو الفاظ کی قدر و قیمت کا علم نہیں۔ وہ ایک بڑا آدمی کبھی نہیں بن سکتا۔
اگر تم اپنا سفر روکتے نہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کتنا آہستہ چلتے ہو۔ اس شخص سے کبھی بھی دوستی نہ کرو جو تم سے زیادہ اچھا نہ ہو۔ جب تم غصہ میں آؤ، تو اس کے بعد کے نتائج کے بارے میں سوچو۔ اگر تم یہ جان جاؤ کہ تم اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے، تب بھی تم اپنا مقصد تبدیل مت کرو، اپنے اعمال تبدیل کرو۔ اگر تم نے نفرت کی، تو تم ہار گئے۔ زندگی میں جو بھی کرو، اسے پورے شرح صدر اور دلچسپی کے ساتھ کرو۔
صرف ان لوگوں کی رہنمائی کرو، جو اپنی کم علمی کے بارے میں جانتے ہوں اور اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہوں۔ چھوٹی چیزوں پر اسراف کرنا بڑے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر لوگ تمہارے پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم آگے بڑھ رہے ہو۔ چیزوں کا خاموشی سے مشاہدہ اور مطالعہ کرو۔ چاہے کتنی ہی تعلیم حاصل کرلو، اشتیاق اور لگن کو برقرار رکھو۔ ہر چیز میں ایک خوبصورتی ہوتی ہے، لیکن اسے ہر شخص نہیں دیکھ پاتا۔ عظمت یہ نہیں کہ کوئی انسان کبھی نہ گرے، بلکہ کئی بار گر کر دوبارہ اٹھنا عظمت ہے۔
کنفیوشس کے نزدیک تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جو دوسروں کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کی تعلیم دے سکے۔ ان کا سیاسی فلسفہ احساس ذمہ داری کی بات کرتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر صاحب اقتدار کو اپنی اصلاح کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اچھی حکومت کے متعلق ان کا فرمان ہے کہ اچھی حکومت اس نقطے پر قائم ہے کہ حکمران ایک حکمران کے طور پر کام کرے، وزیر، وزیر کے طور پر، باپ باپ کے طور پر اور بیٹا بیٹے کے طور پر۔
کنفیوشس کے شاگرد انہیں کنگ فوزے یعنی استاد کنگ کہتے تھے۔ ان کی مشہور کتاب ”گلدستہ تحریر“ ہے۔
کنفیوشس کہ پیروکار چین، تائیوان، ہانک کانگ، مکاؤ، کوریا جاپان، سنگاپور، اور ویتنام میں اب بھی موجود ہیں

