عوامی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ


بات ان دو احمق ویلاگرز کی نہیں، خود کو جو سابقہ فوجی قرار دیتے ہیں۔ شیر افضل خان مروت نے بجا طور جنہیں ’رانگ نمبرز‘ کہہ کر پکارا ہے۔ فکر مندی ہمیں کروڑوں ہم وطنوں کی بے چینی اور ان کے طرز فکر میں برپا ہونے والی جوہری تبدیلی سے متعلق ہے۔ ان دو ویلاگرز اور ان جیسوں کی مغلظات کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی پہلے بھی ہوتی تھی، ضرور سرحد پار سے اب بھی ہوتی ہو گی۔ تاہم یہ کہنا کہ ان جیسوں کے دیکھنے اور سننے والوں میں محض بھارتی اور ’ملک دشمن‘ ہی شامل ہیں تو ہماری عاجزانہ رائے میں شاید یہ بات بھی اب مبنی بر حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔

پی ٹی آئی کہ گزشتہ مہینوں جس عذاب سے گزری ہے اس کی بات اور ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حالیہ چار پانچ برسوں میں ایسا کیا ہوا ہے کہ جو ایرا غیرا ڈوبنے لگتا ہے، اپنی بقاء ایک ’مخصوص مزاحمتی بیانئے‘ میں ہی دیکھتا ہے۔ آئین اور قانون کی بالادستی کی یاد اسے ستانے لگتی ہے۔ اگرچہ پاکستان واپسی کے بعد سے میاں صاحب نے ایک آدھ بار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے صرف ریٹائرڈ ججوں کو ہی ہدف تنقید بنایا، تاہم یہ بات بعید از امکان نہیں کہ کل حالات پلٹنے لگیں تو انہیں بھی ایک بار پھر ’ووٹ کو عزت دو ‘ کا بیانیہ یاد آنے لگے۔

کچھ اور بھی ہیں کہ جو کل تک تو ’سویلین بالادستی‘ کے پھریرے لہراتے تھے، حالیہ دنوں میں ’پراجیکٹ ری سیٹ 2016۔ ‘ کی وکالت کمال ڈھٹائی کے ساتھ کرتے دیکھے گئے۔ تاہم ان مٹھی بھر مفاد پرستوں کو زیربحث لانا ہمارا موضوع نہیں۔ ہماری رائے میں فوری توجہ کا متقاضی امر یہ ہے کہ ہمارے سجیلے افسر اور شیر جوان جس صوبے میں کئی برسوں سے سفاک دہشت گردوں کے خلاف جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر برسرپیکار ہیں، وہاں سیاسی صورت حال حالیہ دنوں میں بہت تیزی کے ساتھ بدل چکی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا گزشتہ چار عشروں سے بے چہرہ دہشت گردی کے خلاف اگلے مورچے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ازکار رفتہ سپاہی اس صوبے کے غیور عوام کی اس بے چہرہ جنگ میں برسوں پر محیط قربانیوں کا عینی شاہد ہے۔ اب اس صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگانے والوں اور دہشت گردی کا شکار بننے والے پاکستانیوں کے مابین بڑھتی خلیج کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

صوبے میں نئی حکومت کا قیام غیر معمولی اکثریت کے ساتھ عمل میں آ چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک ایسا صوبہ جہاں دہشت گردی کی جنگ لڑی جا رہی ہے، وہاں کی صوبائی حکومت کے مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیونکر متشکل ہوتی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کا اس جنگ میں لازوال قربانیوں کے ساتھ کلیدی کردار رہا ہے۔ تاہم اس حقیقت کے پیش نظر کہ دوسرے صوبوں کی طرح اس صوبے کی پولیس کی طرف سے بھی نئی حکمران جماعت گزشتہ مہینوں میں روا رکھے جانے والے سلوک پر شاکی رہی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ ہر دو کے مابین اعتماد کا رشتہ بحال کیے جانے کے لئے کیا فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔

فنڈز کی فراہمی اور افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے باب میں کیا وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھے گی یا صورت حال محاذ آرائی کی طرف جائے گی؟ اور یہ کہ خدانخواستہ اگر محاذ آرائی کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو بے دست و پا کیے جانے کی کوئی بھی کوشش کی جاتی ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ اور ان جیسے دیگر کئی سوالات کے جوابات، آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تقریروں کا لہجہ، جذبات میں شدت، جبکہ دوسری طرف ملکی تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن کمیشن کی جانب سے ہٹ دھرمی پر مبنی بظاہر امتیازی طرز عمل میں تسلسل کو دیکھتے ہوئے ہم تو خدا سے خیر کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

8 فروری کے بعد سے مولانا فضل الرحمن، ایمل ولی خان اور محمود خان اچکزئی کی تقریروں اور بیانات میں تواتر کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الیکشن میں دھاندلی سے متعلق لگائے جانے والے خوفناک الزامات کوئی نیک شگون نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی مداخلت کے لئے ذمہ دار قرار دیے جانے جیسے بیانات کو تو اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ’معمول کی بیان بازی‘ قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے، تاہم ’الیکشن میں رشوت دیے لئے جانے‘ جیسے الزامات ہم جیسوں کے لئے دلخراش ہیں۔

چترال سے بولان تک پختونستان کے قیام کے نعرے کو بھی بے وقت کی راگنی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت صوبے میں ٹی ٹی پی جیسی پر تشدد اور پی ٹی ایم جیسی مرکز گریز تحریکیں پہلے سے فعال ہیں۔ مؤخر الذکر کو تو نہ صرف یہ کہ طاقتور مغربی لابی کی حمایت حاصل ہے بلکہ یہ گروہ نوجوان پختونوں میں کسی حد تک اثر و رسوخ بھی پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ مولانا کی بے چینی کا حل موجودہ حکومتی بندوبست کے اندر ان کو حصہ دار بنا کر ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

تاہم دیگر قوم پرست جماعتوں کے جانب سے بولی جانے والی حالیہ زبان اور الزامات کی اصابت کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے۔ قومیت پسندوں اور مرکز گریز تحریکوں کے راستے میں پی ٹی آئی نوجوانوں میں مقبول ملک گیر جماعت کی حیثیت سے ایک موثر رکاوٹ رہی ہے۔ اندریں حالات حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ مرکز میں اپوزیشن کے آئینی مطالبات کو تسلیم اور نئی صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے۔ یہ وقت مزید محاذ آرائی کا نہیں، زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے۔

کتابی باتیں ایک طرف، مقتدر حلقوں کی جانب سے اب عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیے جانا ہی دانش مندی کا تقاضا ہے۔ سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، چھینے جانے والے انتخابی نشان کی واپسی اور مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ جیسے اقدامات سے درست سمت میں سفر کا کم ازکم آغاز تو کیا جاسکتا ہے۔ حکمت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک پر ایک غیر مقبول بندوبست مسلط کیے جانے اور اس کی مسلسل پشت پناہی کے تاثر سے متعلق پائی جانے والی اشتعال کی حدوں کو چھوتی بے چینی کی تپش کو محسوس کیا جائے۔

مقبول سیاسی قوتوں اور فعال تحریکوں سے بگاڑ کر علیحدگی پسندوں اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جیتی تو جا سکتی ہے، مگر کس قیمت پر ؟ ’رانگ نمبر‘ ہر دو جانب موجود ہوتے ہیں۔ ملک میں موجود مگر لاکھوں سابقہ فوجی حب الوطنی اور ادارے کے ساتھ لازوال محبت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ موجودہ صورت حال پر جو اوروں کی طرح دل شکستہ ہیں۔ ان ویٹرنز میں جرنیلوں سے لے کر جونئیر رینکس میں ریٹائر ہونے والے ہزاروں سابقہ غازی اور شہیدوں کے وہ خاندان شامل ہیں کہ جو اس جنگ کے متاثرین ہیں۔ ان غازیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ کسی بھی فوج کے لئے غیر روایتی جنگوں میں درکار عوامی حمایت کی قدروقیمت کیا ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS