پنگوں کی کتھا۔ تیسرا پنگا : من کہ بقلم خود کیرو ثانی سے گیدڑ سنگھی کو پالنا


پچھلا خلاصہ : میں این ای ڈی کراچی میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے سال آخر میں تھا۔ اگست 1987 کی ایک دوپہر ریڈیو پاکستان سے واپس گھر آتے ایمپریس مارکیٹ صدر میں جیب کٹنے کا احساس ہوا۔ میرے پاس گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے بھی نہیں تھے۔ اس حصول کے لئے میں نے وہیں سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، روغن سانڈ اور سلاجیت بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران مجھے ماضی کی باتیں یاد آتی گئیں اور پھر وہاں جو کچھ ہوا۔ اس کا احوال۔

٭٭٭

مجھے پیسوں کی کوئی لالچ یا لوگوں کو ٹھگنے کا شوق نہیں تھا۔ میرا ہدف محض تیس پیسے کمانا تھا، گھر واپسی کا کرایہ جو اگر زیادہ مل جاتا تو میں ”آر“ نمبر کی منی بس سے سیٹ پر بیٹھ کر ایک ڈیڑھ روپے میں چلا جاتا۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ اتنے پیسے تو میں گوروں سے وصول کر ہی لوں گا۔ چاہے پامسٹری سے ہو یا سرمہ سلیمانی یا سلاجیت کی فروخت سے۔ رہا سانڈے کا تیل، تو میں نے سانڈ تو دیکھ رکھا تھا مگر سانڈا کیسا ہوتا ہے نہ تو دیکھا تھا اور نہ اس کے تیل کی افادیت کی ضرورت محسوس کرتا تھا۔ اپنی تقریر شروع کرتے مجھے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے ، جب مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی خفی صلاحیتوں کی مدد سے ریس کورس کے گھوڑوں اور انعامی بانڈ کے نمبر بتانے پر بھی قادر ہوں۔ اور ضرورت پڑی تو جواریوں سے بھی چونی اٹھنی نکالی جا سکتی ہے۔

اس شام گھر سے میں نے ملیر سٹی کے گلشن رفیع میں واقع گلشن ٹیکنیکل سینٹر جانا تھا جہاں کا میں پرنسپل بھی تھا اور الیکٹریکل وائرمین، ساتھ ریڈیو ٹی وی کے مضامین بھی پڑھا لیتا تھا۔ ”آج میرے شاگرد عظیم اور علیم اپنے مرحوم والد سلیم انصاری کا وہ سینٹر چلا رہے ہیں اور میری اس دن پہلی کلاس پانچ بجے تھی“ ، اس حساب سے اگر میں گھر جانے کی بجائے براہ راست سینٹر جاتا تو میں ساڑھے تین سے چار بجے تک مداری کا کھیل خوب کھل کر دو تین گھنٹے کھیل سکتا تھا۔

میرے پاس شادی بیاہ میں جانے کا وقت نہیں ہوتا تھا لیکن والدہ بہشتن استانی صاحبہ کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر مختلف انجان لوگوں کی شادی ولیموں میں جانے کے لئے پکڑا جاتا تھا (کسی ساتھی ٹیچر کی اپنی، یا ان کے بہن، بھائی کی شادی) ۔ اور کیوں نہ جاتا کہ ماں کیوں بسوں، رکشوں میں کہیں جانے کے لئے دھکے کھائے۔ بالخصوص رات گئے دیر سے واپس آنے کے لئے۔

اس لمحے مجھے بابا صادقین شدت سے یاد آئے جن کا چند مہینے پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا اور ان کی مجھے مصوری سے دور رہنے کی جھڑکی نے ”سونا“ نہیں بلکہ ”کچ لوہے“ کو آگ میں تاپ کر کندن بنا دیا تھا۔ صادقین کے اسٹوڈیو میں حرم سجانے کے بعد میرا حال یہ تھا کہ میں ان تمام انجان فنکشنز میں یہ حرکت خوشی خوشی کرتا۔ کیونکہ وہاں مردانے میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا (اس لئے بدنامی کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا) اور بعض اوقات حال یہ ہوتا کہ پردہ دار مائیں مجھے سائیڈ پر لیجا کر اپنی جوان جہان دختر نیک اختر کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے کر فخر سے پوچھتیں۔ ”اسکے بارے میں بتائیں، بٹو کی شادی کب ہوگی!“ ۔

اور یہ عام بات تھی کہ کچھ ہی دیر میں وہاں لڑائی یا کھینچا تانی بھی شروع ہوجاتی۔ ایک ایسے 20 اکیس سال کے لڑکے کے لئے، جو ان کا دور پرے کا رشتہ دار یا جاننے والا بھی نہیں تھا۔ بہرحال بقول مداری میں مفت میں ان لڑکیوں کے راز، ”دیکھ بھال کر کھولتا اور محض ٹھک ٹھک پر اکتفا کرتا“ ۔

میرا راز کئی شادیوں تک والدہ ماجدہ پر عیاں نہیں ہوا۔ لیکن ایک دن کسی جل ککڑی خاتون نے بھری محفل والدہ سے سفارش کرنے کو کہا۔ مجھ سے میاں کے مستقبل میں جھانکنے کی سفارش۔ والدہ نے کہا، رضی ایسا کچھ نہیں کرتا۔ مگر جب کچھ دیر بعد دور سے دیکھا کہ میں راجہ اندر کا دربار سجائے بیٹھا ہوں۔ متعدد مائیں اور ان کی بیٹیاں نمبر لگائے انتظار میں ہیں، تو ان کے کان کھڑے ہوئے۔ واپسی پر ان کے لیکچر کے جواب میں صادقین کا قصہ سنایا۔ جس پر وہ ہنس پڑیں۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ میں جان بوجھ کر کسی بھی ایسی محفل میں یہ کام نہیں کرتا جہاں رشتے دار موجود ہوں۔

اس وقت مجھے والدہ نے بتایا کہ والد صاحب خود بھی اچھے دست شناس رہے ہیں اور ایک دفعہ انہوں نے ایک رشتے دار، باقی بھائی (جن کی صرف دو بیٹیاں تھیں ) کا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ آپ کے دو بیٹے ہیں۔ جبکہ کچھ عرصے بعد بہت اصرار پر ان کی بیگم کا ہاتھ دیکھا تو بتایا کہ آپ کا ایک بیٹا ہے۔ خاتون کو میاں کے دو بیٹوں کی کہانی کا علم تھا۔ پوچھنے لگیں کیا میرا انتقال شوہر سے پہلے ہو گا۔ شوقیہ ہاتھ دیکھنے والے والد صاحب جانے کس موڈ میں تھے، کہنے لگے نہیں۔ اور پھر ”بقیائن“ نے اپنے شوہر کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کہانی خاندان کے سارے بڑوں کے علم میں تھی۔ لیکن اس کے بعد سے والد صاحب نے دست شناسی سے توبہ کرلی۔ ساتھ ہنستے کہنے لگیں، تمہیں پتہ ہے باقی بھائی کے کتنے بیٹے ہیں۔ میں نے کہا، ایک۔

کہنے لگیں، نہیں، دو۔

پاکستان آنے سے پہلے باقی بھائی، علی گڑھ میں پڑھتے تھے اور وہاں کسی شادی میں دولہا کی بارات نہ آئی تو اس مشکل میں انہوں نے آگے بڑھ کر شادی کرلی۔ پاکستان بننے کے بعد یہ ہجرت کر کے یہاں آ گئے اور بعد میں انہیں خبر ملی کہ پاکستان آتے ہوئے وہ خاتون شہید ہو گئیں۔ اب انہوں نے چپ چاپ یہاں بقیائن سے دوسری شادی کرلی۔ والدہ نے مزید بات بڑھاتے بتایا کہ پہلی شادی سے ایک بیٹا پیدا ہوا جو فلمی طریقے سے ماں کے مرنے کے بعد باپ کو ڈھونڈتا کراچی آیا۔ اور دو سال پہلے ان کے خاندان کا حصہ بن چکا ہے۔

میں نے کہا کہ اب بقیائن کیا کہتی ہیں۔ کہنے لگیں خوش ہیں، لیکن تمہارے باپ کے ساتھ جو کیا گیا، اس کا اب کوئی مداوا نہیں اس لئے تم بچ کر رہنا۔ میں نے کہا، میں ویسے بھی کسی رشتے دار کا ہاتھ نہ دیکھنے کا عہد کرچکا ہوں۔ اور آپ پریشان مت ہوں۔ میں انجان شادیوں میں چونکہ بور ہو رہا ہوتا ہوں اس لئے شغل لگانے کے لئے یہ حرکت کرتا ہوں۔ لوگوں کے پیچھے میں نہیں جاتا لوگ خود ہی مجھ تک آ جاتے ہیں (یہ اور بات کہ پہلے گاہک کو میں کیسے رام کرتا ہوں وہ قابل بحث تھا) ۔

کہنے لگیں، ہوشیار رہنا، دسیوں خاندان اور جاننے والیاں تمہارے پیچھے ہیں۔ اس لئے کوئی بھی تمہیں ٹریپ کر سکتا ہے۔ اپنے ساتھ میری عزت اور نام کو مٹی میں مت ملانا۔

میرے دماغ میں ایک لمبی فہرست تھی جسے میں اس وقت بیچ سکتا تھا۔ منجن (جس کا نام میں نے لقمانی سے بدل کر بابری رکھا کہ اسے استعمال کرنے سے شہنشاہ بابر لوہے کی چیزوں کو دانتوں سے کاٹ لیتا تھا) ۔ یہ مداری کے لئے ایک نیا انکشاف تھا۔ میں اپنی معلومات عامہ کے ٹیکے اپنے مداری بھاشن میں جگہ جگہ ٹانک کر فی البدیہہ ایک نیا متن مارکیٹ میں آہستہ آہستہ لا رہا تھا اور لوگ اس وقت کے طارق جمیل کو غور سے دیکھ اور سن رہے تھے۔ بقول ہمارے معلومات عامہ کے ضیا بھائی ( پروفیسر ضیا الرحمن ضیا) تم دور جدید کے مرزا باقر داستان گو ہو اور خود کو محض ضائع کر رہے ہو۔

سرمہ سلیمانی کے لئے میں نے مداری، قاسم جٹ سے پوچھا کہ یہ کوئی خطرناک یا اندھا کر دینی والی شے تو نہیں جس پر اس نے قسم کھائی اور اپنی آنکھوں میں لگا سرمہ دکھایا۔ لوگ میرے اس انکشاف پر اچھل پڑے جب انہیں پتہ چلا کہ سسپنس ڈائجسٹ میں چھپنے والی کہانی دیوتا کے ہیرو، فرہاد علی تیمور کو بابا فرید واسطی صاحب نے یہی سرمہ دیا تھا۔ جس کے مسلسل استعمال سے اس کی آنکھوں میں اتنی طاقت آ گئی کہ وہ ان دیکھی طاغوتی طاقتوں کو دیکھ سکے اور اسی کے ایک مہینے استعمال سے اس کی آنکھیں اس قابل ہو گئیں کہ موم بتی کی لو، دیکھ دیکھ، ٹیلی پیتھی کا ماسٹر ہو گیا۔

ساتھ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ سرمہ ہمارا خاندانی نسخہ ہے لیکن اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اسے اگر عام طریقے سے لگایا جائے تو عمومی فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص اس کو ہفتے میں مخصوص مرتبہ، ایک مخصوص وقت پر وظیفہ پڑھ کر لگائے تو ایک تو اسے کم سرمہ استعمال کرنا ہو گا، دوسرا اس کے ایک سے دو مہینے مسلسل (اسی مخصوص وقت پر) استعمال کرنے سے، (اگر مسلمان پانچ وقت باجماعت نماز کبھی قضا نہ کرے تو) وہ اپنے ارد گرد گھومتی نادیدہ جاندار اور اشکال کو بھی دیکھ سکے گا۔

یہاں میں نے محدب عدسے اور منشور کی مثالیں دیں جس سے کئی نادیدہ رنگین شعاعیں، متعدد الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ نظر آنے لگتی ہیں، در حقیقت میں وہاں میٹرک، انٹر کو آسان فزکس پڑھا رہا تھا، لیکچر جو وہاں موجود لوگوں نے دلچسپی سے اٹینڈ کیا۔ وہاں موجود سب لوگ کچھ نہ کچھ تعلیم رکھتے تھے اور انہیں میرا یہ دعوی ماننے میں دیر نہیں لگی کہ جس طرح لوہے کو گاہے گاہے مقناطیس سے مس کرتے رہیں تو اس میں بھی مقناطیسی طاقت آجاتی ہے اسی طرح روحانی وظیفوں اور ایک مخصوص وقت پر اینٹی منی (یعنی سرمہ) جب آنکھوں کی پتلیوں سے ٹکراتا ہے تو ہماری پتلیوں میں بھی اضافی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔

میں نے جب دیکھا کہ نشانہ لگ گیا تو میں نے پہلے دس لوگوں کے لئے (پچاس پیسے والے ) سرمے کی قیمت چالیس پیسے رکھی۔ قاسم جٹ نے مجھے غصے سے گھور کر دیکھا۔ میں نے لوگوں کو کہا کہ جو لوگ پنج وقتہ نماز کی پابندی کر سکتے ہیں وہ روحانی طریقے سے استعمال کے لئے اپنا نام، والدہ کے نام اور تاریخ اور جگہ پیدائش چچا جان (یعنی قاسم جٹ) کو لکھوا دیں۔ قاسم جٹ مجھے بتا چکا تھا کہ وہ آٹھویں پاس ہے اور اردو لکھ پڑھ سکتا ہے۔

چونکہ اس طرح سرمہ کم استعمال ہو گا اور لوگوں کو ڈبل فائدہ ہونا تھا تو اس کے لئے اس کے ساتھ دیے گئے تعویذ کا ہدیہ بھی سرمے کی قیمت کے مساوی ہو گا۔ اب میں نے قاسم جٹ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا۔ وجہ وہی تھی کہ لوگ اپنی ذاتی معلومات دیں گے اور میں اپنے علم کفر اور علوم حرامیہ کو استعمال کرتے ہوئے اس دن گنجوں کو بھی کنگھی بیچ دوں گا۔

مجھے اس کھیل میں مزا آنے لگا تھا۔ اور اب میرا ہدف تیس پیسوں سے ایک روپیہ اپنے لئے۔ اور پندرہ روپے قاسم جٹ کے لئے ہو چکا تھا، وہ شخص جس نے مجھ پر اعتبار کیا تھا۔

کھوکھرا پار میں میرے گھر کے پاس کئی خالی میدان تھے جن پر اس وقت تک ذکیہ پیلس یا ہاؤسنگ اسکیمیں نہیں بنی تھیں اور جہاں اچھی کرکٹ یا فٹبال کھیلی جاتی تھی۔ کبھی کبھار یہاں مختار احمد رضوی کا موت کا کنواں اور موت کا گولہ بھی لگ جاتا اور کبھی کبھار خانہ بدوش بھی ڈیرہ ڈال دیتے جن سے ہمیشہ بچنے کو کہا جاتا تھا۔

ایک شام میں گھر کا سودا لینے کے لئے خانہ بدوشوں کے خیموں کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک لڑکے کو آنسو بہاتے کتاب پڑھتے دیکھا۔ مجھے خاصی حیرت ہوئی۔ پوچھا تو بتانے لگا کہ اسے تعلیم کا بہت شوق ہے اور بڑی مشکل سے گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر تھوڑا بہت پڑھنا سیکھا ہے لیکن دو سال سے میٹرک میں فیل ہو رہا ہے۔ اور اب بھی پاس ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ لوگوں کے طنز اس سے برداشت نہیں ہوتے اور پرائیویٹ ٹیوشن ناممکن ہے کہ گھر میں دو وقت کی روٹی تک نہیں پکتی۔ میں نے اسے کہا کہ گھر والوں کو بتا کر میرے ساتھ چلو۔ وہ ہم رکاب ہو گیا اور گفتگو کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ بچہ واقعی سخت مشکل میں ہے اور اس کا مسئلہ جینوئن ہے۔ اب میرے لئے اس کی مدد کرنا یعنی ایک نیا پنگا لینا ضروری ہو چکا تھا۔

امتحان ایک مہینے بعد تھے۔ اس کو پڑھانے اور پاس کروانے کی ذمہ داری میں نے لے لی۔ لیکن ساتھ پوچھا کہ تمہارے گھر والے اس دوران کہیں، چلے تو نہیں جائیں گے۔ اس نے کہا کہ نہیں بھائی جان۔ اگر گئے بھی تو اسی شہر میں رہیں گے۔ میں اسے گھر لے گیا اور ساتھ تاکید کی کہ خبردار کسی کو مت بتانا تم کون ہو ساتھ اسے یہ بھی بتا دیا کہ میرے گھر میں ویسے تو کوئی بھی قیمتی یا مال و زر والی شے موجود نہیں لیکن تم بہرحال کوئی ایسی حرکت مت کرنا، جو میرے لئے شرمندگی کا سبب بنے۔ بچے کو میں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر بلانا شروع کر دیا۔ بلانا کیا تھا وہ گلی کے نکڑ پر بیٹھا پڑھتا رہتا اور میری واپسی کے کچھ دیر بعد گھر آ جاتا۔ اردو اور کچھ مضامین وہ پاس کرچکا تھا۔ مگر دو انگریزی کے پرچوں ساتھ شاید حساب اور جنرل سائنس پاس کرنا اس کے لئے قیامت ہو چکا تھا۔

میں میٹرک، انٹر، گریجویٹ اور ماسٹرز کے طالب علموں کو پڑھاتا تھا۔ میرے طالب علموں کو محنت کر کے فرسٹ ڈویژن لانا کوئی بات ہی نہیں ہوتی تھی، جبکہ میں نے تو اسے صرف پاس کروانا تھا یعنی 33 نمبر۔

چند دن بعد میں نے اسے بتایا کہ میں تمہیں ہر مضمون میں صرف 50 نمبر کی تیاری کرواؤں گا جس سے تم 40 سے 45 نمبر لے آؤ گے۔ اس سے زیادہ کی تمہیں ضرورت نہیں۔ میں نے صرف ایک پتلی سی کاپی اس کے حوالے کی۔ جس میں تمام فیل شدہ مضامین کے لئے میرا حل شدہ گیس پیپر موجود تھا۔ اور ہر وہ جواب جو ایک صفحے کا ہوتا، اس کے اہم نکات میں نے آدھے صفحے پر لکھ رکھے تھے کیونکہ مقصد محض پاس کرنا تھا۔ میں نے لڑکے سے کہا کہ یہ اب کچھ بھی نہیں ہے میں تمہیں سمجھا بھی دوں گا، لیکن جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے گھول کر پی جاؤ۔ وہ مجھ سے چیزیں پوچھتا، سمجھتا رہا اور میری لکھی ہلدی کو زعفران سمجھ، گھول کر پی گیا۔

ان چالیس پچاس صفحات کے لئے میرا حکم تھا کہ رٹے مارنے کے بعد روزانہ ایک مضمون کے جوابات کی بغیر دیکھے لکھنے کی مشق کرو۔ اور بعد میں کوئی شارٹ کٹ مارے بغیر ایمانداری سے خود دیکھو کہ کہاں غلطی کی ہے۔ اس کو میں نے موتن داس سے کئی کلو بنک کے استعمال شدہ کاغذ کی ردی خرید کردی جس کی سادہ طرف وہ لکھ سکتا تھا۔ اس کی انگریزی اور الجبرا خاصے کمزور تھے، لیکن ایک مہینے بعد وہ تپ کر کندن بننے کے ساتھ رک رک کر مگر صحیح انگریزی بھی بول رہا تھا۔ اگر میرے بتائے پانچ چھ سوال والے گیس پیپر میں بڑی گڑبڑ نہ ہوتی تو اس کا پاس ہونا یقینی تھا۔ امتحان ہو گیا اور اس کے گھر والے بھی وہاں سے کوچ کر گئے۔ میں اپنے جھمیلوں میں گرفتار رہا۔

ایک رات گھر لوٹا تو پتہ چلا وہ بچہ اپنے ماں باپ کو ساتھ لے کر آیا تھا جن سے مل کر والدہ کے چودہ طبق روشن ہو گئے، جب انہیں پتہ چلا کہ اتنے دن تک گھر آنے والا وہ بچہ ایک سپیرے کا بیٹا ہے (جو میرے لئے بھی خبر تھی) ۔ گھنٹے بعد بچہ ماں باپ کے ساتھ پھر آ دھمکا۔ وہ تو خیر سے سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہو گیا لیکن اس کے ماں باپ کی خوشی دیدنی اور مجھے آج تک یاد ہے۔ خوشی جو وہ اپنی کئی نسلوں میں پہلے میٹرک پاس بچے کا والدین بن کر محسوس کر رہے تھے۔

میری خوشی اس وقت کرکری ہو گئی جب اس کے ماں باپ نے زبردستی مجھے اپنے دوسرے خانہ بدوش لوگوں سے ملنے کے لئے ان کی بستی میں آنے پر اصرار کیا، مقصد انہیں مجھ سے ملوانا تھا۔ ان کی عارضی بستی میرے گھر سے کچھ فاصلے پر تھی۔ میں جانا نہیں چاہ رہا تھا مگر والدہ نے ایک بات کہی کہ ضرور جاؤ اور کیا پتہ تم سے مل کر اور ماں باپ بھی اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کر دیں۔ اور کیا پتہ یہی بچہ انہیں پڑھانے بھی لگے۔ اس کو ثواب جاریہ سمجھو۔

یوں میں اگلے ہی دن ثواب جاریہ کے لالچ میں، سپیروں کی بستی میں موجود تھا جہاں میرا شاندار استقبال کیا گیا۔ جو کچھ وہ کھلا پلا سکتے تھے وہ اپنی جگہ انہوں نے مجھے سانپ اور نیولے کی لڑائی کا خصوصی شو دکھایا۔ کئی انتہائی نایاب اور زہریلے سانپ دکھائے۔ میں نے دوسرے خانہ بدوشوں کے سامنے گلے میں ہار ڈالے تعلیم کی اہمیت پر ایک چھوٹی موٹی تقریر بھی کر ڈالی، جو مجھے خود علم نہیں تھا کہ میں کیا بکواس کر رہا ہوں۔ سب سے اہم بات جو میں نے ان لوگوں کو کہی وہ یہ تھی اگر آپ مسلمان ہیں تو یاد رکھیں آپ کو کم از کم قرآن پڑھنا آنا چاہیے اور اس کے بعد ہی آپ نماز بھی پڑھ سکیں گے۔

اگر آپ قرآن پڑھ لیں تو اردو اخبار بھی بہ آسانی پڑھ لیں گے۔ اور یاد رکھیں اس سے ثواب تو ملے گا ہی متعدد جگہوں پر آپ کی کمائی میں اضافہ ہو گا بلکہ آپ دھوکوں سے بچ سکیں گے اور بعض اوقات کسی چیز پر لکھا ہوتا ہے۔ ”موت: ہاتھ مت لگائیں“ ۔ لیکن آپ سکون سے اس جگہ ہاتھ لگا کر موت کو قبول کرلیتے ہیں صرف ان پڑھ ہونے کی وجہ سے۔

میں نے انہیں کہا کہ اس بچے کو آگے پڑھنے سے مت روکیں۔ یہ انٹر کرنے کے لئے مجھ سے جب ملے گا۔ میں اس کی مدد کروں گا لیکن اس کے بدلے میں آپ لوگ خود بھی پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کے پاس پڑھنے بھیجیں اور اس کی معمولی سی مدد کرتے رہیں۔ بعد میں ان لوگوں کے لئے کاپی کتابیں اور کاغذ کا بندوبست میں نے اور لوگوں سے مل کر کروا دیا۔

جب میں واپس آنے لگا تو بوڑھے سپیرے نے ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے کہا کہ شاہ صاحب، آپ نے میرے فیل ہوتے بیٹے کو مفت پڑھانے سے زیادہ پاس کروایا، میں اس کا احسان تو ادا نہیں کر سکتا لیکن میری طرف سے دو حقیر نذرانے قبول کریں۔ پھر اس نے مجھے شیش ناگ کا منکہ دیا اور ساتھ گیدڑ کے سر پر اگنے والا پھوڑا یا سینگ گویا سیندور میں لپٹی گیدڑ سنگھی۔

اتفاق کی بات ہے یہ چیزیں سپیرے کے لئے جہاں انتہائی اہم تھیں مثلاً منکہ سانپ کے زہر کا توڑ ہوتا ہے اور اس سے دوسرے فوائد بھی ہوتے ہیں۔ میں نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ جس کے قبضہ قدرت میں یہ منکہ ہو اس کے لئے کچھ مشکلات بھی کھڑی ہو سکتی ہیں۔ میں اپنے 3 مرلے کے چھوٹے سے گھر میں ایک رات شیش ناگوں کا حملہ ذہن میں لایا اور اسے رکھنے سے انکار کرتے صرف اتنا کہا کہ اس کی آپ کو زیادہ ضرورت ہے اور جب کبھی اس کی مدد سے کسی کی جان بچائیں۔ مجھے یاد کر کے دعا دے دیجئے گا۔ البتہ گیدڑ سنگھی میں واپس نہ کر سکا۔ شاید وہ لالچ بھی ذہن میں تھی کہ اس کی موجودگی میں نا ہونے والے کام بھی ہونے لگتے ہیں۔

اس دن مداری رضی الدین کو گیدڑ سنگھی کا خیال رکھتے سال دو سال ہوچکے تھے۔ جسے میں ماچس کی ایک ڈبیا میں رکھتا تھا۔ اور سیندور کھلانے کے ساتھ کبھی کبھار ہوا بھی لگوا دیتا۔ گیدڑ سنگھی میرے لئے ایک بے زبان اور بے حس پالتو جانور کی طرح تھی۔

یہ واقعہ چند ثانیوں میں میرے فلیش بیک سے گزرا اور مجھے یاد آیا کہ وہ گیدڑ سنگھی اس وقت بھی میرے پیراشوٹ سے بنے یونیورسٹی کے بیک پیک میں موجود ہے۔ میں نے سوچ لیا کہ شیش ناگ کے منکے اور گیدڑ سنگھی کی معلومات کو بھی میں، اس انجینئر مداری کے بھاشن میں استعمال کروں گا۔ اور کچھ نہیں تو گیدڑ سنگھی کی کرامات بتا کر اس کو دیکھنے کا دس پیسے ٹکٹ لگا کر بھی تیس پیسے کما لوں گا۔ میں نے اردو میں انگریزی کا تڑکا لگاتے تکا مارا کہ میرے پاس جیکل ہارن ہے تو اس کی کرامات سن کر ایک ہپی پاگل ہو گیا۔ کہنے لگا میں نے بھی اس کے بارے میں اپنے دادا سے سنا ہے۔ دکھاؤ۔ یعنی گورا میری بکواس پر تصدیق کی مہر لگا رہا تھا۔ یہ اور بات کہ مجھے سیندور کی انگریزی کرتے موت آ رہی تھی۔

Facebook Comments HS