بریانی، حلوہ اور شہد کی بوتلیں
لاہور کے بعد اسلام آباد میں بھی بریانی پک کر تیار ہو چکی ہے بریانی اس وقت پاکستانیوں کی سب سے پسندیدہ ڈش بن چکی ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر میدانی علاقوں میں لوگوں کا کھانے کی ڈش میں پہلا انتخاب بریانی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر پہاڑی علاقوں کی بات کریں تو ان علاقوں کے لوگوں نے شہد کی بوتل کو ترجیح دی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں زیادہ تر لوگ گھروں میں بریانی ہی پکاتے ہیں۔ اکثریت لوگ مٹن بیف چکن پر بریانی کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگر بریانی بنانے والے کے ہاتھ میں اچھا ذائقہ ہے تو وہ ایسی مزیدار بریانی تیار کرے گا کہ کھانے والے انگلیاں اور چمچے چاٹتے رہ جائیں گے۔ ہاں اگر بریانی پر بھرپور لاگت بھی لگائی گئی ہے تمام لوازمات بھی ڈال دیے گئے ہیں اس کے باوجود بھی بریانی اچھی نہ بنے تو زیادہ تر لوگ بریانی بنانے والے کو ہی کوستے ہیں۔ بریانی اچھی بنانے کا فن ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا یہ بھی قدرت کی ایک عطا ہے جو کسی کسی کے نصیب میں ہوتی ہے۔
پاکستان میں زیادہ کراچی اور لاہور کی بریانی ہی مشہور ہے۔ کراچی کی بریانی زیادہ سپائسی ہوتی ہے جبکہ لاہور کی بریانی مزیدار ہوتی ہے اس میں مصالحے کم ہوتے ہیں۔ لاہور میں آج کل لکشمی چوک اور ریگل چوک کے دال چاول بھی بہت مشہور ہیں۔ لاہور کے ہال روڈ کے اندر آپ کبھی داخل ہوں تو وہاں ایک وقاص بریانی کی بھی بہت بڑی دکان ہے۔ میں لاہور میں ہی پلا بڑھا ہوں اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہال روڈ میں بھی کوئی مشہور بریانی کی دکان ہے۔
میری ایک دوست ہے وہ اکثر اس دکان کا ذکر کرتی تھی۔ ایک دن میں نے کالے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا وہ مجھے پیار سے کہتی آج تو میرا دل کر رہا ہے کہ تم سے ایک وقاص بریانی کی دیگ نظر اتار کر بانٹ دوں۔ میں نے بھی اسی جستجو میں پوچھا کہ یہ بریانی کی دکان کہاں ہے پھر مجھے معلوم ہوا کہ یہ ہال روڈ کے اندر ہے۔ میں نے پھر ایک دن وہ دکان تلاش کرلی، یقین مانے وہ واقع ہی بہت مزیدار بریانی تھی۔
اب اگر اپ سیاست کی بریانی، شہد کی بوتل اور حلوے کی بات کریں تو اس کے ساتھ ایک مکس کھچڑی کا بھی تڑکا لگ چکا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے لوگوں نے شہد کی بوتلوں کو ترجیح دی ہے یہ کوئی باعث تعجب بھی بات نہیں ہے کیونکہ شہد کی بوتلوں کے ٹھیکے دار نے پنجاب میں خوب تڑکا لگانے کی کوشش کی ہے لیکن یہاں چکن گل نہ سکا جبکہ پہاڑی علاقوں میں اپنا مخصوص روایتی منجن بیچا ہے لوگ اس کے جھانسے میں پھر آ گئے۔ اب مجھے تو بار بار ان پہاڑی علاقوں کے لوگوں پر تشویش ہو رہی ہے کہ ان کے اگلے پانچ سال کیسے گزریں گے کیونکہ جس صوبے کے پاس اکثر سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ شہد کی بوتلیں کیسے تقسیم کرے گا۔
ہاں البتہ میدانی علاقوں کے لوگوں کے پاس وافر مقدار میں وسائل موجود ہیں اس لیے وہ با آسانی اپنے لوگوں کو سپائسی چکن بریانی کھلا سکتے ہیں جبکہ حلوے والے قدر پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا شکوہ ہے کہ ان کو ٹوٹلی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ وہ ریاست سے خفا نظر آرہے ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی قسم کے ریاستی عمل کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں۔
اب اصل امتحان بریانی والوں اور شہد کی بوتلوں والوں کا ہے کیونکہ یہ اپنے اپنی سیٹوں پر براجمان ہو چکے ہیں۔ اب ان کے ڈلیور کرنے کا وقت شروع ہو گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے لوگوں کی توقعات پر پورا اترتے ہیں یا ان کو ایک بار پھر نیا لالی پاپ دیا جائے گا کیونکہ اب ان کے پاس یہی موقع ہے کہ وہ خود کو ثابت کر پائیں کہ یہ لوگ واقع ہی ڈلیور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے وسائل کم ہے مسائل زیادہ ہیں۔ ایک بات یہ بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے ادھار کے مال سے زیادہ دیر تک آپ نہ بریانی کھا سکتے ہیں نہ آپ کو شہد کی بوتلیں مل سکتی ہیں۔ اسلام آباد والے اپنی مکس اچار کھچڑی سے تو گزارا کر لیں گے لیکن بریانی والوں اور شہد کی بوتلوں والوں کے پاس اب کوئی آپشن نہیں بچی۔


