طارق جانسن اصل ہیرو ہے



کیمرے کی آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے عام طور پر اسے مکمل سچ سمجھا جاتا ہے۔ مگر بہت کچھ پس پردہ بھی ہوتا ہے جو کیمرے میں رکارڈ نہ ہونے کے باوجود اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ ایسا ہی اچھرہ والے واقعہ میں بھی ہوا۔ پوری دنیا نے اے ایس پی شہر بانو کو ہراساں ہونے والی خاتون کو ہجوم سے بچاتے ہوئے دیکھا اور سراہا مگر وہ کچھ منٹوں کی ہی کہانی تھی جو کیمرے میں محفوظ ہو کر راتوں رات وائرل ہو گئی۔ بلا شبہ خاتون اے ایس پی اور باقی پولیس افسران کا کردار قابل تحسین ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہیں اسی کام کی تربیت دی جاتی ہے اور وہ اسی کام پر مامور ہوتے ہیں۔

مگر شاید ہمارے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اتنا مشکوک رہا ہے کہ اگر وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی کام کر رہے ہوں۔ ایسا ہی اچھرہ والے واقعہ میں بھی ہوا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ تھانے میں پولیس کی موجودگی میں ملزموں کے کہنے پر ہراساں کیے جانے والی خاتون سے کیمرے کے سامنے معافی منگوائی گئی، پولیس کی کوتاہی پر ’شاباشی‘ کا پردہ ڈال دیا گیا۔

اگرچہ اس واقعہ کو ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے تاہم بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنونی ’مسلمانوں‘ کے ہجوم کے ہاتھوں ’مسلمان‘ خاتون کو بچانے والا ایک کردار ایسا بھی ہے جس نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ لوگوں کو خاتون کی قمیض میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے کہ وہ بھرے مجمع میں قمیض اتارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ بس اتنا جانتا تھا کہ کسی خاتون کی جان اور عزت بچانا انسانیت کی دلیل ہے۔ اس شخص کا نام طارق جانسن ہے جو اچھرہ میں ’ماڈرن فوڈ کیفے‘ کا مالک ہے۔

یہ وہ شخص ہے جس کا اس پورے واقعہ میں کوئی ذکر نہیں کیا جاتا حالانکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے اس خاتون کو اس وقت اپنی دکان میں پناہ دی جب پولیس کا نام و نشان تک نہ تھا۔ طارق جانسن نے دکان کا شٹر گرا کر بہت دیر تک ہجوم کو روکے رکھا حالانکہ وہ ہجوم اس کی جان بھی لے سکتا تھا اور اس کی دکان کو آگ لگا کر اس کے روزگار کو برباد بھی کر سکتا تھا۔

جانسن کے پاس نہ تو کوئی اسلحہ تھا نہ اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ۔ نا ہی پولیس کی طرح اس کی کوئی ٹریننگ ہوئی تھی، نا ہی اسے یہ سمجھ تھی کہ ایسے موقع پر کیا کیا جانا چاہیے۔ وہ ایک سادہ سا آدمی تھا۔ زیادہ پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ یہ جانتا تھا کہ ’مہذب‘ معاشروں میں سزا دینے کا اختیار پولیس اور عدالت کو حاصل ہوتا ہے ہجوم کو نہیں۔ اس خوف سے بے نیاز کہ جنونی مسلمانوں کے ہجوم نے جو کچھ مشعال اور سری لنکن شہری کے ساتھ کیا وہ اس کی ساتھ بھی ہو سکتا تھا، جانسن اس خاتون اور اس کے شوہر کی جان بچانے کے لئے اپنی جان پر کھیل گیا اور پولیس کے آنے تک ہجوم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا رہا۔

بد قسمتی سے صرف ایک ٹی وی چینل نے اسے کوریج دی حالانکہ وہ اس پورے واقعہ کا پہلا چشم دید گواہ بھی تھا۔ مگر شاید ہمارا نیوز میڈیا بھی سوشل میڈیا کی وائرل ہونے والی ویڈیوز کو ہی فوقیت دیتا ہے۔ تبھی چند ہی گھنٹوں میں سب میڈیا چینلز خاتون اے ایس پی کے انٹرویو کے لئے ٹوٹ پڑے۔ کسی نے طارق جانسن سے رابطہ کرنے اور اسے سراہنے کی کوشش نہیں کی۔

مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر طارق جانسن کے کردار کو سراہا جائے اور اسے میڈل اور انعام سے نوازا جائے تا کہ آئندہ بھی لوگوں میں یہ شعور پیدا ہو کہ کسی بے گناہ کو وحشی ہجوم کے سامنے چھوڑ کر ویڈیو بنانے کی بجائے انسانی ہمدردی کے تحت اس کی جان بچانے کی کوشش کرنا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں طارق جانسن جیسے کردار سامنے آ جائیں تو مذہبی انتہا پسند بلوائیوں کو یہ سبق مل سکتا ہے کہ چھریاں لہرا کر اور نعرے لگا کر اب مزید بے گناہوں کی جان نہیں لی جا سکتی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر نازیہ نذر

ڈاکٹر نازیہ نذر سے ان کی ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے nazianazar783@gmail.com

dr-nazia-nazar has 7 posts and counting.See all posts by dr-nazia-nazar