امریکی انسان دوست اور ہم انسان دشمن کیوں ہیں


میں گزشتہ دس برسوں سے کچھ عالمی اخبارات آن لائن پڑھتا ہوں، نیویارک ٹائمز بھی ان میں سے ایک ہے۔ 24 فروری کو اس اخبار کے صفحہ اول پر خبر چھپی کہ ایک پروفیسر نے اپنی میڈیکل کالج کو ایک ارب ڈالر عطیہ کر دیے۔ ایک ارب ڈالر بہت بڑی رقم ہے یعنی پاکستان کا پانچ برس کا کل وفاقی اور صوبائی تعلیمی بجٹ بھی اتنا نہیں بنتا۔ اتنے سارے پیسے صرف ایک کالج کو عطیہ میں ملے یہ بڑی خبر تھی۔ البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن میں طویل عرصے سے پڑھانے والی پروفیسر روتھ گوٹسمین نے وہاں پڑھنے والے تمام طلباء کو مفت ٹیوشن فراہم کر نا شروع کر دیا ہے۔

ان کے شوہروال اسٹریٹ کے ایک فنانسر تھے یہ 93 سالہ بیوہ جس نے اسی کالج میں دہائیوں تک پڑھایا اس نے برونکس میڈیکل اسکول، البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کو 1 بلین ڈالر کا عطیہ دیا ہے، اس ہدایات کے ساتھ کہ اس تحفے سے تمام طلباء کے لیے ٹیوشن کا انتظام کیا جائے گا۔ عطیہ کرنے والی، روتھ گوٹسمین، آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کی سابقہ ​​پروفیسر ہیں، یہ ریاستہائے متحدہ میں کسی تعلیمی ادارے کے لیے سب سے بڑے خیراتی عطیات میں سے ایک ہے اور غالباً یہ میڈیکل اسکول کے لیے سب سے بڑا عطیہ ہے۔

یہ عطیہ نہ صرف اس کے حیران کن سائز کے لیے قابل ذکر ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ شہر کے غریب ترین بورو، برونکس کے ایک طبی ادارے کو دیا جا رہا ہے۔ برونکس میں قبل از وقت اموات کی شرح بہت زیادہ ہے اور اس کا شمار نیویارک کی سب سے غیر صحت بخش کاؤنٹیز میں ہوتا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی ارب پتیوں نے شہر کے امیر ترین بورو مین ہٹن کے معروف میڈیکل سکولوں اور ہسپتالوں کو کروڑوں ڈالر بطور عطیہ دیے ہیں۔ پروفیسر روتھ کے شوہر کو کرونا وبا میں کرونا ہو گیا تھا اور اسے اس میڈیکل کالج کے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں کئی ہفتوں کی محنت سے اس کی جان بچ گئی تھی۔

جب پروفیسر روتھ اپنے 92 سالہ شوہر کو تندرست ہونے کے بعد وہاں سے لے کر جا رہی تھی تو اس نے ہسپتال انتظامیہ کو کہا تھا کہ وہ ان کے لیے کچھ کرے گی۔ ہسپتال سے رخصت ہوتے ہوئے اس نے سب کو چوہے اور شیر کا قصہ بھی سنایا تھا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ :ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیر جنگل میں سو رہا تھا، اسی دوران ایک چوہے کا بھی یہاں سے گزر ہوا۔ چوہا اپنی موج مستی میں مگن تھا۔ چوہا چلتے چلتے اچانک سے شیر کے اوپر چڑھ گیا اور اپنی اچھل کود کرنے لگا۔

اسی دوران شیر کی آنکھ کھل گئی اور اس نے جب محسوس کیا کہ اس کے اپر کوئی چیز ہے تو شیر غصے سے دھاڑتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ جب شیر کھڑا ہوا تو اس کے اپر موجود چوہا نیچے آ گرا اور شیر نے اسے اپنے پنجے میں دبوچ لیا تاکہ وہ اسے مار ڈالے۔ ”مجھے بخش دیں، مجھے بخش دیں بادشاہ سلامت!“ چوہے نے روتے ہوئے شیر سے درخواست کی۔ شیر نے غصے میں کہا کہ ”کیا تمھیں معلوم نہیں اس جنگل کا بادشاہ آرام کر رہا ہے؟“

چوہے نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے نہیں معلوم تھا کہ ”آپ آرام فرما رہے ہیں مجھے معاف کر دیں میں کبھی یہ غلطی دوبارہ نہیں کروں گا۔ اگر آپ مجھے مار دیں گے تو آپ کی پورے جنگل میں بدنامی ہوگی کہ ایک بادشاہ نے ایک چھوٹے سے چوہے کو مار دیا لیکن اگر آپ مجھے معاف کر دیں گے تو میں آپ کا یہ احسان یاد رکھوں گا اور ایک دن ضرور آپ کو اس کا بدلہ بھی دوں گا۔“

شیر یہ سن کر بہت زور سے ہنسا اور کہنے لگا کہ ”جو چوہا اپنی جان نہیں بچا سکتا وہ مجھے کیا صلہ دے گا لیکن شیر نے رحم کھاتے ہوئے چوہے کو معاف کر دیا۔“ کچھ دنوں بعد ، جنگل میں اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے، شیر ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ اس نے بہت کوشش کی پر اس جال سے نہ نکل سکا، شیر نے غصے سے دھاڑنا شروع کر دیا۔ چوہا اس آواز کو پہچانتا تھا اور اس نے جب اس آواز کا پیچھا کیا تو اس نے دیکھا کے وہی شیر جال میں پھنسا ہوا تھا جس نے کچھ روز پہلے اس کی جان بخش دی تھی۔ چوہا یہ دیکھ کر فوراً جال کی طرف بھاگا اور اپنے تیز دانتوں سے اسے کاٹنے لگا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد چوہے نے شیر کو اس جال سے آزاد کرا لیا۔

شیر نے باہر آ کر چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ”تم نے اپنا کہا سچ کر دکھایا اور میرے احسان کا بدلہ مجھے دے دیا۔“ قصہ مکمل کر کے پروفیسر روتھ نے کہا تھا میں بھی چوہے کی طرح آپ کو حیران کردوں گی۔ اور چند برس بعد اس نے واقعی سب کو حیران کر دیا اس لیے کہ ان دنوں امریکہ میں میڈیکل کی تعلیم بہت زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔ میڈیکل کا ایک طالب علم صرف ٹیوشن فیس کی مد میں بیس لاکھ ڈالر دیتا ہے۔ جو موجودہ مہنگائی کے دور میں دینا سب کی بس کی بات نہیں ہے اس لیے زیادہ طالب علم قرضوں کے دلدل میں پھنستے جا رہا ہے تھے اور بہت سارے میڈیکل کی تعلیم کو خیر باد بھی کہہ رہے تھے۔

ایسے میں ایک ارب ڈالر کی مدد سے اس کالج میں تمام طلبا کی ٹیوشن فیس دینے کا اعلان ایسا ہی تھا جیسے جنگ ختم ہونے کا اعلان ہو، جس ہال میں ہزاروں طالب علموں کے سامنے پروفیسر روتھ نے یہ اعلان کیا وہ تمام طالب علم اپنے خوشی کے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور خوشی سے روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ پڑے۔

ایسا نہیں ہے کہ امریکہ میں یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے بھی ہزاروں لوگوں نے اپنی تمام دولت سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نام کی ہے۔ اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ امریکہ میں اسکالر شپس پر سالانہ چالیس ہزار سے زیادہ لوگ داخلہ لینے جاتے ہیں یہ اسکالر شپس اس طرح کے مخیر لوگوں کی طرف سے عطیہ کردہ پیسوں سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔ ٹیچ فار امریکہ، ڈونر چوز، کے آئی پی پی فاونڈیشن، اسکالرشپ امریکہ، نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن فاونڈیشن، دی ایجوکیشن ٹرسٹ، سٹی ائر، ائر آپ، دی مائنڈ ٹرسٹ، بربارا بش فاونڈیشن فار فیملی لٹریسی، گرلز ہو کوڈ، فل برائٹ اور اس جیسے سینکڑوں خیراتی فنڈز ہیں جس کے ذریعہ سے دنیا بھر سے لوگ امریکہ میں جاکر مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اگر صرف دس بڑے تعلیمی اخراجات میں مدد دینے والے فلاحی اداروں کا بجٹ دیکھا جائے تو ان کا سالانہ بجٹ پاکستان کے دس برس کے مکمل بجٹ سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں درجنوں ارب پتیوں نے اربوں ڈالر لوگوں کی تعلیم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کیے ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ خیرات امریکہ میں دی جاتی ہے۔ یعنی انسان دوستی میں امریکہ کا مقابلہ کوئی بھی ملک نہیں کر سکتا۔

اب اس کے مقابلے میں پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو حیرت یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ خیرات کر سکتے ہیں وہی پاکستان میں سب سے زیادہ اس ملک کو لوٹتے ہیں۔ اس ملک میں بڑے بڑے اداروں نے نمائشی خیراتی ادارے بنائے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنا ٹیکس بچاتے ہیں۔ یہاں تعلیمی اداروں کے بنانے میں کرپشن کی جاتی ہے۔ نصابی کتابیں چھاپنے میں کرپشن کی جاتی ہے۔ مشہور خیراتی ادارے جن کو لوگ فلاحی کاموں کے لیے پیسے دیتے ہیں وہ ان پیسوں کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں فلاحی کاموں سے وابستہ افراد کی دولت میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان افراد کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں، بیویوں اور رشتہ داروں کی دولت بھی بغیر کوئی کاروبار کیے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ملک میں غریب پیروں اور طاقت واروں کو چندے دیتے ہیں اور خود بھوکے سوتے ہیں اور ان کے چندوں پر پیر مزے کر رہے ہوتے ہیں، اس ملک میں مزاروں پر روزانہ لاکھوں کا چندہ جمع ہوتا ہے۔ یہاں چندہ ایک انڈسٹری ہے جس میں کبھی کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس انڈسٹری میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس ملک میں انسان دوستی نہیں ہے ہم کسی کے لیے کوئی آسانی اور سہولت پیدا نہیں کرتے۔ خیراتی ادارے بھی مریضوں اور ضرورت مندوں سے پیسے لیتے ہیں۔ ہم انسان دشمن ہوتے جا رہے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں ہر برس ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ انسان دوستوں یعنی فلانتھراپسٹ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں انسان دوستی کے ہزاروں سکول ہیں جہاں انسان دوستی کا درس دیا جاتا ہے۔

انہی میں سے ایک انڈیانا یونیورسٹی کے للی فیملی سکول آف فلانتھراپی ’ (آئی یو پی یو آئی) پورے امریکہ میں انسان دوستی کا ڈیٹا جمع کرتی ہے اور اس ڈیٹا پر مبنی ”انسان دوستی کی سالانہ رپورٹ“ کا اجرا کرتی ہے۔ آپ حالیہ برسوں کی رپورٹیں پڑھیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانیت امریکہ میں کس معراج تک پہنچی ہے۔ ہم امریکہ کو دنیا کی تمام برائیوں کا جڑ سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر کسی برس امریکہ نے دنیا کی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد بند کردی تو کیا ہو گا۔ اگر کسی برس امریکہ کے باشندے ایسا کر لیں تو اس دنیا میں قیامت آ جائے گی اس لیے کہ امریکیوں کی انسان دوستی سے سالانہ کروڑوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ امریکہ میں ایک ملین سے زائد خیراتی ادارے موجود ہیں۔ امیریکور اور مردم شماری کے بیورو کے مطابق کووڈ۔ 19 وبا کے دوران 16 برس یا اس سے زائد عمر کے 61 ملین امریکیوں نے جو کہ مجموعی آبادی کا 23 فیصد بنتے ہیں کسی نہ کسی تنظیم کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کیا۔

امریکہ کا تارکین وطن کا مالامال ورثہ بھی خیراتی کاموں کے لیے عطیات دینے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے تارکین وطن بالعموم اپنے آبائی ممالک کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھتے ہیں اور وہاں کے حالات پر نظر رکھتے ہیں۔ اس وقت دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں امریکیوں نے بیرونی ممالک کے لوگوں کے لیے لگ بھگ 50 ارب ڈالر کے عطیات دیے۔ جب جنوب مشرقی ترکیہ اور شمالی شام میں زلزلہ آیا تو اس کے بعد کے پہلے دو ہفتوں میں امریکہ کے نجی شعبے نے 66 ارب ڈالر کے عطیات دیے۔

اس کے ساتھ ساتھ لوگوں نے انفرادی طور پر کھانے پینے کی اشیا، کپڑے، بچوں کی ضرورت کی اشیا اور دیگر ضروری سامان بھی عطیے کے طور پر بھجوائے۔ جو لوگ امریکہ جاکر بس جاتے ہیں وہ بھی انسان دوست بن جاتے ہیں۔ وہ انسانوں سے محبت اور جانوروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔ یہ سب ماحول اور اچھی تعلیم کی وجہ سے ممکن ہے۔ ہمارا نظام تعلیم ہمیں حقیقی اخلاقیات کا درس بھی نہیں دیتا اور نہ ہی ہمارا معاشرہ ہمیں انسان دوستی کی طرف راغب کرتا ہے۔

ہمارا میڈیا صبح شام ہمیں جو دیکھا رہا ہوتا ہے اور ہمارے سو کالڈ مفکرین و ماہرین ہمیں جو سمجھا رہے ہوتے ہیں اس میں نفرت، جھوٹ، بہتان اور مخالفت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہی سب کچھ ہمارے سوشل میڈیا پر ہمیں نظر آتا ہے۔ جس کا نتیجہ ہمارا معاشرہ ہے۔ پاکستان کے تعلیمی ادارے اس وقت بدترین مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مگر ایک بھی انسان دوست اس ملک میں نہیں ہے کہ وہ آگے آئے اور ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں کا سہارا بنے۔ یہاں سہارا بننے والوں کی کمی ہے۔ یہاں ہر عمر اور ہر عہدے کے فرعونوں کی کمی نہیں ہے۔ جہاں جائیے وہاں آپ کو ایک سے ایک بڑا فرعون ملے گا۔ انسان دوستی کے لیے فرعون نہیں ہمیں بھی کوئی پروفیسر روتھ جیسی فرشتہ صفت خاتون کی ضرورت ہے۔ جو ان فرعونوں کے بچھائے ہوئے جالوں کو کاٹ کر ہمیں آزاد کرسکے۔

Facebook Comments HS