عاشقانہ نسخے

آج کا دن میری زندگی کا خوبصورت ترین دن ہے، وجہ یہ کہ آج میں اپنے نکمے عاشق قارئین کو کچھ ایسے نسخے بتانے جا رہا ہوں جن کا استعمال کر کے وہ میرا نام امر کر دیں گے۔ تو آئیے، نسخے نوٹ کر لیجیے۔
نسخہ نمبر ایک: (محبت کا اظہار)
دلربا سلام!
کچھ لمحات زندگی میں ایسے آتے ہیں کہ ان کی یاد انسان کا کل سرمایہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ آیا اور آج تک اسی ایک لمحہ کی یاد میرے دل کو روشن کیے ہوئے ہے۔ وہ لمحہ وہ تھا جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا اور بس دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری دنیا اتنی حسین نہ ہوتی اگر میں آپ کی محبت میں گرفتار نہ ہوتا۔ آپ کو پہلی بار دیکھنا مجھے آج تک یاد ہے۔ ایک نظر سے محبت تک کا سفر کیسے طے ہوا اس کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ میں آپ کو اپنا سب کچھ مان چکا ہوں۔
اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے
کئی بار آپ کے روبرو آ کر محبت کا اظہار کرنا چاہ مگر ہمت نہ کر پایا۔ وٹس ایپ پر محبت کا اظہار کرنے کا سوچا مگر شاید دو لفظوں میں وہ بیان کرنے سے قاصر رہا جو کچھ میں آپ کے متعلق کہنا چاہتا تھا۔ اس وجہ سے خط لکھ رہا ہوں۔
یہ صرف خط نہیں بلکہ میرے جذبات ہیں۔ ان جذبات کو ٹھکرانے سے قبل ایک بار یہ دیکھ لیجیے گا کہ اس میں میرا دل ہے کہیں وہ ٹوٹ نہ جائے۔
یہ دل اب میرا نہیں رہا بلکہ آپ کا ہو چکا ہے۔
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا
اے پری رو، آپ سے محبت کا اظہار کرنے کا مجھے سلیقہ نہیں آتا اور نہ ہی میں کوئی شاعر ہوں کہ ایسے الفاظ لکھ سکوں کہ جو بڑے اچھے ہوں۔ بس یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہی ہیں۔ ان الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے ان آنسوؤں کو دیکھو اور مجھ پر محبت کی صورت کرم کر دو۔
کیا کروں کہ یہ دل اب کسی صورت چین نہیں لینے دیتا۔ بس ہر وقت تمہارے خیالوں میں مجھے گم کیے رکھتا ہے۔ آپ کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو بولے تو اس کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں۔
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
مگر میں اتنی ہمت نہیں کر پاتا کہ آپ کے سامنے آ کر محبت کا اظہار کروں۔ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے اس کا کچھ بیان کر پانا ممکن نہیں۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ میں آپ سے اتنی گہری محبت کرتا ہوں جتنا گہرا رشتہ پھول اور خوشبو، سمندر اور لہریں، ہوا اور روانی، سانس اور خون کی گردش کا ہوتا ہے۔
آپ کی ایک نظر ہوگی اور میری زندگی میں خوشیوں کی بہار آ جائے گی۔ بس یہی التجا ہے کہ محبت کا جواب محبت ہی کی صورت دیجیے گا۔ جواب کا منتظر
آپ کا طلبگار
نسخہ نمبر دو: (جب بات چیت کرتے ہفتہ گزر جائے )
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ روحیں عالم ارواح میں ملا کرتی تھیں۔ مگر مجھے یاد نہیں کہ وہاں کس کس سے میری شناسائی رہی۔ پچھلے ایک ہفتہ سے نا جانے کیوں مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ یہ رس گھولتی باتیں، مٹھاس بھرا لہجہ اور منطقی مضبوطی سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے۔ خوبصورتی کے معنی مجھے معلوم نہیں مگر فاصلوں پر بیٹھے ہوئے ایک شخص کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ اگر خوبصورتی کا کوئی وجود ہوتا تو وہ اسی شخص کے روپ میں ظاہر ہوتی۔ آنکھیں بہت کچھ بیاں کر جاتی ہیں۔
مگر یہاں فاصلوں کی دوری باتوں سے طے کرنے کی کوشش ہے۔ سنا کرتے تھے کہ عرب میں شعرا شعروں سے جنگیں کروا دیا کرتے تھے۔ آج مجھے سمجھ آیا کہ لفظوں کی کیا اہمیت اور طاقت ہوتی ہے۔ ایک ہفتے سے اس کی باتوں کے سحر میں ایسا گرفتار ہوا ہوں کہ اگر یہ سحر ٹوٹا یا اس میں شدت آئی تو نا جانے کیا قیامت برپا ہو جائے۔ ایک آواز نے ایسا سحر طاری کر رکھا ہے کہ جادو کی حقیقت کھوکھلی نظر آئے۔ معاشرہ کہتا ہے کہ رشتے خدا بناتا ہے مگر شاید میں اگر اپنی تقدیر خود لکھتا تو معاملہ کوئی اور ہوتا اور پہلا درجہ اس شخص کو دیتا۔ مگر اب جب پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوں تو اور نہیں تو دوسرا درجہ تو اس شخص کو دے ہی سکتا ہوں۔ چلیں جو بھی معاملہ ہو، بس یہی التجا ہے کہ باتوں کا سحر اتنا نہ بڑھاؤ کہ میں پاگل ہو جاؤں۔
بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے
لفظوں کا یہ بہتا دریا اچھا لگتا ہے
نسخہ نمبر تین: (جب محبوب کا جنم دن ہو)
لفظوں میں جذبات کا اظہار نہیں کیا جاسکتا تھا تو خدائے کائنات نے اپنے محبوب کو پاس بلایا اور عاشق و معشوق نے روبرو بیٹھ کر باتیں کیں۔ جب خدا کے ہاں یہ معاملہ ہے تو میں تو ایک عام سی تخلیق ہوں اس لیے اپنے محبوب کے لیے جذبات کا اظہار لفظوں میں کیسے اتاروں۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا ہے اس لیے اس کا سہارا لے کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ سنہری دن اور چمکتی شامیں کیا ہوتیں ہیں اس کا مجھے علم نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ سے دل، رات میں اپنے اندر سورج کی سی روشنی محسوس کرتا ہے اور صبح ہوائیں محبت کا پیام دیتی ہیں۔
جذبات کا اظہار کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں مگر کبھی کبھی وقت کا سہارا لے کر جذبات کو محبوب کے دروازے پر پہنچانا پڑتا ہے۔ آج کی رات پہلے سے زیادہ روشن، ہوائیں خوشبودار، لمحے حسین اور چاند پہلے سے زیادہ منور ہے۔ اس کی وجہ کا تو نہیں بتا سکتا مگر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ آج کا دن ہی وہ حسین دن ہے جب اس دنیا میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس نے میرا پچھلا ایک ہفتہ میری زندگی کا یادگار لمحہ بنا رکھا ہے۔ جنم دن کی مبارکباد لفظوں میں دینا مناسب نہیں، مگر مجبوری کا عالم کہ ہم آپ کے روبرو آ کر اظہار مسرت کر نہیں سکتے۔ آپ کے لیے دعائیں کیا لکھوں، دل خود ایک دعا بنا ہوا ہے اور ہر دھڑکن سے آپ کی سلامتی کی صدا آتی ہے۔
بہارو پھول برساؤ آج دنیا میں میرا محبوب آیا ہے۔
نسخہ نمبر چار: (جب محبوب کی شادی کسی دوسرے سے ہونے والی ہو)
مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ دنیا اتنی حسین ہے کہ کوئی بھی شخص اس کے حسن کی گرفت میں ایسا گرفتار ہو کہ صدیاں گزر جائیں اور وہ حسن کے خمار میں خود کو گم کیے رکھے۔ یہ حسن دنیا کا نہیں شاید بنت حوا کا ہے۔ کسی کو ایک نظر ایسا دیکھا کہ سالوں بیت گئے مگر اس کی حرمت اور احترام پر سمجھوتا نہ کر پایا۔ دوری سے نزدیکی کا سفر کیسے طے ہوا اس کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا، ہاں مگر اتنا ضرور ہے ایک دن یہ نزدیکیاں پھر سے دوری بن کر زندگی کا روگ بن جائیں گی۔
مگر شاید وہ دوستی کا رشتہ پھر بھی قائم رہے اور یہی چیز زندگی جینے کا سلیقہ سکھا دے۔ سنا تھا کہ آنکھوں کی بھی زبان ہوتی ہے اور وہ جذبات کا ترانہ گاتی ہیں، مگر اس کے لیے تو آنکھوں سے آنکھیں ملانا پڑتی ہیں جو شاید میں نہ کر سکا۔ لہجوں کی چاشنی بھی تو کئی راز ظاہر کر دیتی ہے مگر شاید آواز کی مٹھاس میں، میں ایسا کھویا کہ راز کی طرف توجہ نہ کر سکا۔ مجھے نہیں معلوم میں یہ کیا، کیوں اور کس لیے لکھ رہا ہوں۔ مگر اتنا معلوم ہے کہ میری سانس مچل رہی ہے، دل دھڑک رہا ہے اور کانپتے ہاتھ تحریر لکھنے میں گم ہیں۔
خواہش کو رد کرنا کیا ہوتا ہے، یہ ہمارے تعلق کو معلوم نہیں۔ سنا ہے دعاؤں میں بڑا اثر ہوتا ہے مگر میں تو اس کشمکش میں مبتلا ہوں کہ خدا سے کسی کا زندگی بھر کا ساتھ مانگنے کے لیے دعا کس طرح کروں کہ وہ رد نہ کر پائے۔ مگر شاید اب بات دعا سے آگے بڑھ چکی ہے اور تعلق میں کوئی نیا کردار شامل ہونے والا ہے اور یہی سوچ میری زندگی کا سب سے بڑا غم بنتی جا رہی ہے۔

