یوم خواتین: ”یکساں ہے حق جینے کا“
خواتین کا عالمی دن قریب ہے۔ آج کوئی بھی باشعور شہری اس دن کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی کی تمام تر ترقی کے باوجود ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں پر قدامت پرستانہ سوچ کے سبب اس دن کو بھی مغربی ایجنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پروگرامز صرف بڑے شہروں کا خاصہ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز کے دیہاتوں میں یہ دن اپنی اہمیت بتائے بغیر یوں گزر جاتا ہے کہ جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔
کراچی، ملتان، لاہور، فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، اسلام آباد، لاڑکانہ، پشاور، ایبٹ آباد جیسے شہروں میں اس دن کی نسبت سے تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور خواتین کی اکثریت اپنے حقوق کے لیے ان تقریبات میں جمع ہوتی ہے لیکن پشین، آکوڑہ خٹک، دادو، بدین، لسبیلہ، مینگورہ، چمن، ڈیرہ غازی خان اور بہت سے دوسرے پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں شاذ و نادر ہی ”خواتین کے عالمی دن“ کی اہمیت کے بارے میں کوئی تقریب منعقد ہوتی ہو۔ یہ ایک افسوسناک رجحان ہے۔ ہمارے ملک میں مجموعی طور پر خواتین کی آبادی کا تناسب آدھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ہمیں نمایاں طور پر فعال نظر نہیں آتی۔ قدم قدم پر روایات کے نام پر رکاوٹوں اور پاؤں میں نظر نہ آنے والی بیڑیوں میں قید یہ عورتیں آخر کب سر اٹھا کر چل سکیں گی؟
برسوں پہلے فہمیدہ ریاض نے کہا تھا کہ
”عورت اور مرد برابر ہیں
اور یکساں ہے حق جینے کا ”
لیکن کیا واقعی میں یہاں جینے کا یکساں حق خواتین اور مردوں کو برابری کی بنیاد پر دیا گیا؟ آج بھی جبری طور پر کی جانے والی کم عمری کی شادیوں کے سب ہماری لڑکیوں کی اکثریت محرومیوں کا شکار ہے۔ ناخواندگی کے سبب بہتر روزگار کے حصول کا حق بھی ان سے چھین لیا گیا ہے اور غربت کے سبب روزانہ کی بنیاد پر انہیں تین وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔ ہمارے ملک میں عرصہ دراز سے کھیتوں، کھلیانوں اور اینٹوں کی بھٹیوں میں مشقت کرنے والی عورتوں کی محنت آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہیں محنت و مشقت کا وہ معاوضہ اور سماجی رتبہ نہیں ملا جس کی اصولی طور پر یہ حقدار ہیں۔
سماجی و معاشی ترقی اور آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کو پاکستان کے دیگر تمام صوبوں پر برتری حاصل ہے لیکن یہاں بھی خواتین کے خلاف ہونے والا امتیازی سلوک اور تشدد ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ دسمبر 2023 میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ”روزنامہ نوائے وقت“ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق
”خواتین کے حوالہ سے اتنی زیادہ قانون سازی اور انسانی حقوق کے اداروں کے قیام کے باوجود گزشتہ برس پنجاب میں مختلف مقامات پر 3914 زیادتی کے واقعات، 664 گھریلو تشدد، 174 غیرت کے نام پر قتل، 44 تیزاب پھینکنے کے واقعات اور 14 زبردستی کی شادی جیسے واقعات درج ہوئے“ ۔
اسی طرح صوبہ سندھ میں خواتین کے بارے میں ”ڈان نیوز“ میں شائع کردہ ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی فرم سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2023 سے 30 اپریل 2023 کے دوران صوبہ سندھ میں خواتین پر تشدد کے 771 کیسز پولیس کو رپورٹ کیے گئے جبکہ ان ابتدائی چار ماہ کے دوران ریپ کے 56 اور غیرت کے نام پر قتل کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں ہم باآسانی تصور کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان کے دور دراز دیہاتوں اور شہروں میں خواتین کی زندگیاں کتنی ناآسودہ ہوں گی کیونکہ وہاں پر ذرائع نقل و حمل کی سہولیات کا فقدان اور میڈیا کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔
ابھی کچھ دن قبل صوبہ خیبرپختونخوا کے اسمبلی ہاؤس میں مسلم لیگ نون کی ایم پی اے محترمہ ثوبیہ کے ساتھ جو تضحیک آمیز اور غیراخلاقی رویہ اختیار کیا گیا وہ کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ افسوس ناک واقعہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ خواتین اپنی محنت سے اگر کسی سماجی رتبے پر فائض ہو بھی جائیں تو بھی انہیں جنس کی بنیاد پر ذلیل کرنے میں ہمارے مرد حضرات کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ افسوس کہ ملک کا کوئی ایسا قانون نہیں جو ایم پی اے ثوبیہ کے خلاف غیراخلاقی زبان استعمال کرنے والوں کا محاسبہ کر سکے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی خطہ تھا جہاں پر قیام پاکستان سے قبل جناح کی مسلم لیگ کی سرپرستی میں خواتین کبھی سیاسی طور پر اتنی سرگرم رہی ہوں گی۔ اس حوالے سے اردو ادب بطور خاص پاپولر اردو لٹریچر کی مشہور و معروف مصنفہ رضیہ بٹ یاد آتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ
”ہم نے پاکستان بنایا تھا۔ جس طرح بنایا تھا، مجھے فخر ہے کہ میں تحریک پاکستان کی عملی رکن تھی۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا ) میں جہاں کانگریس کی تقویت و سرگرمی خان برادران کی وجہ سے تھی، وہاں مسلم لیگ نے کس طرح قدم جمائے۔ مجھے معلوم ہے۔ میں نے زنانہ مسلم لیگ کی پروپیگنڈا سیکرٹری کی حیثیت سے کئی سال کام کیا۔ پاکستان کا نعرہ جن بنیادوں پر لگایا گیا تھا اور جس طرح اسے سرحد کے گوشے گوشے تک پہنچایا گیا تھا، مجھے فخر ہے کہ میں اس میں پیش پیش تھی۔ 1946 کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ کی ادنیٰ خادم کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ جوش جہاد، وہ حق و باطل کا ٹکراؤ اور وہ کفر و اسلام کا معرکہ کہ میرے ذہن میں اب بھی تازہ ہے“
غور کیا جائے تو 1946 سے 2024 تک آتے آتے آج حالات کتنے ابتر ہو چکے ہیں۔ خواتین کے بارے میں اب ہمارے عمومی رویے دن بہ دن تنزلی کا شکار ہیں۔ چادر اور چار دیواری کے نام پر عورتوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں مجموعی طور پر ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کل ہمارے معاشرے میں خواتین کو جو تھوڑی بہت سیاسی و سماجی آزادی اور احترام حاصل تھا آج اسے جنس کے نام پر بازاروں میں عورتوں کا بیوپار کرتے بیوپاریوں کی مانند رسوا کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی جب کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں آٹھ مارچ کو ”عورت مارچ“ کے بینر تلے ریلیاں اور مارچز منعقد ہوں گے تو انہیں ملک دشمن اور اسلام دشمن ایجنٹ کے القابات سے نوازا جائے گا۔ جبکہ عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے اور انہیں زندگی کی خوبصورتیوں سے محروم رکھنے والے ”اسلام میں عورت“ کو دیے جانے والے ”حقوق“ پر اخلاقی لیکچر دیتے نظر آئیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ”عورت مارچ“ کے بینر تلے ہم پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ان قوتوں کو للکاریں، ان کے غیرانسانی اور غیراخلاقی ہتھکنڈوں کا موثر جواب دیں اور انہیں یہ بتائیں کہ
عورت اور مرد برابر ہیں
اور یکساں ہے حق جینے کا!

