شہباز شریف اور چیلنجز۔ یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا
میاں محمد شہباز شریف نے وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیا ہے۔ 201 اراکین کی حمایت ملی، مد مقابل عمر ایوب نے 92 ووٹ لیے۔ شہباز شریف 1950 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ میاں محمد شریف کے دوسرے صاحبزادے ہیں، ایک با اثر تاجر اور مشترکہ طور پر اتفاق گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں، 1985 میں لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ شہباز 1988 میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ ، 1990 میں این اے 96 لاہور 5 سے قومی اسمبلی اور 1993 پی پی 125 لاہور 10 سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی، اور قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔
1997 میں پی پی 125 لاہور سے تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر صوبے کے وزیر اعلیٰ بنے۔ 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد انہیں معزول کر کے سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔ 2007 میں 8 برس کی جلا وطنی کے بعد واپس پاکستان آئے۔ 2008 میں چوتھی مرتبہ بھکر سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی اور دوسری بار صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔ 2013 میں لاہور سے ایک مرتبہ پھر اسمبلی کے رکن بنے اور تیسری بار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔
2018 میں نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہوئے۔ 2018 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب لڑا جس میں عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیراعظم بنے اور شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے، بعد ازاں شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ شہباز شریف عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد وزیراعظم بنے، تو ملک سخت معاشی مشکلات میں تھا۔ 16 ماہ کے مختصر دور میں آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ حاصل کیا۔ تاہم روپے کی گراوٹ اور افراط زر 38 فیصد تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ضروری اصلاحات تھیں۔ 1997 میں پاکستان مسلم لیگ نون نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔
شہباز شریف طبعاً محنتی اور انھیں اپنے اہداف پورا کرنے کا جنون ہے اچھے منتظم کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں کئی منصوبے شروع کیے تاہم ان کی پہلی حکومت وقت سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے 1999 میں مارشل لاء کے نفاذ سے ختم ہو گئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ وہ بنیادی طور پر محاذ آرائی کے قائل نہیں۔ ان کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
ایک موقع پر پرویز مشرف نے کہا کہ ’اگر شہباز شریف وزیراعظم ہوتے تو بہتر ہوتا۔‘ تاہم دونوں بھائیوں کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور غداری کے مقدمات قائم کیے گئے۔ 2000 میں جنرل پرویز مشرف سے ایک مبینہ ڈیل کے بعد جلا وطنی اختیار کی۔ انہوں نے جلا وطنی سے بچنے کی بہت کوشش بھی کی۔ قید کے دوران بڑے بھائی نواز شریف کو خطوط میں یہی مشورہ دیتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ نہ کیا جائے۔
وزارت اعلیٰ کے دس برسوں میں ان کے ’سخت ایڈمنسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا۔ لاہور میں ڈینگی کے خلاف آپریشن میں انھوں نے صبح چھ بجے ڈاکٹروں اور دیگر ٹیموں کو بلا رکھا ہوتا تھا۔ شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے چین کے تعاون سے پاور پلانٹس لگائے اور انہیں ریکارڈ مدت میں ختم کیا۔ اسی وجہ سے ’پنجاب سپیڈ‘ کی اصطلاح بھی مشہور ہوئی۔
شہباز شریف نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی کئی منصوبے مکمل کیے تاہم ان کے دو بڑے منصوبے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنے۔ لاہور میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے میٹرو بس چلانے کا منصوبے کو عمران خان نے ’جنگلہ بس‘ کا نام دیا۔ شہباز شریف نے تمام تر تنقید اور مخالفت کے باوجود میٹرو بس منصوبہ مکمل کرنے کے بعد راولپنڈی، اسلام آباد اور ملتان میں بھی یہ کامیاب منصوبہ شروع کیا گیا۔ اورنج لائن ٹرین منصوبے پر بھی شہباز شریف کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم بعد میں یہ پراجیکٹ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں چلنا شروع ہوا اور ابھی تک چل رہا ہے۔ شہباز شریف عوامی لیڈر نہیں البتہ اچھے منتظم ہیں۔ وہ غیر ضروری جھگڑوں کے قائل نہیں، دفاعی اداروں کے ساتھ بھی بنا کر رکھی۔ 2017 میں جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تاحیات نا اہل قرار دیا تو پارٹی صدارت شہباز شریف کے پاس آ گئی لیکن وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی کو ملی۔ 2018 میں شہباز شریف پنجاب سے مرکز میں آئے اور قومی اسمبلی کے رکن کے ساتھ قائد حزب اختلاف بھی منتخب ہو گئے۔
ان کے خلاف مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم ہوئے تاہم کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ شہباز شریف کے لیے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ پانچ سال کے لیے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں تاہم اکثریت نہ ہونے کے باعث ان کی حکومت زیادہ مضبوط نہیں ہو گی۔ وہ نظریاتی طور پر اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مفاہمت کے حامی ہیں انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں میثاق مفاہمت اور معیشت کی تجویز دے کر اس کا ثبوت دیا لیکن ان کے مخالفین کا جارحانہ رویہ کیا انہیں اس کی اجازت دے گا؟
پاکستان سخت معاشی بحران میں ہے، افراط زر کی شرح 30 فیصد کے قریب اور ترقی کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے۔
ہمارا معاشی بحران اس قدر شدید ہے کہ حکومت کو سکون کا سانس نہیں مل پائے گا۔ جون تک 24 ارب ڈالرز قرضے واپس کرنے ہیں، جب کہ دو ماہ بعد بجٹ بھی ہے۔ مالی خسارے سے دوچار اداروں کی نجکاری بھی ہونی ہے۔ پی آئی اے شدید مالی بحران میں مبتلا اور پاکستان اسٹیل ملز سالوں سے بند پڑی ہے لیکن عوام کے ٹیکسز سے ملازمین کی تنخواہیں برابر دی جا رہی ہیں جو قومی بجٹ پر ایک بلاوجہ بوجھ ہے۔ پیپلز پارٹی مل کو نہ بیچنے دیتی ہے اور نہ خود چلاتی ہے۔
آصف علی زرداری کو یہ ذمے داری خود نبھانا ہوگی۔ ہم کب تک اپنا قومی خزانہ اس طرح لٹاتے رہیں گے۔ پی آئی اے ایک کامیاب ایئرلائنز تھی سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اسے خسارے میں لائیں۔ آج ہم ڈیفالٹ کے قریب ہیں جب کہ ہمارے پڑوسی ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے فیکٹریاں اور کارخانے لگا کر باعزت روزگار فراہم کیا جائے تاکہ ملکی برآمدات بڑھیں اور قوم کو کشکول سے نجات ملے۔
نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کار یہی معاشی بحران کم کر سکتی ہے۔ چونکہ شریف برادران کے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس لیے عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ تعلقات متعدد منصوبوں میں محفوظ سرمایہ کاری میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کو پاکستان امریکا اور چین تعلقات متوازن رکھنے، اور ہمسایہ ممالک بھارت، ایران اور افغانستان سے کشیدہ تعلقات سے نمٹنے کا مشکل سفارتی چیلنج بھی درپیش ہو گا۔
سیاسی ہم آہنگی اور سفارتی استحکام کو فروغ دینے کی ان کی صلاحیت کا سخت امتحان ہو گا۔ ماضی قریب میں شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی بچھائی بارودی سرنگوں کے باوجود آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے معاہدے سے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا۔ اور ناراض سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور چین کے ساتھ تعلقات بحال کیے اور انہیں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے لئے راضی کیا۔ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بلاشبہ شہباز شریف رکھتے ہیں۔
مشرف اور جنرل باجوہ کی اقتدار کی اوپن آفرز کو ٹھکرا کر شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ دے کر قید و بند کی اذیتوں کا انتخاب کیا۔ بہادری اور وفاداری ہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر وزیر اعظم پاکستان کے لئے نواز شریف کا انتخاب شہباز شریف بنے۔ اقتدار ان کے لیے پھولوں کی سیج نہیں لیکن نواز شریف کو اس بات کا یقین ہے کہ مشکل ترین حالات میں شہباز شریف ہی پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی نوید بنیں گے۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا۔


