ملک کے معاشی حالات
معاشی ماہر قیصر بنگالی نے ایک یوٹیوبر کو انٹرویو دیا ہے جو ہم سب کے لیے آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ اس نے جو باتیں کی ہے ساری تو میں اس چھوٹے آرٹیکل میں نہیں کر سکتا لیکن میں کچھ ان کی اہم باتوں کا ذکر ضرور کروں گا۔
قیصر بنگالی کافی سالوں سے یہ باتیں کر رہے ہیں، لیکن افسوس ان کی باتوں کو کوئی سننے والا نہیں۔ اس نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے ملک ٹوٹ رہا ہے اور اس کو بچانے والا کوئی نہیں، ہم ساری قرضوں کے پیسوں سے عیاشیاں کر رہے ہیں۔ آپ روڈ پر چلے جائیں آپ کو چمکتی بڑی گاڑیاں نظر آئیں گی لیکن ساری گاڑیاں قرضے کی ہیں۔ اور ان میں پیٹرول بھی قرضے کا ہے۔ آج کل ہم تنخواہیں بھی قرضہ لے کر دی رہیں ہیں۔ اور مزید قرضہ پہلے والا قرضہ واپس کرنے کے لیے لے رہے ہیں۔
اس نے بتایا سیاستدانوں کے پاس کوئی فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ ان کو فیصلے بتائے جاتے ہیں اور وہ اناؤنس کر دیتے ہیں۔ اس نے بتایا ہمارے پاس ایک ہی راستہ ملک کو بچانے کا ہے کہ ہم حکومت اور فوج کا خرچہ کم کر دیں، اور ہم جمہوریت کو چلنے دیں، اگر نہیں کریں گے، اب ہم ملک نہیں بچا پائیں گے۔ اس نے بتایا کہ ہمارے کارخانے بند ہو رہے ہیں، ہیومن کیپٹل ملک چھوڑ کے جا رہا ہے۔ اور ابھی تک ملک چلانے والوں کو احساس تک نہیں۔
اس نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مفروضوں پر نہیں چلایا جا سکتا۔ دنیا کے پاس اب پاکستان کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، اور دنیا کو اب انڈیا کی ضرورت ہے اور امریکہ سمیت پڑی ملک انڈیا میں انویسٹمنٹ کر رہے ہیں۔ ہمارے تو دنیا اثاثے لینے کے لیے تیار نہیں، کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں آنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
قیصر بنگالی نے ہماری انویسٹمنٹ کی ایک مثال دی کہ، ہمارے پاس کارخانے بھی کچھ لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ اس نے بتایا پنجاب میں امپورٹڈ کول پر بجلی کا کارخانہ لگایا گیا ہے جب کہ امپورٹڈ کوئلا کراچی میں آتا ہے اور کراچی سے پنجاب تک کول پہنچتے تک اتنا خرچہ آتا ہے جتنا بجلی بنانے کا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ بجلی کا کارخانہ کراچی میں لگنا چاہیے تھا جہاں آپ کو کول کو ٹرانسپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، اور خرچہ بچ جاتا۔ اسی طرح اس نے بتایا کہ ہم اپنی بنجر زمین کو آباد کرنے کے لیے مڈل ایسٹ کو دے رہے ہیں، لیکن ہمارے پاس پانی نہیں ہے، اگر آپ یہ پانی بنجر زمیں پر لگائیں گے تو جو زمین پہلے آباد ہے ان وہ بنجر ہو جائی گی۔ اس نے کہا یہ سب مفروضے ہیں اور اس طرح ملک کی معیشت نہیں چل سکتی۔
قیصر بنگالی نے پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کو ہمارا میڈیا اور کچھ لوگ سنہری دور کہتے ہیں۔ اس نے کہا پرویز مشرف نے کوئی کارخانہ نہیں لگایا، بجلی کے پیدا کرنے کے آئی پی پی کے ساتھ ڈالر کے معاہدے ہوئے اور ان کو ابھی تک ہم ڈالر میں پیسے دیتے ہیں۔ جس نے ہمارے ملک کو بٹھا دیا ہے۔ اس نے کہا یہ مہنگائی تو کچھ بھی نہیں، یہ تو ابھی شروعات ہے۔ آپ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں مہنگائی کہاں جا کہ پہنچے گی۔
قیصر بنگالی نے مزید کہا اگر کسی مریض کو پتا ہو کٰہ اس کو شوگر ہے اور پھر بھی وہ نہ مانے اور شکر کھاتا رہے اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے اور ہمارے ملک کی وہی حالت ہے۔ سب کو پتا ہے ہمارا ملک کس نہج تک پہنچ چکا ہے لیکن اب بھی ملک کو چلانے والے ملک میں ڈیموکریسی کو چلنے نہیں دے رہے۔ اپنے مرضی کی حکومت چاہتیں ہیں جو کبھی بھی ڈلیور نہیں کر سکتی۔
اس نئی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی نے بھی کچھ اس طرح کی باتیں کی ہے۔ میرا کوئی تعلق اچکزئی کی پارٹی کے ساتھ نہیں لیکن اس نے اس ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے کچھ تجویزیں دی ہیں مگر ان پر بہت تنقید ہو رہے۔ ایک کالمسٹ نے لکھا کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اور اس کو عمران نے صدارت کے لیے نامزد کر کہ اچھا پیغام نہیں دیا۔ اچکزئی صاحب نے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی ہے اور ان کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی سپورٹ ہے مگر کچھ لوگ ان کو بھی ملک دشمن سمجھتے ہیں۔
ہماری قومی اسمبلی میں جن لوگوں کو بھیجا گیا ہے ان سے تو لگتا ہے کہ ابھی تک ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور ہم مسلسل گڑ اور شکر کھائے جا رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارا مریض ٹھیک ہو جا جائے جو کہ بالکل ممکن نظر نہیں آتا۔


