اعلی افسران قابل مگر سول سروس زوال پذیر ہے! (مکمل کالم)
اعلیٰ سرکاری افسران کا اجتماع تھا، ہر صوبے اور سروس کے افسر موجود تھے، پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز دی جا رہی تھیں جن میں گمبھیر حکومتی مسائل کا حل پیش کیا جا رہا تھا۔ ایسی ہی پریزنٹیشن ایک جہاندیدہ افسر نے بھی دی جو سرد و گرم چشیدہ تھے، ملک کا کوئی ایسا کلیدی عہدہ نہیں تھا جس پر وہ فائز نہ رہے ہوں اور کوئی ایسی حکومت نہیں تھی جس کے ساتھ انہوں نے کام نہ کیا ہو۔ لب لباب ان کی گفتگو کا یہ تھا کہ قابل اور اہل افسران کی تعیناتی سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ ان کی پریزنٹیشن کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا، میرٹ کی بات ہوئی، اقربا پروری اور بد دیانتی پر گفتگو ہوئی اور سرکاری افسران کی تنخواہیں اور مراعات زیر بحث آئیں۔ ایسے میں ایک سرپھرے افسر نے جہاندیدہ افسر سے بڑا دلچسپ سوال پوچھا کہ اگر ہم اپنے ملک کے کلیدی عہدوں پر نظر دوڑائیں تو پتا چلے گا کہ ہر عہدے پر غیر ملکی جامعات کے فارغ التحصیل افسران تعینات ہیں۔ آئی جی، چیف سیکریٹری، وفاقی و صوبائی سیکریٹری، گورنر سٹیٹ بنک، ایس ای سی پی، اوگرا، نیپرا کے سربراہ، وفاقی و صوبائی محتسب اور سرکاری کارپوریشنز کے چیئرمین سمیت کوئی ایسا ادارہ، محکمہ یا عہدہ نہیں جہاں ہاورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج، سٹینفورڈ، ایم آئی ٹی، برکلے، کارنل یا امپیرئیل کالج لندن سے پڑھا ہوا افسر تعینات نہ ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے اعلیٰ افسران کئی ممالک میں تربیت کے لیے جاتے ہیں، سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں، وہاں ان کا ملاپ غیر ملکی مندوبین اور ہم منصب افسران سے ہوتا، ان ممالک کی سول سروس کے بارے میں جانکاری ملتی ہے جس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کیسے ان ممالک نے ان مسائل پر قابو پایا جن سے ہم آج کل نبرد آزما ہیں۔ گویا ایک اہم عہدے پر تعینات افسر کو جتنا پڑھا لکھا، تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہونا چاہیے، ہمارے افسران اس سے پیمانے سے کہیں اوپر ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارا ملک گھن چکر سے نکل ہی نہیں پا رہا، ہماری سروس ڈیلیوری بہتر نہیں ہو رہی اور ہماری گورننس کے مسائل رو بروز پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں؟ اس جہاندیدہ افسر نے تسلیم کیا کہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب ان کے پاس نہیں۔
سچ پوچھیں تو اس سوال کا کوئی ایک لگا بندھا جواب نہیں جو میں پیش کروں اور معاملہ شیشے کی طرح صاف ہو جائے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اعلیٰ تربیتی ادارے اور غیر ملکی جامعات کسی شخص کو صیقل کر کے نکھار سکتے ہیں، اس میں جوہر پیدا کر سکتے ہیں، اسے ہنر مند اور قابل بنا سکتے ہیں مگر اسے راست باز نہیں بنا سکتے، اس کی اخلاقی تطہیر نہیں کر سکتے اور اس میں وہ کیریکٹر پیدا نہیں کر سکتے جو ایک سول سرونٹ میں مطلوب ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں یہ مغالطہ دور کر لینا چاہیے کہ آئی وی لیگ سے فارغ التحصیل افسر ہی بہترین ہے، اعلیٰ تعلیمی ادارے کی افادیت اپنی جگہ مگر یہ معاملے محض ایک پہلو ہے۔ ہم چونکہ سی وی سے متاثر ہونے والے لوگ ہیں اس لیے ڈگریوں کی بھرمار اور تعیناتیوں کی کاک ٹیل دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ افسر ہر فن مولا اور Doer ہے جبکہ بد قسمتی سے سی وی یہ نہیں بتاتا کہ افسر دباؤ میں کام کر سکتا ہے یا نہیں اور اس میں اپنے باس کو انکار کرنے کی کتنی اخلاقی جرات ہے۔ اعلیٰ عہدے چونکہ بے حد پر کشش ہوتے ہیں، مراعات اور طاقت سے لبریز ہوتے ہیں، اس لیے زیادہ تر افسران انہیں کھونے کے متحمل نہیں ہوسکتے چاہے انہوں نے پراجیکٹ منیجمنٹ میں پی ایچ ڈی ہی کیوں نہ کی ہو۔
اس مسئلے کا کوئی آسان اور سادہ حل نہیں ہے، کچھ لوگوں کی رائے میں چونکہ پورا معاشرہ ہی اخلاقی پستی کا شکار ہے اس لیے سول سروس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، مگر سوال پھر وہی کہ اس چکر سے کیسے نکلا جائے؟ اس کا ایک حل ترقیوں کا نظام درست کرنے میں پوشیدہ ہے۔ سول سروس میں گدھوں اور گھوڑوں کے ساتھ لگ بھگ ایک جیسا برتاؤ ہی کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گریڈ بائیس میں ایسے ایسے افسر بھی پہنچ جاتے ہیں جنہیں شاید اٹھارہویں گریڈ میں ہی ریٹائر ہوجانا چاہیے۔ اس مسئلے کا قابل عمل حل یہ ہے کہ ترقیوں کا نظام تبدیل کیا جائے۔ ہماری سول سروس میں ہر گریڈ میں ترقی سے پہلے ایک تربیتی کورس لازمی ہوتا ہے مگر یہ کورس ہر افسر ’کامیابی‘ کے ساتھ مکمل کر لیتا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کورس میں ہی افسران کی تطہیر کر لی جائے اور صرف پانچ یا دس فیصد افسران کی ترقی کی سفارش کی جائے۔ لیکن یہ کام تربیتی اداروں کے موجودہ سیٹ اپ میں ممکن نہیں، اس کے لیے سنگاپور کی طرز کا تربیتی نظام ترتیب دینا پڑے گا اور فیکلٹی ممبران کو غیر ممالک سے بلا کر ان اداروں میں تعینات کرنا پڑے گا تاکہ سفارش کا ایک فیصد امکان بھی باقی نہ رہے۔ اس کے علاوہ تربیتی کورس میں افسران کی درجہ بندی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہو گی تاکہ اس میں رد و بدل نہ ہو سکے، یہی نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر تربیتی سرگرمی کے نمبر اسی وقت افسران کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ یہاں چونکہ تفصیل میں جانا ممکن نہیں، سو صرف ایک خاکہ سا پیش کر دیا ہے۔ یقیناً یہ ماڈل اخلاقی تطہیر کو یقینی نہیں بنا سکے گا مگر ان افسران کی چھانٹی ضرور ہو جائے گی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود گمبھیر مسائل کی درست پڑتال نہیں کر سکتے اور جن میں تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔ چونکہ اس وقت گدھے اور گھوڑے برابر ہیں اس لیے یہ ماڈل اس تفریق کو واضح کرنے میں مدد کرے گا تاکہ صرف اہل افسران ہی اگلے گریڈ میں ترقی پا سکیں۔
ایک مسئلہ احساس تفاخر کا بھی ہے۔ جو افسر گریڈ سترہ میں بھرتی ہو کر گریڈ بائیس تک پہنچتا ہے وہ اپنے آپ کو توپ سمجھنے لگتا ہے، اسے لگتا ہے جیسے وہ عقل کل ہے اور وہ ہر کام کر سکتا ہے۔ جب آپ میں یہ احساس تفاخر پیدا ہو جائے تو پھر آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے، ایسے افسران کو ناں سننے کی عادت نہیں رہتی اور وہ اپنے ارد گرد ہم خیال جونئیر افسروں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جو ان ہر بات پر واہ واہ کہہ کر انہیں حقیقت سے مزید دور کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال کا مداوا بھی کسی حد تک تربیتی اداروں کے تحت ہونے والی تطہیر کے ذریعے ممکن ہے۔ ہو سکتا ہے آپ سوچ رہے ہوں کہ میں تربیتی اداروں پر کچھ زیادہ تکیہ کر رہا ہوں، شاید ایسا ہی ہو، مگر اس ضمن میں سول سروس کے اداروں کو فوج سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں تربیتی اداروں میں بہترین افسران تعینات کیے جاتے ہیں اسی لیے ان کا نظام سول سروس سے بہتر ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہت سے سرکاری افسران اپنے اپنے دائرہ کار میں بہترین کام کر رہے ہیں مگر چونکہ ہمارا نظام عمومی طور پر بوسیدہ اور فرسودہ ہو چکا ہے اس لیے ان افسران کی ستایش اور پذیرائی نہیں ہو پاتی۔ یعنی اگر کسی محکمے کا افسر حقیقتاً جانفشانی سے کام کرے اور محکمے کی کایا کلپ بھی کر کے رکھ دے تو بھی عوام مشکل سے ہی مطمئن ہوتے ہیں او ر اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اپنا موازنہ غیر ممالک کے نظام سے کرتے ہیں جہاں سول سروس کی خدمت کا معیار بہت بلند ہے۔ آج کل چونکہ میڈیا پر ہر چیز انگلی کے ایک اشارے سے سامنے کھل جاتی ہے اس لیے لوگ ترقی یافتہ ممالک کی سروس ڈیلیوری دیکھ کر ہمارے جیسے غریب ملک کا تقابل امیر ممالک سے کرتے ہیں اور پھر بیوروکریسی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ میں نے یہ بات سول سروس کا دفاع کرنے کی غرض سے نہیں کی بلکہ صرف معاملے کا ایک پہلو بیان کیا ہے۔
ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ گورننس اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے اور سماج کی نزاکتوں کو سمجھا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جیسے ممالک میں چونکہ پالیسی بناتے وقت کلچر کی حساسیت کو اہمیت نہیں دی جاتی اس لیے زیادہ تر پالیسیاں ناکام ہوجاتی ہیں اور یہی بات سول سروس کی بدنامی کا باعث بھی بنتی ہے۔ یہ نقطہ نظر خاصا دلچسپ اور بحث طلب ہے لہذا اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔


