ڈاکٹر امجد طفیل کی تنقیدی بصیرت پر ایک نظر


ڈاکٹر امجد طفیل کا عمر بھر کا تنقیدی سرمایہ، جو گزشتہ چالیس سال میں وقفے وقفے سے مختلف مضامین کی صورت میں ظہور کرتا رہا ہے ؛ اب سنگ میل سے پانچ کتابوں کے لگ بھگ اٹھارہ انیس سو صفحات کے مواد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے :

1۔ ہم عصر اردو افسانہ:

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں نظری مباحث بھی ہیں اور اس صنف کے باب میں تخلیقی رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جدید اردو فکشن پر نفسیات کے دبستانوں کے اثرات، حقیقت نگاری کے بدلتے ہوئے رجحانات، اردو افسانے پر مطبوعہ مقالات کا جائزہ، اردو افسانے کی تحقیق و تنقید کے مسائل کا تجزیہ، قیام پاکستان سے لے کر اب تک کا اردو افسانہ اور حقیقت، علامت اور جدیدیت کے حوالے سے ایک صدی کے اردو افسانے کا تجزیہ۔

اس کتاب کا دوسرا حصہ ان مضامین کو قرار دیا جاسکتا ہے جن میں اردو کے افسانہ نگاروں کے انفرادی مطالعے کیے گئے ہیں۔ اس حصے میں سید رفیق حسین، غلام عباس، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، ڈاکٹر انور سجاد، نیر مسعود، بلراج مینرا، منشا یاد، رشید امجد، ذکا الرحمن، حسن منظر، محمد حمید شاہد اور مبین مرزا کے فن کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب میں ایک الگ گوشہ امجد طفیل کے محبوب فکشن نگار انتظار حسین کے خصوصی مطالعہ کے لیے وقف ہے۔ جس میں پانچ اہم مضامین اور انتظار حسین کا کوائف نامہ بھی شامل ہے۔

2۔ ہم عصر اردو ناول :

فکشن کی تنقید پر مشتمل اس دوسری کتاب کو بھی آپ تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی کتاب کی طرح اس پہلے حصے میں نظری اور مجموعی طور پر ناول کی تخلیقی رفتار اور مزاج پر مباحث ملتے ہیں۔ ناول کی ناولیت، اردو ناول بیسویں صدی کے نصف اول میں، اردو ناول 1947 ء سے 1999 ء تک، اردو ناول اکیسویں صدی میں اور جدید اردو ناول میں ہیئت و اسلوب کے مسائل جیسے موضوعات کی ذیل میں اردو ناول کی مکمل تاریخ کو مرتب کر کے اس کی رفتار اور مزاج کو کشید کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے دوسرے حصے میں عزیز احمد، اکرام اللہ، بانو قدسیہ، مرزا اطہر بیگ اور حسن منظر کے منتخب ناولوں کے مطالعے ملتے ہیں۔ تیسرے حصے میں امجد طفیل نے 1991 ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب کو بہ صورت خصوصی مطالعہ شامل کر دیا ہے۔ یہ خصوصی مطالعہ قرۃ العین حیدر فن اور فکر کا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قرۃ العین حیدر کے فن سے امجد طفیل کو اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی دلچسپی رہی ہے اور انہوں نے ایم ایس سی نفسیات کی تعلیمی ضرورت کے تحت ان ہی کی تحریروں کو نفسیاتی مطالعے کا موضوع بنایا تھا جو بعد میں ”قرۃ العین حیدر؛تشخص کی تلاش میں“ کے نام سے کتابی صورت میں طبع ہوا تھا۔

3۔ ہم عصر اردو شاعری:

اگرچہ فکشن کی تنقید امجد طفیل کا محبوب موضوع رہا ہے تاہم وہ شاعری کے مطالعے اور تنقید سے بھی غافل نہیں رہے۔ اس حصے میں 27 مضامین شامل ہیں جن میں الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی، علامہ محمد اقبال، میرا جی، ن م راشد، مجید امجد، منیر نیازی، انجم رومانی، آفتاب اقبال شمیم، افتخار عارف، خورشید رضوی، احمد جاوید، جلیل عالی، ایوب خاور، غلام حسین ساجد، نصیر احمد ناصر، سراج منیر، جاوید انور، انوار فطرت، ضیا الحسن، حمیدہ شاہین اور دوسرے اہم شاعروں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخری دو مضامین ہیر وارث شاہ کے نفسیاتی مطالعے اور ہیر کے پنجاب کی روح سے مکالمے پر مشتمل ہیں۔ یوں یہ کتاب محض ہمعصر شاعری کے مطالعے سے اپنا دائرہ کار بڑھا لیتی ہے۔

4۔ ہم عصر اردو تنقید:

اردو کے تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ امجد طفیل اردو تنقید کی تنقید کو بھی اپنا موضوع بناتے رہے ہیں۔ ان مضامین کو بھی تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں اردو تنقید کا ہند اسلامی دبستان، پاکستانی اردو تنقید اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، اردو میں نفسیاتی تنقید کا جائزہ، 1857 ء کی جنگ آزادی اور روشن خیال طبقہ، فن اور عصری تقاضے، عہد جدید اور اردو ادب کا زوال، ادب اور پرامن معاشرہ، اسلامی نظریہ ادب کی بحث، تصور خدا کی بحث، پاکستان کے اسلامی یا سکولر تشخص کی بحث جیسے اہم موضوعات پر مقالات ملتے ہیں۔ کتاب کے دوسرے حصے میں سرسید احمد خان، پروفیسر کرار حسین، سلیم احمد، ریاض احمد، پروفیسر فتح محمد ملک، سراج منیر، ڈاکٹر تحسین فراقی، شمیم حنفی، مظفر علی سید، عابد حسن منٹو، محمود مرزا اور مبارک احمد کے فکر و فن کے انفرادی مطالعے ملتے ہیں۔ کتاب کا تیسرا حصہ محمد حسن عسکری کے گوشے پر مشتمل ہے۔

5۔ ہم عصر عالمی ادب:

امجد طفیل کی ایک کتاب ”ادب کا عالمی دریچہ“ 2011 ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب قابل قدر اضافوں کے ساتھ اس نئے نام شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کو خود مصنف نے چار حصوں میں مختلف عنوانات دے کر تقسیم کر دیا ہے۔ پہلا حصے کا عنوان ”مباحث“ ہے اور اس حصے کے مباحث کچھ یوں ہیں : تہذیب و ثقافت کو درپیش خطرات، ثقافت اور استعمار، برصغیر میں ثقافتی استعماریت، تہذیبوں کا تصادم:حقیقت یا افسانہ، جدید ادبی تنقیدی نظریے اور فن، مابعد جدیدیت:دراز خالی ہے، مابعد جدیدیت :نئی نو آبادیت اور قومی شناخت، نو آبادیاتی ادب کی تفہیم نو، ادبی متن کی تفہیم و تعبیر، ادب اور مزاحمت نئے عالمی تناظر میں، بدلتی دنیا میں ادب کا کردار، حقیقت نگاری کے بدلتے تصورات، نفسیاتی ادب اور تنقید اور اسٹیفن ہاکنگ الحاد کا متکلم۔

کتاب کے دوسرا حصہ ”تخلیق کار“ کے عنوان سے ہے اور اس کی ذیل میں مارکیز، میلان کنڈیرا، پائلو کولہو، ارون دھتی رائے اور امبرٹو ایکو کے فن کے انفرادی مطالعے ملتے ہیں۔ کتاب کا تیسرا حصہ ”نقاد“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ اس حصے میں ایڈورڈ سعید، ٹیری ایگلٹن، میلان کنڈیرا، وائیکو ٹسکی، اور امبرایکو اور بعد کے تنقیدی تصورات کو مباحث کا حصہ ہوئے ہیں۔ ”مطالعہ کتب“ کے عنوان سے کتاب کے چوتھے حصے میں لگ بھگ عالمی ادب کی تیس کتب کا مطالعہ بہم کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے اس تنقیدی سرمائے کے عقب میں وہ تخلیق کار امجد طفیل موجود ہے جس نے افسانہ نگار کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رکھی ہے اور جس کے دو افسانوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور تیسرا اشاعت کے لیے منتظر ہے۔ جو ماہر نفسیات ہیں اور نفسیات کے علم پر بھی متعدد کتب کے مصنف و مرتب ہیں۔ اسی مضمون میں انہوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ عمر بھر نفسیات پڑھنے پڑھانے والے ڈاکٹر امجد طفیل نے ادب میں نام کمایا اور اپنی تحریروں میں اس انسان کی قامت کو نشان زد کیا ہے جو اپنی روحانی واردات، تہذیبی روایات اور ثقافتی مظاہر کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہیں سے امجد طفیل کا تصور انسان وضع ہوتا ہے۔ جی، اپنے ہاں کا، اس خطے کا انسان، جسے جدید مغربی تھیوریوں کا دم بھرنے والی مرعوب ذہنیتیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امجد طفیل کی تحریریں مصر ہیں کہ اسے اپنے تہذیبی تناظر ہی میں سمجھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اردو تنقید پر وہ سمت کھولنے کی کوشش کی ہے جس سے اس خطے کے تخلیقی وجود کو درست تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق جب تک اس خطے کا ہند اسلامی تناظر میں مطالعہ نہیں کیا جائے گا درست نتائج اخذ کرنا ممکن نہ رہے گا۔ ان کتب کے مطالعے سے آپ کی ملاقات ایسی ہی تنقیدی تخلیقی شخصیت سے ہوتی ہے جو اسی تناظر میں رہ کر مرتب ہوئی ہے ؛ کچھ یوں کہ ان کا رد استعمار رویہ بہت قوی صورت میں سامنے آتا ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ اردو ادب کے مطالعات جب تک ہند اسلامی تہذیبی تناظر میں نہ ہوں گے ہم ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔ امجد طفیل جدید مغربی تھیوریوں کے سفاک ناقد کے طور سامنے آئے ہیں تو اس کا سب ان کی اسی پس منظر میں ہونے والی ذہنی و فکری تشکیل ہے۔ اپنے ایک مضمون ”اردو تنقید کا ہند اسلامی تناظر“ میں وہ اپنے قاری کو متوجہ کرتے ملتے ہیں کہ جب تک اس تناظر میں اردو ادب کی تنقیدی تشکیل جدید نہ ہوگی تب تک مختلف تھیوریوں اور ازموں کے مباحث کو غیر فطری انداز میں مقبول بنا کر گرد اڑائی جا رہے گی۔ اور اس پر پانی چھڑک کر اسے بٹھایا نہ جا سکے گا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو حسن عسکری، پروفیسر کرار حسین، سلیم احمد، انتظار حسین، پروفیسر فتح محمد ملک، سراج منیر اور تحسین فراقی جیسے ناقدین کی فکر کے قرب میں محسوس کرتے ہیں اور اردو تنقید میں تہذیبی اور روحانی رخ سے مطالعات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ اس قرب کے باوصف تنقید کی طرف آتے ہوئے ان کا رویہ ایک تخلیقی آدمی کا ہی رہتا ہے جو انہیں الگ شناخت عطا کرتا ہے۔

آپ اس تخلیقی آدمی کو ہم عصر اردو فکشن اور شاعری کے تنقیدی مطالعات میں بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً جب وہ اردو ناول پر بات کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں تو افسانے کی افسانویت، شاعری کی شعریت کی طرح ناول کی ناولیت کو نشان زد کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی فن پارے کی شعریات کی طرف متوجہ ہونا اور سب سے پہلے اس کی جمالیاتی قدر قائم کرنا ایسے ناقد کے لیے اہم نہیں ہوتا جو متن کی تشکیل کے محض لسانی، سماجی، نظریاتی اور فکری علاقوں کو ہی اہم سمجھتا ہو۔

امجد طفیل کے لیے تخلیق کسی بھی تخلیق کار کا وہ منفرد تخلیقی تجربہ ہے جو اپنی کل کے پیچھے مختلف عوامل کی ایک خاص ترکیب رکھتا ہے۔ یہیں سے ایک لکھنے والا دوسرے لکھنے والے سے مختلف ہوتا ہے اور اسی ترکیب میں بہم ہونے والے عناصر میں کمی بیشی سے وہ اپنی ایک تخلیق کو اپنی ہی کسی دوسری تخلیق سے مختلف کر لیا کرتا ہے۔

امجد طفیل نے اپنے نظری مباحث کو قائم کرنے کے لیے تہذیبی فکر کے ساتھ ساتھ نفسیات کے موضوع پر گہری علمی بصیرت سے بھی کام لیا ہے۔ جدید اردو فکشن پر نفسیات کے دبستانوں کے اثرات کا عنوان پانے والے مضمون میں وہ آپ کو کہتے ملیں گے کہ اردو ادب سے جدید نفسیات کا پہلا معانقہ امراؤ جان ادا والے میر ہادی رسوا سے ہی ہو گیا تھا۔ ان کا موقف ہے کہ نفسیات کو انسان کے خارجی اور باطنی کردار کے سائنسی مطالعے کا نام ہے جب کہ ادب محض سائنسی رویے کا پابند اور اسیر نہیں ہے۔

تخلیقی ادب انسانی نفس کے گہرے اور ہمہ جہت مطالعے سے اسے ممکن بناتا ہے۔ امجد طفیل نے ان مضامین میں صرف اپنے تنقیدی تصورات اور تعصبات کو ہی پیش نہیں کیا، ان کی تشکیل کے پیچھے موجود تخلیقات کے مطالعے سے حوالہ جات بھی درج کر دیے ہیں۔ یوں ان تحریروں کی اثر انگیزی میں اضافہ ہو گیا ہے اور مکالمہ آگے بڑھانے کو ٹھوس بنیادیں بھی فراہم ہو گئی ہیں۔

انسانی نفسیات کی تشکیل پر بات کرتے ہوئے ان کا اصرار رہا ہے کہ انسانی نفس کی بصیرت کے حصول کے لیے ادب کا تفصیلی مطالعہ بہت اہم ہے۔ امجد طفیل کے اس رخ سے وسیع مطالعے کو ان مضامین کے عقب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جس طرح مغربی ناول نگاروں نے فرائید اور ولیم جیمز سے اثر قبول کیا اردو فکشن نے بھی ان سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی نظر میں اردو افسانے میں شعور کی رو کے تحت لکھنے کی پہلی کامیاب کوشش احمد علی کا افسانہ ”مہاوٹوں کی رات“ تھا جو انگارے میں شامل تھا۔

محمد حسن عسکری کی ”پھسلن“ اور ”چائے کی پیالی“ اس باب کی دوسری اولین مگر کامیاب کوششیں ہیں۔ انہوں نے اردو ادب بہ طور خاص اردو فکشن میں فرائیڈ اور ژونگ کی فکر کے اثرات کے مطالعات پیش کیے ہیں۔ جدید نفسیات کے اردو ادب پر اثرات کی بات کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ملیں گے کہ جدید نفسیات کی نادرست تفہیم نے ہمیں اپنے تہذیبی مظاہر کے باب میں معذرت خواہانہ رویہ اپنانے پر اکسایا اور ہم ایک خاص نوعیت کی محدودیت کا شکار ہو گئے ہیں۔

بہ قول ان کے، اس رویے کا اہم نشانہ روحانیت ہوئی ہے۔ ہم نے روحانی اور مذہبی تجربے کو اس نفسیاتی پہلو تک محدود کر کے انسانی زندگی کو محض مادی حوالوں تک پسپا کر دیا ہے۔ تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو فکشن پر نفسیات کے علم کے اثرات بہت گہرے اور نمایاں ہیں اور چند مثالوں کو چھوڑ کر اردو افسانے میں بہ طور خاص اس علم کو خالص تخلیقی سطح پر برتا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فکشن نگار یک رخے انداز میں کسی مکتب فکر سے متاثر ہونے کی بہ جائے عمومی اثرات کو زیادہ قبول کر رہے ہیں۔

ان پانچ کتب میں اردو افسانے کا مطالعہ ہو یا اردو ناول کا، اردو تنقید کی بات ہو یا اردو شاعری اور ادب کا عالمی منظر نامہ، سب کچھ بہت سنجیدگی سے رواں دواں سادہ نثر اور مناسب تخلیقی متون کے حوالہ جات کے ساتھ زیر بحث آیا ہے ؛ یوں کہ ایک خاص رخ سے ادبی تاریخ بھی مرتب ہو گئی ہے۔ یہ مطالعات کسی بکھرے ہوئے، الجھے ہوئے شخص یا مرعوب ذہن کا فکری شاخسانہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک جیتے جاگتے، اپنی تہذیب اور روحانی اقدار سے محبت کرنے والے، اور ہر قسم کی مرعوبیت کو جھٹک کر اپنے تہذیبی اور روحانی اقدار کے مظہر کے طور پر ادبی متون کا مطالعہ کرنے والے شخص کی عطا ہیں۔

آپ امجد طفیل سے بہت سے مقامات پر اختلاف کر سکتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے اوروں سے اختلاف کیا ہے۔ کہیں کہیں آپ کو مختلف تحریری ٹکڑوں کی تکرار بھی ملے گی جو ملتے جلتے مضامین کے مختلف اوقات میں لکھے جانے کے سبب در آئی ہے لیکن مجموعی طور پر ان تحریروں کے پیچھے جو تہذیبی اخلاص، مثبت رویہ اور وابستگی موجود ملتی ہے اسے تسلیم کرتے ہی بنتی ہے۔ میں اسے المیہ ہی کہوں گا کہ نئی اردو ادبی تنقید لگ بھگ چار دہائیوں سے درآمدی علوم سے اخذ کرنے کی بجائے مرعوبیت کے ناغول میں رہ کر اس خطے کے تخلیق کاروں کے تخلیقی عمل اور اردو زبان کی تہذیبی ترکیب میں جادو کا سا عمل ہو جانے والے اعجاز سے کٹ کر رہ گئی ہے۔

امجد طفیل کی تنقیدی کتب کے مطالعے سے مجھے گماں سا ہو چلا ہے کہ اس خطے کی تہذیبی، روحانی و ثقافتی عوامل سے کنی کاٹنے والے ناقدین اپنا قبلہ درست کر کے اردو ادب کے ان امتیازات، تخلیقی اثاثے اور شاندار روایات کو نشان زد کر سکتے ہیں جو اسے دیگر اقوام کے ادب سے مختلف کر کے لائق توجہ بناتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ درآمدی اصطلاحات کی جگالی ان کی درست نادرست تشریح و توضیح اور اس خطے کے تخلیقی مزاج سے اچٹے ہوئے تنقیدی وسیلوں سے شغف رکھنے کی بجائے امجد طفیل کی سی تنقیدی بصیرت سے (کانٹ چھانٹ اور ترمیم و اضافہ کے ساتھ ہی سہی ) کچھ نہ کچھ اخذ کر کے اور ان جیسے تہذیبی اخلاص کو کام میں لاکر اپنی سمت کو درست کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح جس گلاس کو ہم آدھا خالی دیکھ رہے ہیں ممکن ہے وہ آدھا بھرا ہوا نظر آنے لگے اور ہم پر اپنے تخلیقی عمل کا اعتبار اور اعتماد قائم ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جب مرعوبیت سے نکلیں گے تو عالمی سطح پر اپنی تخلیقات کا خاص مزاج بھی متعارف کروانے کی طرف متوجہ ہو پائیں گے۔

(ڈاکٹر امجد طفیل کی پانچ تنقیدی کتب کی تقریب منعقدہ اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں پڑھی گئی تحریر)

۔

Facebook Comments HS