اور تار پھر کٹ گئی ۔ ۔ ۔
بالا آخر تاریں کٹ گئیں۔
آج کی خبر یہ ہے کہ، بحیرہ احمر میں زیر سمندر انٹرنیٹ کی تار کٹنے سے دنیا کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ لوگوں انٹرنیٹ کی رفتار میں خلل کے باعث باہمی رابطے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ایسی صورت میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں نے متبادل انتظامات کر رکھے ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ کی دنیا جیتی جاگتی رواں دواں رہتی ہے۔ آج بھی کیبل کٹنے کے بعد ایشیاء، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں انٹرنیٹ دوسری کیبل سے فراہم کیا جائے گا لیکن جن ممالک میں انٹرنیٹ کو چالو کرنا مقصود نہیں، نہ ہی سوشل میڈیا کو آزادی دینے کی نیت اور ارادہ ہوتا ہے وہاں متبادل ذرائع سے بھی انٹرنیٹ بحال کرنے کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
پوری دنیا کو انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑنے والی زیر سمندر تاریں آج کٹی ہیں لیکن پاکستانیوں کے لئے یہ تاریں ایک ماہ پہ لے 8 فروری کو اس وقت کٹ گئی تھیں جب ملک بھر میں الیکشن کے روز انٹرنیٹ غائب رہا، ٹویٹر خاموش تھا اور سوشل میڈیا ویب سائٹ رینگ رینگ کر چل رہی تھیں۔
انٹرنیٹ کی تار کٹنے سے نقصان کیا ہوتا ہے؟ جن ممالک میں انٹرنیٹ متاثر ہوتا ہے انہیں کس قدر نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کا کیا مطلب لیا جاتا ہے اس پر بات آگے کریں گے۔ فی الوقت خبر کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج بحیرہ احمر میں کٹ جانے والی کیبل سے چار مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کو نقصان ہو گا جن میں سے ایک کمپنی کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے۔ ہانگ کانگ کی ٹیلی کام کمپنی کا کہنا ہے کہ ایشیاء، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں 25 فیصد انٹرنیٹ متاثر ہوا ہے اور صارفین کی دشواری کو کم کرنے کے لیے متبادل تار سے انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ کیبل کو نقصان کیسے پہنچا، وجوہات نہیں بتائی جا سکتیں تاہم کیبلز کی مرمت میں قریبا 1 ماہ سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔
چار کمپنیوں کی یہ کیبلز انٹرنیٹ کی دنیا کی 97 فیصد ٹریفک کنٹرول کرتی ہیں اور ان میں خرابی کے سگنل پچھلے ہفتے سے آنا شروع ہو گئے تھے۔ کیبل کا وہ حصہ جو یمن کے قریب ہے اسے ٹھیک کرنے میں وقت زیادہ لگے گا کیونکہ وہاں یمنی حوثی متحرک ہیں اور نہ صرف غزہ کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ نبردآزما ہیں بلکہ سمندری علاقے میں برطانیہ سمیت کئی ممالک کے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ اس صورتحال میں وہ زیر سمندر موجود انٹرنیٹ کیبل کو ٹھیک کرنا کافی مشکل اور تاخیر والا کام دکھائی دیتا ہے۔ ایک اسرائیلی میڈیا ہاؤس نے تو سیدھا الزام حوثی باغیوں پر دھر دیا ہے لیکن حوثی باغیوں نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔ گزشتہ ہفتے حوثی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حوثی حکومت تمام ٹیلی کام سب میرین کیبلز اور ان کی متعلقہ سروس کو کسی بھی ممکنہ خطرات سے دور رکھنے کی خواہشمند ہے۔ ان کیبلز کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے سہولیات بھی فراہم کرے گی۔ الٹا حوثی حکومت نے اس واقعے کا ذمہ دار برطانوی اور امریکی فوج کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا کا مالی، فوجی اور حکومتی ڈیٹا بھی ان کیبلز سے گزرتا ہے دونوں ممالک کی ایجنسیاں اپنے مخصوص مقاصد کے لئے ان انٹرنیٹ کیبلز کو استعمال کر رہی ہیں اور فون کالز سے لے کر ای میلز کے مواد سے لے کر ویب براؤزنگ ہسٹری اور میٹا ڈیٹا تک ڈیٹا کی وسیع مقدار کو روکنے کے لیے فائبر آپٹک کیبلز کو ٹیپ کرتی ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے زیر سمندر کیبلز کو نقصان پہنچا ہے۔
بحیرہ احمر میں موجود 15 سے زائد انٹرنیٹ کیبلز سے زیادہ تر افریقہ ایشیا یورپ اور بھارت کا خطہ منسلک ہے۔ جہاں کی تمام بڑی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں نے انٹرنیٹ کی سروس متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کیبلز کی خرابی سے کسی بھی ملک کا انٹرنیٹ سے رابطہ منقطع نہیں ہوا، لیکن وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان، پاکستان اور مشرقی افریقہ کے کچھ حصوں میں سروس کو نمایاں طور پر تنزلی کا سامنا ہے اور پاکستان میں جہاں پہلے ہی سوشل میڈیا پر قدغن لگایا جا رہا ہے وہاں یہ خبر مزید مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔ لوگ اس خبر کی آڑ میں ملک بھر میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
کیبلز کٹ جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی شارک کاٹنے یا کسی دوسری واقعے کے باعث انٹرنیٹ کیبلز میں خرابی پیدا ہو چکی ہے۔ 2013 میں اسکندریہ کے قریب تین غوطہ خوروں کی جانب سے جان بوجھ کر ایک زیر سمندر کیبل کاٹنے کی کوشش کی، اس سے کیبل کو کافی نقصان پہنچا اور مصر میں انٹرنیٹ کی رفتار تقریباً 60 فیصد تک گر گئی۔
امریکا کے معروف کاروباری جریدے فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بحیرہ احمر میں موجود انٹرنیٹ کیبلز کو اس وقت نقصان پہنچا جب حوثیوں نے ایک برطانوی مال بردار جہاز کو نشانہ بنا کر اسے غرق کر دیا، اس جہاز کو 18 فروری کو نشانہ بنایا گیا تھا جو سمندر میں ڈوبا تو ممکنہ طور پر اس کے لنگر کی ٹکر سے تاریں متاثر ہو گئی ہوں گی۔ کیبل کٹنے کے واقعات کی روک تھام اور مانیٹرنگ کے لئے ایک ادارہ، انٹرنیشنل کیبل پروٹیکشن کمیٹی بھی موجود ہے جس کا دفتر برطانیہ میں ہے یہ ایک این جی او ہے جو کیبل کٹنے کے واقعات کو گہری نظر سے مانیٹر کرتی ہے اس کے مطابق سال میں کیبل کٹنے کے 150 واقعات پیش آتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات ماہی گیری اور جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ جہازوں کا بھاری بھرکم اور تیز دھار لنگر نیچے کیبلز پر گرتے ہی اسے خاصا نقصان پہنچا دیتا ہے۔
انٹرنیٹ کیبلز کی بندش سے جہاں ملک میں سوشل میڈیا سروسز بند ہو جاتی ہیں وہیں آن لائن کاروباری نظام بھی بے حد متاثر ہوتا ہے دنیا بھر سے رابطے منقطع ہونے سے نجی و سرکاری سطح پر اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ حق آزادی اظہار کا متاثر ہونا الگ موضوع ہے جو ملک جتنا زیادہ آن لائن جڑا ہوا ہے انٹرنیٹ کی بندش سے وہ اتنا ہی متاثر ہوتا ہے لیکن متبادل نظام کی فراہم کے ذریعے سسٹم کو رواں دواں رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے فی الوقت کیبل کٹنے کے تازہ واقعے میں ایشیا، یورپ، اور مشرق وسطیٰ میں انٹرنیٹ کا نظام متاثر ہوا ہے۔ جہاں کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو دنیا سے جوڑے رکھنے، سوشل میڈیا کی روانی متاثر ہونے اور آزادی رائے و آگاہی کو برقرار رکھنے کے لئے متبادل سروسز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔


